Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1258

1258 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ أَمَرَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِنَّ: الْجَمَاعَةُ وَالسَّمْعُ وَالطَّاعَةُ وَالْهِجْرَةُ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ أَوِالْإِيمَانِ مِنْ عُنُقَهُ أَوِ الْإِيمَانِ مِنْ رَأْسِهِ إِلَّا أَنْ يُرَاجِعَ، وَمَنْ دَعَا دَعْوَى جَاهِلِيَّةٍ فَهُوَ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى قَالَ: «وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، تَدَاعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمْ بِهَا الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ»

حضرت ابو سلام ' حضرت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : میں تم کو پانچ چیزوں کاحکم دیتا ہوں جس کامجھے اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے ' (1) جماعت (کو لازم پکڑنے) (2) سننے (3) اطاعت کرنے (4) ہجرت کرنے (5) اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا ' پس جوجماعت سے ایک بالشت پیچھے ہوا ' اس نے اسلام کا یا ایمان کا پٹہ اپنی گردن سے اتار دیا ' یا ایمان اپنے سر سے ' مگر یہ کہ وہ واپس آجائے اور جو جاہلیت والا دعویٰ کرے گا وہ جہنم میں جھونکا جائے گا ۔ عرض کی گئی : یا رسو ل اللہ ! اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے ۔ آپ نے فرمایا : اگرچہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے ' تم اللہ کی ذات کا دعویٰ کرو ' جس نے تمہارا نام مسلمان ' ایمان والے ' اللہ کے بندے رکھا ۔

الْحَارِثِ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1258

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَالْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ · حديث 1259

1259 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اسْتَغْفَرَ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا وَلِلثَّانِي مَرَّةً»

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی صف کے لئے تین مرتبہ بخشش مانگی اور دوسری صف کے لئے ایک مرتبہ ۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1259

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَصَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ · حديث 1260

1260 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ فَقَالَ: لَا يَسْمَعَنَّ هَذَا فَيَصِيرَ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ، فَأَتَيَاهُ فَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، وَلَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ، وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِتَقْتُلُوهُ أَوْ لِتُهْلِكُوهُ، وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُودُ أَنْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ» فَقَبَّلَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ وَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ: «فَمَا يَمْنَعُكُمَا مِنَ اتِّبَاعِي؟» فَقَالَا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا أَنْ لَا يَزَالَ فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخْشَى إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ يَقْتُلَنَا الْيَهُودُ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً: «وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ أَوْ لَا تفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: شَكَّ شُعْبَةُ

حضرت صفوان بن عسال المرادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اہل کتاب کے دو آدمی تھے ' ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہنے لگا : ہمارے ساتھ چلو ! اس نبی کی طرف (جاتے ہیں) ' اس نے کہا : یہ سن نہ لے ورنہ اس کی چار آنکھیں ہو جائیں گی ' پس وہ دونوں آپ کے پاس آئے ' ان دونوں نے واضح نشانیوں کے متعلق آپ سے سوال کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (1) تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ (2) قتل نہ کرو (3) زنا نہ کرو (4) جادو نہ کرو (5) سود نہ کھاؤ (6) پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ (7) جنگ سے نہ بھاگو (8) کسی بے گناہ کو کسی طاقتور کے پاس مت لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کرے یا اس کو ہلاک کرے (9) اور اے یہودیو! تم کو خصوصیت کے ساتھ تلقین ہے کہ تم ہفتہ کے دن کے معاملے میں حد سے تجاوز نہ کرو ' پس ان دونوں نے آپ کے ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیا ' دونوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ نبی ہیں ' آپ نے فرمایا : تم دونوں کو میری اتباع سے کون سی رکاوٹ ہے ؟ دونوں عرض کرنے لگے : بے شک داؤد علیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ ہمیشہ ان کی اولاد میں نبوت رہے اور ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم آپ کی اتباع کریں گے تو یہود ہم کو قتل کر دیں گے ۔ امام ابو داؤد نے ایک مرتبہ کہا کہ تم پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ اور جنگ کے دوران نہ بھاگو۔ ابو داؤد فرماتے ہیں کہ شعبہ کو شک ہے ۔

صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1260

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَصَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ · حديث 1261

1261 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا زِرُّ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ فَقَالَ: أَفَلَا أُبَشِّرُكَ؟ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: وَلَمْ يَقُلْهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ وَرَفَعَ الْحَدِيثَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ»

حضرت زربن حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں صبح کے وقت حضرت صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا ' آپ نے فرمایا : اے ابو ذر ! کیسے آئے ہو ؟ میں نے کہا : علم کی تلاش کے لئے ' فرمایا : کیا میں آپ کو خوشخبری نہ دوں ؟ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ حماد بن سلمہ نے کہا: اس کے بارے ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ حدیث مرفوع ہے کہ فرشتے اس طالب علم کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس اس کے (پاؤں کے ) نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں ۔

أَبُو دَاوُدَ، ← أَفَلَا أُبَشِّرُكَ؟ ← مَا جَاءَ بِكَ يَا زِرُّ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ ← غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1261

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَصَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ · حديث 1262

1262 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَكَّ فِي نَفْسِي مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ شَيْءٌ فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: كُنَّا مَعَ [ص:486] النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفْرًا - أَوْ مُسَافِرِينَ - «فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَيْهِمَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ»

حضرت زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں صبح کو حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا ' میں نے کہا کہ میرے دل میں موزوں پر مسح کرنے کے متعلق کھٹک ہے ' کیا آپ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سنا ہے ؟ (حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) فرمایا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ' تو ہم کو آپ نے تین دن تین راتیں مسح کرنے کا حکم دیا ' بو ل و براز اور سونے پر (یعنی بول و براز کرنے اور سونے پر موزے اتارنے کی ضرورت نہیں) سوائے جنابت کے (غسل کے کہ پھر موزوں کو اتارنا پڑے گا ) ۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1262

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَصَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ · حديث 1263

1263 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهَمَّامٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِصَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهَوَى شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ أَوْ غَزْوٍ فَنَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ فَقَالَ: أَيَا مُحَمَّدُ، أَيَا مُحَمَّدُ، أَيَا مُحَمَّدُ فَقِيلَ لَهُ: وَيْحَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ، فَقَدْ نُهِيتَ عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ، فَمَا زَالَ يُنَادِيهِ هَكَذَا [ص:487] فَأَجَابَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ فَقَالَ: «هَاؤُمْ» قَالَ: أَرَأَيْتَ الْمَرْءَ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»

حضرت زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہدی کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ (حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) فرمایا : ہاں ! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر یا غزوہ میں تھے کہ ایک دیہاتی نے بلند آواز میں پکارا ! یا محمد ! یامحمد ! یامحمد ! اس کو کہا گیا : تیرے لئے بربادی ہو ! اپنی آواز کو پست کر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے ' پس وہ مسلسل بلند آواز سے ہی پکارتا رہا ' تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسے اسی کی زبان میں جواب دیا ' فرمایا : میں یہاں ہو ں' اس نے عرض کی : آپ مجھے بتائیں کہ ایک آدمی کسی سے محبت کرتا ہے 'اور اس سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی ' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آدمی جس سے محبت کرتا ہے ' اسی کے ساتھ ہو گا ۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1263

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَصَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ · حديث 1264

1264 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهَمَّامٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: مَا بَرِحَ صَفْوَانُ يُحَدِّثُنِي حَتَّى ذَكَرَ " بَابَ التَّوْبَةِ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَرْضُهُ أَرْبَعُونَ عَامًا أَوْ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ عَامًا لَا يَزَالُ مَفْتُوحًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ وَذَلِكَ قَوْلُهُ {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [ص:488][الأنعام: 158] "

حضرت زر بن حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے حدیثیں بیان کرتے رہے حتیٰ کہ آپ نے توبہ کے دروازے کے متعلق ذکر کیا ' فرمایا : توبہ کے دروازہ کی چوڑائی مغرب کی جانب چالیس سال کی مسافت جتنی ہے ' اس کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا رہے گا ' حتیٰ کہ سورج اس طرف (یعنی مغرب ) سے طلوع ہو اور یہی مطلب اللہ کے اس ارشاد کا ہے : " جس دن آپ کے رب کی نشانیاں آئیں گی ' اس دن اس کا ایمان لافائدہ نہیں دی گا " (الانعام : 158) ۔

مَا بَرِحَ صَفْوَانُ يُحَدِّثُنِي حَتَّى ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1264

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبَّادُ بْنُ شُرَحْبِيلَ · حديث 1265

1265 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ أَصَابَنِي جُوعٌ شَدِيدٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَأَخَذْتُ سُنْبُلًا فَأَكَلْتُ مِنْهُ وَجَعَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ مَا فِي ثَوْبِي قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ سَاغِبًا» فَأَمَرَ لِي بِنِصْفِ وَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ

حضرت عباد بن شرحبیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا اور مجھے سخت بھوک لگی ہوئی تھی ' سو میں ایک باغ میں داخل ہوا تو میں نے ایک خوشہ لیا ' اس سے کھایا اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا ' پس باغ کا مالک آیا تو اس نے مجھے مارا اور جو میرے کپڑے میں تھا وہ بھی لے لیا ' سو ہم دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ' اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا ' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :تو نے اس کو سکھایا کیوں نہیں ! جب کہ یہ جاہل تھا اور نہ تو نے اس کو کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا ' پھر آپ نے مجھے نصف وسق جو کے دینے کا حکم فرمایا ۔

عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1265

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ · حديث 1266

1266 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ: لَقَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ فَأَعْطَى قَوْمًا وَمَنَعَ قَوْمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا نُعْطِي قَوْمًا نَخْشَى هَلَعَهُمْ وَجَزَعَهُمْ وَنَكِلُ قَوْمًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْإِيمَانِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ»

حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بات بتائی جو میرے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ' (فرماتے ہیں) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ' آپ نے کچھ لوگوں کو دئیے اور کچھ نہ کو نہ دئیے ' پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہم ایسی قوم کو دیتے ہیں جن سے ہم کو بھوک اور جزع کا ڈر ہوتا ہے ' اور ان کو نہیں دیتے جن کے دل میں ایمان ہوتا ہے ' انہی میں سے عمرو بن تغلب ہے ۔

لَقَدْ ← عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← ابْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1266

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ · حديث 1267

1267 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنَ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ [ص:490] تُقَاتِلُوا قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَكْثُرَ التُّجَّارُ وَيَظْهَرُ الْقَلَمُ»

حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا : قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے لڑو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ' اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے لڑو گے جن کے چہرے انگو ر کی طرح ہوں گے ' اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ تجارت بہت زیادہ ہو گی اور قلم کا ظہور ہو گا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← ابْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1267

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ حَدِيثُ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ · حديث 1268

1268 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أُنَاوِلُهُ الْوَضُوءَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهَ لِمَنْ حَمِدَهُ» وَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»

حضرت ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزارتا تھا ' میں آپ کو رات کے وقت وضو کا پانی دیا کرتا تھا ' سو میں نے رات کے وقت آپ کی آواز سنی ' آپ پڑھ رہے تھے : " سمع اللہ لمن حمدہ " (یعنی سن لی اللہ نے اس شخص کی بات جس نے اس کی حمد کی ) اور میں نے رات کے وقت آپ کو پڑھتے سنا : " الحمد للہ رب العالمین " (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے ) ۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.‏ ← اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ ← بِتُّ عِنْدَ النَّبِيِّ فَكُنْتُ أُنَاوِلُهُ الْوُضُوءَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ ← رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1268

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ حَدِيثُ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ · حديث 1269

1269 - حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: «يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَتَزَوَّجُ؟» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ امْرَأَةً وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْ خِدْمَتِكَ شَيْءٌ، ثُمَّ قَالَ لِي يَوْمًا آخَرَ: «يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَتَزَوَّجُ؟» فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي: وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ أَعْلَمُ بِمَا يُصْلِحُنِي مِنْ أَمْرِ دُنْيَايَ وَآخِرَتِي مِنِّي، وَاللَّهِ لَئِنْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ لَأَقُولَنَّ نَعَمْ فَقَالَ لِي الثَّالِثَةَ: «يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ؟» قَالَ: قُلْتُ: لِيَصْنَعْ رَسُولُ اللَّهِ مَا شَاءَ فَقَالَ: " انْطَلِقْ إِلَى آلِ فُلَانٍ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْ: رَسُولُ اللَّهِ أَرْسَلَنِي يَقْرَأُ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةَ " فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةَ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَا يَرْجِعُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ الْيَوْمَ إِلَّا بِحَاجَتِهِ، قَالَ: فَزَوَّجُونِي وَأَكْرَمُونِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي كَئِيبًا حَزِينًا فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا رَبِيعَةُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْتُ قَوْمًا كِرَامًا فَأَكْرَمُونِي وَزَوَّجُونِي وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَسُوقُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ اجْمَعْ لِي فِي وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ» فَجَمَعَ لِي فِيهَا فَقَالَ: «انْطَلِقْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ» فَأَتَيْتُهُمْ فَقَبِلُوا ذَلِكَ مِنِّي وَفَرِحُوا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي كَئِيبًا فَقَالَ: مَا لَكَ يَا رَبِيعَةُ؟ " قُلْتُ [ص:493]: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْتُ قَوْمًا كِرَامًا فَقَبِلُوا ذَلِكَ مِنِّي وَفَرِحُوا وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أُولِمُ قَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ اجْمَعُوا لَهُ فِي ثَمَنِ كَبْشٍ» فَجَمَعُوا لِي فِي ثَمَنِ كَبْشٍ عَظِيمٍ ثُمَّ قَالَ: " ائْتِ عَائِشَةَ فَقُلْ لَهَا يَقُولُ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ: ادْفَعِي إِلَيْهِ ذَاكَ الطَّعَامَ " فَأَتَيْتُهَا فَقَالَتْ: دُونَكَ الْمِكْتَلَ وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا غَيْرُهُ، قَالَ: فَأَخَذْتُهُ وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «انْطَلِقْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَلْيُصْلَحْ هَذَا عِنْدَهُمْ خُبْزًا وَلْيُنْضَجْ هَذَا عِنْدَهُمْ لَحْمًا» فَأَتَيْتُهُمْ بِهِ فَقَالُوا: أَمَّا الْخُبْزُ فَنَحْنُ نَكْفِيكُمُوهُ وَاكْفُونَا أَنْتُمُ اللَّحْمَ، فَانْطَلَقْتُ بِالْكَبْشِ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِي فَتَعَاوَنَّا عَلَيْهِ فَفَرَغْنَا مِنْهُ وَانْطَلَقْتُ بِهِ فَأَوْلَمْتُ فَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَابَنِي

حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا ' آپ نے ایک دن فرمایا: اے ربیعہ ! تو شادی کیوں نہیں کر تا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میرے پاس کوئی شی ہی نہیں کہ (میں ) عورت کو ٹھہرا سکو ں ' مجھے یہ پسند بھی نہیں ہے کہ مجھے آپ کی خدمت سے کوئی شی مشغول کر دے ۔ پھر مجھے ایک دن فرمایا : اے ربیعہ ! تو شادی کیوں نہیں کر لیتا ؟ میں نے آپ سے پہلی والی بات عرض کی ' کہا کہ پھر میں نے دل میں کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ مجھ سے زیادہ میرے معاملے کو جانتے ہیں جو میرے لیے دنیا اور آخرت کے لحاظ سے بہتر ہے ' اللہ کی قسم ! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تیسری مرتبہ فرمایا : اے ربیعہ ! تو شادی کیوں نہیں کرتا ؟ کہا کہ میں نے عرض کی : رسول اللہ جیسے چاہیں کریں ! آپ نے فرمایا : انصار کے فلاں لوگوں کے پاس چلے جاؤ' ان سے کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا ہے ' آپ کو سلام کہہ رہے تھے اور تمہیں آپ حکم دیتے ہیں کہ تم میری فلاں عورت سے شادی کر دو ۔ سو میں ان کے پاس آیا ' میں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم میری فلاں عورت سے شادی کر دو ! انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے کو خوش آمدید ! اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد آج اپنی ضرورت پوری کر کے واپس جائے گا ۔ سو انہوں نے میری شادی کر دی اور میرا احترام کیا ' پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ' آپ نے مجھے غمگین دیکھا تو آپ نے فرمایا : ربیعہ ! تیری کیا حالت ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسی عزت والی قوم کے پاس آیا ہوں ' انہوں نے میرا احترام کیا اور میری شادی کی اور میرے پاس حق مہر کے لیے پیسے بھی نہیں تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بریدہ الاسلمی! میرے لیے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کو جمع کرو ' پس میرے لیے جمع کیا گیا ' سو میں وہ لے کر ان لوگوں کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے یہ قبول کیا اور بڑے خوش ہوئے ' پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ' آپ نے مجھے غمگین دیکھا تو فرمایا : اے ربیعہ ! کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسی عزت والی قوم کے پاس سے آیا ہوں ' انہوں نے مجھ سے حق مہر قبول کیا اور وہ بہت خوش ہوئے جبکہ میرے پاس ولیمہ کے لیے کوئی شی نہیں ہے آپ نے فرمایا : اے بریدہ ! اس کے لیے ایک بکرے کی قیمت جتنے پیسے جمع کرو ! سو میرے لیے ایک بکرے جتنے پیسے جمع کیے گئے ' پھر مجھ سے فرمایا : عائشہ کے پاس جاؤ ' ان سے کہو کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ہے کہ مجھے وہ غلہ دے دیں ۔ سو میں آپ کے پاس آیا ' آپ فرمانے لگیں : اللہ کی قسم ! ہمارے پاس اس تھیلی کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے ۔ میں نے اس کو پکڑا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا ' آپ نے فرمایا : ان کے پاس لے جا ! تاکہ وہ تیرے لیے دو روٹیاں اور گوشت پکا دیں ۔ سو میں ان کے پاس لے کر آیا و انہوں نے کہا: بہر حال روٹیوں کے بارے تو ہم آپ کی کفایت کریں گے اور تم ہماری گوشت کے معاملے میں کفایت کرو ۔ سو میں وہ بکرا اپنے ساتھیوں کے پاس لے کر آیا ' انہوں نے اس پر ہمارے ساتھ تعاون کیا تو ہم اس سے فارغ ہو گئے اور میں اس کو لے چلا ' پس میں نے ولیمہ کیا ' پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی تو آپ نے میری دعوت قبول فرمائی ۔

قُلْتُ ← كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: «يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَتَزَوَّجُ؟» ← رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1269

chevron_left Previous
1…151617…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter