Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيِّ · حديث 1198

1198 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: بَلَى «فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِغَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ فَأَقْبَلَ بِيَدِهِ وَأَدْبَرَ بِهَا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا» ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عمرو بن یحییٰ انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو کر کے نہ بتاؤں ! ہم نے عرض کی : کیوں نہیں! سو انہوں نے کلی کی اور ایک چلو کے ساتھ تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، پھر تیں مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا،پھر کلائیوں کو دو دو مرتبہ دھویا ،پھر اپنے سر کا مسح کیا۔یوں کہ اپنے ہاتھ کو آگے کیا اور پیچھے کیا ، اور پاؤں کو تین مرتبہ دھویا،پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو ایسا ہی تھا۔

أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ، ← خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1198

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيِّ · حديث 1199

1199 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ رَأَى الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ قَالَ: فَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ: وَجَاءَ عَمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَنَا أَرَى الرُّؤْيَا وَيُؤَذِّنُ بِلَالٌ قَالَ: «فَأَقِمْ أَنْتَ» قَالَ: فَأَقَامَ عَمِّي

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے خواب میں اذان پڑھتے ہوئے فرشتہ کو دیکھا ، پس وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور آپ سے ( اس خواب کا ) تذکرہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا ، اور میرے چچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے خواب دیکھا ہے اور بلال اذان دیتے ہیں ، آپ نے فرمایا : تو اقامت کہہ لیا کر ۔ پس میرے چچا نے اقامت کہی۔

وجاء عمي إلى النبي ← فأذن بلال ← ذَلِكَ لَهُ، ← عمه عبد الله بن زيد أنه رأى الأذان في المنام فأتى النبي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← محمد بن عمرو الواقفي ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1199

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ · حديث 1200

1200 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ [ص:427]، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطِّيَرَةِ فَقَالَ: «هُوَ شَيْءٌ تَجِدُونَهُ فِي صُدُورِكُمْ فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَأْتُوهُمُ»

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فال کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو تم اپنے دلوں میں پاتے ہو، سو یہ تم کو ہر گز ( اپنے کاموں سے ) نہ روکے ، میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کچھ لوگ کہانوں کے پاس جاتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جایا کرو۔

الطِّيَرَةِ فَقَالَ: «هُوَ شَيْءٌ تَجِدُونَهُ فِي صُدُورِكُمْ فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ» قُلْتُ: ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ [ص:427]، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1200

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ · حديث 1201

1201 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ، مَا لِيَ أَرَاكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ يُصَمِّتُونِي فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ فَبِأَبِي وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحَدًا أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَكِنَّهُ قَالَ لِي: «إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ الصَّلَاةُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ» أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ تَرْعَى [ص:428] بَيْنَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فِيهَا جَارِيَةٌ لِي فَاطَّلَعْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ وَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ مِنْهَا بِشَاةٍ وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ فَرَفَعْتُ يَدِي فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: «ادْعُهَا» فَدَعَوْتُهَا قَالَ: فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ اللَّهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِينَا قَوْمًا يَخُطُّونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ» قُلْتُ: إِنَّ فِينَا قَوْمًا يَتَطَيَّرُونَ قَالَ: «هُوَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ وَلَكِنْ لَا يَصُدَّنَّهُمُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِينَا قَوْمًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا تَأْتُوهُمْ»

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، تو میرے پہلو والے آدمی کو چھینک آئی ، میں نے کہا: یرحمک اللہ ! تو لوگ مجھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگے، میں نے کہا : اس کی ماں روئے ! تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو؟ اور میں نماز پڑھ رہا ہوں، پس وہ لوگ مجھے خاموش کروانےکے لیے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے ، سو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد بھی ایسا اچھا استاذ نہیں دیکھا ، اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے نہ تو جھڑکا نہ گالی دی اور نہ مجھے مارا، لیکن مجھ سے یہ فرمایا: یہ نماز ہے اس میں لوگوں والی کلام نہیں ہے، یہ نماز صرف تسبیح و تحمید اور قرآن کی قراء کانام ہے، یا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔(فرماتے ہیں : ) اور میرے پاس بکریاں تھیں ، ان بکریوں کو میری لونڈی احد اور جونیہ کے درمیان چرایا کرتی تھی، ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ ایک بھیڑیا میری بکری لے گیا ، اور میں بھی انسان تھا سو مجھے غصہ آیا جس طرح دوسرے لوگوں کو غصہ آتا ہے، تو میں نے اس کے میںہ پر تھبڑ مار دیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ، تو میں نے آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات پر مجھ سے سخت ناراض ہوئے میں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا میں اس کو آزاد نہ کردوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو بلاؤ ، سو میں نے اسے بلوایا، کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ کہاں ہے؟ اس لونڈی نے کہا: آسمان میں ، پھر آپ نے فرمایا: میں کون ہوں ؟ اس لونڈی نے کہا: آپ اللہ کے رسول اہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کردے یہ تو مؤمیںہ ہے۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری قوم خط کھینچتی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پہلے انبیاء میں سے ایک نبی بھی خط کھینچتے تھے، سو جس کا خط ان کے موافق ہوگیا وہ درست ہے۔میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بے شک ہم میں کچھ لوگ وہ ہیں جو فال نکالتے ہیں، آپ نے فرمایا: وہ ایسی چیز ہے جو لوگ اپنے سینوں میں پاتے ہیں ، لیکن وہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکیں، میں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہماری قوم میں کچھ لوگ کہانوں کے پاس جاتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جایا کرو!

مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1201

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَسَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1202

1202 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَهُ أَلَا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ وَبِالْيُمْنَى ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَعْنِي مَكْتُوبٌ: ك ف ر، وَيَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا [ص:430] جَنَّةٌ وَأُخْرَى نَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ لِلنَّاسِ: أَلَسْتُ رَبَّكُمْ أُحْيِي وَأُمِيتُ؟ وَمَعَهُ نَبِيَّانِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ إِنِّي لَأَعْرِفُ اسْمَهُمَا وَاسْمَ آبَائِهِمَا لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُمَا سَمَّيْتُهُمَا، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِهِ فَيَقُولُ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أُحْيِي وَأُمِيتُ؟ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: كَذَبْتَ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ وَيَقُولُ الْآخَرُ: صَدَقْتَ وَيَسْمَعُهُ النَّاسُ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَيَقُولُ: هَذِهِ قَرْيَةُ ذَاكَ الرَّجُلِ فَلَا يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَدْخُلَهَا ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكَهُ اللَّهُ عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقٍ "

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو خطبہ دیا تو فرمایا: کوئی نبی ایسانہیں جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈارایا ہو(میں بھی اسی طرح اپنی امت کو ڈراتا ہوں) سنو! وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا، اس کا دایاں ناخن سخت ہوگا، اس کی دو انکھوں کے درمیاں ک،ف،ر ( کافر) لکھا ہوگا، اور وہ دو وادیاں لے کر نکلے گا ، ان میں سے ایک جنت ہوگی اور دوسری دوزخ ، جس کو وہ دوزخ کہے گا وہ جنت ہوگی اور جس کو جنت کہے گا وہ دوزخ ہوگی۔دجال لوگوں کو کہے گا: کیا میں تمہارارب نہیں ہوں ، میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں ؟ اور اس کے ساتھ انبیاء میں سے دو نبی ہوں گے ، میں ان دونوں کے ناموں کو جانتا ہوں ، اگر میں چاہو تو ان دونوں کے نام لوں ، ان میں سے ایک اس کے دائیں طرف ہوگا اور دوسرا اس کےبائیں طرف ہوگا۔ وہ کہے گا: کیا تمہارا رب نہیں ہوں ، میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، ان میں سے ایک کہے گا : تو جھوٹا ہے، لوگوں میں سے اس کی کوئی بات نہیں سنے گا مگر اسکا ساتھی ، اور دوسرا کہے گا: تو نے سچ کہا، اور لوگ اس کی بات سنیں گے، یہ آزمائش کاباعث ہوگا۔ پھر وہ چلے گا حتیٰ کہ مدینہ میںورہ آئے گا، پس وہ کہے گا : اس بستی میں اس آدمی کے لیے اجازت نہیں ہے کہ یہ اس میں داخل ہو، پھر وہ چلے گا حتیٰ کہ ملک شام آئے گا، یہاں(وادی ) عقبہ افیق کے پاس اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کرے گا۔

خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← الحَشرجُ بنُ نُباتةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1202

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَسَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1203

1203 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَفِينَةُ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ يَكُونُ مُلْكٌ» [ص:431] ثُمَّ قَالَ سَفِينَةُ: أَمْسِكْ، خِلَافَةُ أَبِي بَكْرٍ وَخِلَافَةُ عُمَرَ ثِنْتَا عَشْرَةَ سَنَةً وَسِتَّةُ أَشْهُرٍ وَخِلَافَةُ عُثْمَانَ ثِنْتَا عَشْرَةَ سَنَةً وَسِتَّةُ أَشْهُرٍ ثُمَّ خِلَافَةُ عَلِيٍّ تَكْمِلَةُ الثَّلَاثِينَ قُلْتُ: فَمُعَاوِيَةُ؟ قَالَ: كَانَ أَوَّلَ الْمُلُوكِ

حضرت سعید بن جمہان فرماتے ہیں کہ مجھےحضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو خطبہ دیا ، تو ارشاد فرمایا: خلافت میری امت میں تیس سال ہوگی ، پھر بادشاہت ہوگی۔پھر حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھہر جا ! حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال چھ ماہ تک رہی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال تک رہی ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ تک خلافت تیس سال مکمل ہوگئی ۔ ( سعید بن جمہان فرماتے ہیں کہ )میں نے کہا : تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ( کی خلافت ) ۔تو حضرت سفینہ نے کہا : وہ پہلے بادشاہ ہیں ۔

كَانَ أَوَّلُ الْمُلُوكِ ← سَفِينَةُ: أَمْسِكْ، خِلَافَةُ أَبِي بَكْرٍ وَخِلَافَةُ عُمَرَ ثِنْتَا عَشْرَةَ ← «الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ ← خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← سَفِينَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← الحَشرجُ بنُ نُباتةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1203

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَحَدِيثُ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيِّ · حديث 1204

1204 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسٍ قَالَ: قَدِمْنَا وَفْدَ ثَقِيفٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ الْأَحْلَافِيُّونَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَأَنْزَلَ الْمَالِكِيِّينَ قُبَّتَهُ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فَيُحَدِّثُنَا بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حَتَّى يُرَاوِحَ بَيْنَ قَدَمَيْهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَكَانَ أَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا اشْتِكَاءَ قُرَيْشٍ يَقُولُ: «كُنَّا بِمَكَّةَ مُسْتَذَلِّينَ مُسْتَضْعَفِينَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ انْتَصَفْنَا مِنَ الْقَوْمِ فَكَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ عَلَيْنَا وَلَنَا» فَاحْتَبَسَ عَنَّا لَيْلَةً عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ ثُمَّ أَتَانَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْتَبَسْتَ عَنَّا اللَّيْلَةَ [ص:433] عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كُنْتَ تَأْتِينَا فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَخْرُجَ حَتَّى أَقْرَأَهُ» أَوْ قَالَ: «أَقْضِيَهُ» قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا سَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَحْزَابِ الْقُرْآنِ كَيْفَ تُحَزِّبُونَهُ؟ فَقَالُوا: ثَلَاثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ

حضرت عثمان بن عبداللہ بن اوس بن حذیفہ ثقفی اپنے دادا حضرت اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم وفد ثقیف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، احلافیون حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور مالکین اپنے قبہ میں ٹھہرے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس عشاء کے بعد آئے ، سو ہم سے گفتگو فرمائی ، حتیٰ کہ آپ کے قد مین مبارک کے درمیان لمبے قیام کی وجہ سے ورم پڑے ہوئے تھے، آپ ہم کو وہ سناتے جو قریش نے آپ کے ساتھ سلوک کیا تھااور فرماتے ،ہم مکہ میں گھٹیا اور کمزور سمجھے جاتے تھے ، پھر جب مدینہ آئے تو لوگ دو حصوں میں بٹ گئے،پس جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا، ایک رات آپ اس وقت دیر سے آئے جس وقت پر پہلے آتے تھے، پھر جب ہمارے پاس آئے تو ہم نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آج آپ اس وقت سے دیر سے آئے ہیں جس وقت پر پہلے آپ ہمارے پاس آتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کچھ قراء ۃ القرآن کا کچھ حصہ رہ گیا تھا، میں نے پسند کیا کہ اس حصہ کو پڑھے بغیر نہ نکلوں ، یا فرمایا کہ اسے پورا کر لوں ، پھر جب صبح ہوئی تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت کے حصہ کے متعلق پوچھا کہ قرآن کی تلاوت کے کتنے حصے ہوتے ہیں؟ تو صحابہ نے بتایا:تین ( سورہ فاتحہ ، البقرہ ، آل عمران ، النساء ) و پانچ ( مائدہ سے سورۃ توبہ تک ) سات ( سورۃ یونس سے سورۃ نمل تک ) نو ( بنی اسرائیل سے سورۃ فرقان تک )گیارہ ) سورہ شعراء سے لے کر سورہ یٰسین تک اور والصافات سے ہجرت تک ) آخری حزب مفصل تک۔

جَدِّهِ أَوْسٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيُّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1204

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَحَدِيثُ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيِّ · حديث 1205

1205 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ أَوْسٍ، وَكَانَ أَوْسٌ جَدَّهُ قَالَ: أَشَارَ إِلَيَّ جَدِّي أَنْ أُنَاوِلَهُ نَعْلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَنَاوَلْتُهُ فَلَبِسَهُمَا وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ [ص:434] اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ»

حضرت ابن اوس سے روایت ہے اور حضر ت اوس رضی اللہ عنہ ان کے دادا تھے، کہتے ہیں کہ ان کے دادا نے ان کی طرف اشارہ کیا اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ مجھے جوتے دیں ، تو میں نے ان کو دئیے ، انہوں نے دونوں جوتو ں کا پہنا نما ز کی حالت میں ، پس جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نعلین مبارک میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

ابْنِ أَوْسٍ، وَكَانَ أَوْسٌ جَدَّهُ ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1205

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَحَدِيثُ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيِّ · حديث 1206

1206 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، وَكَانَ فِي الْوَفْدِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ وَمَا مِنَ الْقَوْمِ أَحَدٌ إِلَّا نَائِمٌ غَيْرِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَقَالَ: «اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ» ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " فَإِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوهَا فَقَدْ مَنَعُوا [ص:435] دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ - أَوْ قَالَ: قَدْ مُنِعُوا - إِلَّا بِحَقِّهَا "

حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اور وفد میں شریک تھے ، کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک قبہ میں اور قرم میں میرے علاوہ کوئی سویا ہوا نہیں تھا ، تو ایک آدمی آیا ، اس نے آپ سے آہستہ گفتگو کی ، فرمایا: جا اس کو قتل کردے! پھر اس کو بلوایا، فرمایا: کیا وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے،کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو اس نے کہا کہ جی ہاں ! آپ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہےکہ میں لوگوں سے جہاد کروں ،یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، پس جب وہ اس کی گواہی دیں تو انہوں نے اپنے خون اور مال بچا لیے یا فرمایا: وہ میںع کر دئیے گئے مگر حق کے ساتھ۔

أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، وَكَانَ فِي الْوَفْدِ ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1206

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَحَدِيثُ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيِّ · حديث 1207

1207 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا» قُلْتُ: مَا اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا؟ قَالَ: صَبَّ عَلَى يَدِهِ ثَلَاثًا

حضرت ابن اوس رضی اللہ عنہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے تین مرتبہ استوکف کیا۔(راوی حدیث بیان فرماتے ہیں ) کہ میں نے پوچھا : استوکف تین مرتبہ کرنے کا کیا مطلب ؟ فرمایا: آپ نے ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالا۔

صَبَّ عَلَى يَدِهِ ثَلَاثًا ← «رَأَيْتُ النَّبِيَّ اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا» قُلْتُ: مَا اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا؟ ← جَدِّهِ، ← ابْنِ أَوْسٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1207

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَحَدِيثُ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيِّ · حديث 1208

1208 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ [ص:436]: «قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ نِصْفَ شَهْرٍ فَرَأَيْتُهُ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ»

حضرت اوس ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، پس ہم ؟آپ کے پاس پندرہ دن ٹھہرے ، سو میں نے آپ کو دائیں اور بائیں تھوکتے ہوئے دیکھا۔

يَسَارِهِ‏.‏ ← یَّمِیْنِہٖ ← «قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ نِصْفَ شَهْرٍ فَرَأَيْتُهُ يَنْفَتِلُ ← أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ المُغِيرَةَ الطَّائِفِيِّ ← عُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← قَيْسٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1208

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَحَدِيثُ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيِّ · حديث 1209

1209 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ»

حضرت اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا۔

أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1209

chevron_left Previous
1…101112…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter