Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1000

1000 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، سَمِعَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ»

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺکو فرماتے سنا: ہاتھ نہیں کاٹا جاۓ گاپھل اوراس سے زیادہ میں ۔

«لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ» ← النَّبِيِّ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Hadith 1000

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1001

1001 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ»

حضرت رافع بن خد یح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبح کی نماز خوب روشنی میں پڑھا کرو کیونکہ اس میں ثواب زیادہ ہے ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1001

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1002

1002 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ»

حضرت رافع (بن خدیج )رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جوکسی قوم کی زمین کو آ باد کرے‘ ان کی اجازت کے بغیر‘ تو اس کے لیے کھیتی سے کوئی شی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے اس کا خرچ ہوگا۔

رَافِعٍ ← عَطَاءٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1002

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1003

1003 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرَيْرِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ: «أَسْفِرْ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يَرَى الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ»

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: صبح کی نماز خوب روشن کر کے پڑھؤ ‘یہاں تک کہ لوگوں کو ان کے تیرگر نے کی جگہ معلوم ہو جاۓ ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عبد الرحمن بن هرير بن رافع بن خديج، ← أبو إبراهيم، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1003

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1004

1004 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ أَصَابَهُ سَهْمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا رَافِعُ إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ، وَأَشْهَدُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ» فَفَعَلَ

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو رسول اللہ ﷺکے ساتھ کسی جنگ میں حصہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اے رافع ! اگر تو چا ہے تو میں تیرا حصہ نکال دوں اور قطبہ چھوڑ دوں‘ میں تیرے لیے قیامت کے دن تیرے شہید ہونے کی گواہی دوں گا‘ پس انہوں (حضرت رافع )نے ایسے ہی کیا۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ أَصَابَهُ سَهْمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ ← جَدِّي، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْأَنْصَارِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1004

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1005

1005 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَانَ لَا يُحَدِّثُ قَدَرِيًّا وَلَا صَاحِبَ بِدْعَةٍ يَعْرِفُهُ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ [ص:268] وَقَدْ جَاعَ الْقَوْمُ فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا فَانْتَهَى إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نُصِبَتِ الْقُدُورُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ قَالَ: فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهُ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا»

امام ابوداؤ دفرماتے ہیں کہ زائدہ بن قدامہ الثقفی نہ قدریہ سے بیان کرتے ہیں نہ صاحب بدعتی سے‘ جس کے متعلق آپ کو معلوم ہوتا تھا۔ حضرت عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خد یج اپنے دادا رافع سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کے ساتھ ذی الحلیفہ میں مقام تہامہ پر تھے‘صحابہ کرام کو بھوک لگی ‘ان کو اونٹ اور بکریاں ملیں ۔ حضورﷺ ان کے پاس پہنچے اس حالت میں کہ ہانڈیاں رکھی گئی تھیں‘ آپ ﷺ نے ہانڈیوں کو انڈیلنے کا حکم دیا‘ ان کو بہا دیا گیا پھر آپ نے ان میں سے دس افراد کے درمیان ایک بکری دی ایک اونٹ کے بدلے۔ قوم سے ایک اونٹ بھاگ گیا‘ قوم کے پاس ایک سست گھوڑا تھا‘ ایک آدمی نے اس اونٹ کو پیچھے سے تیر مارا‘ وہ اونٹ گر گیا آپ ﷺ نے فرمایا: یہاونٹ وحشی ہوتے ہیں جس طرح دوسرے جانور وحشی ہوتے ہیں جوکوئی جانورتم سےقابونہ آۓ ‘اس کے ساتھ ایسے ہی کیا کرو۔

جده رافع ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ، ← قَدَرِيًّا وَلَا صَاحِبَ بِدْعَةٍ يَعْرِفُهُ ← أَبُو دَاوُدَ: وَكَانَ لَا ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيَّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1005

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1006

1006 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ أَمَا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ زَائِدَةُ: تَرَوْنَ، مَا فِي الدُّنْيَا حَدِيثٌ فِي هَذَا الْبَابِ أَحْسَنُ مِنْهُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ وَاللَّهِ مِنْ جِيَادِ الْحَدِيثِ

حضرت رافع (بن خدیج )رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ‘ﷺ کل ہم نے جانوروں کا شکار کرنا‘ ہے‘ ہمارے پاسچھری نہیں ہے‘ کیا ہم بانس کی لکڑی کی نوک سے ذبح کر لیں؟ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو جانور کا خون بہا دے اورجس پر اللہ کا نام لیا جاۓ اس کو کھاؤ سواۓ اس کے جو ناخن یا دانت سے ذبح کیا جاۓ ۔ اور عنقریب اس کے متعلق میں تمہیں بتاؤں گا کہ دانت تو ایک ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ابوداؤد کہتے ہیں: زائدہ کا یہ قول ہے کہ تم دیکھو گے دنیا کی کوئی بھی چیز اس باب میں موجود حدیث سے بڑھ کر خوبصورت نہیں ہے‘ تو ابوداؤد کہنے لگے : اللہ کی قسم ! عمد ہ احادیث میں سے ایک ہے۔

قُلْنَا ← رَافِعٍ ← عَبَايَةَ ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1006

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1007

1007 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ «كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ»

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم اس خبر میں کوئی حرج نہیں خیال کرتے تھے‘ یہاں تک کہ حضرت ابن خدیج رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔

«كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1007

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1008

1008 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الْحَقْلِ» قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِلْحَكَمِ: مَا الْحَقْلُ؟ قَالَ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ: لَمَّا سَمِعَ إِبْرَاهِيمُ هَذَا الْحَدِيثَ كَرِهَ الثُّلُثَ وَالرُّبُعَ وَلَمْ يَرَ بَأْسًا بِكَرْيِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے حقل سے منع فرمایا ۔ امام شعبہ فر ماتے ہیں کہ میں نے حکم سے کہا :حقل کیا ہے؟ فرمایا: تہائی اور چوتھائی ۔ حضرت شعبہ نے فرمایا: امام حکم نے فرمایا کہ جب ابراہیم نے یہ حدیث سنی تو انہوں نے تہائی اور چوتھائی کو ناپسند کیا اور زمین کو سونے و چاندی کے بدلے کراۓ پر دینے میں کوئی حرج نہ سمجھی۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1008

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1009

1009 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ [ص:271] بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ»

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ا نے فرمایا: حجام کی کمائی اور زانیہ عورت کی کمائی اور کتے کی قیمت خبیث ہے۔

رَافِعِ [ص:271] بْنِ خَدِيجٍ، ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1009

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1010

1010 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَالَ: «أَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ وَالنَّاسُ حَيِّزٌ، لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ» قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: كَذَبْتَ وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقُلْتُ: أَمَّا إِنَّ هَذَا لَوْ شَاءَ لَحَدَّثَكَ فَقَالَ رَافِعٌ: صَدَقَ

حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:’’إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ‘‘ تو رسول اللہ ﷺنے اس کو پڑھا یہاں تک کہ آپ نے اس کوختم کر دیا‘ پھر فرمایا: میں اور میرے صحا بہ اور لوگ فتح کے بعد ہجرت نہیں ہے ۔ حضرت ابوسعید فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث مروان کے سامنے بیان کی‘ وہ اس وقت مدینہ شریف کا گورنر تھا‘ تو اس نے کہا: آپ جھوٹ بولتے ہیں‘ اور اس کے پاس حضرت رافع بن خد یجبھی تھے‘ سو میں نے کہا: بہر حال یا گر چاہے تو ضرور تجھےبیان کر یں گے‘ تو حضرت رافع نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1010

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أُسْنِدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ · حديث 1011

1011 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ [ص:272] مَيْسَرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِهَا» وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کی زمین ہو (اگر وہ خود کاشت کاری نہیں کرتا) تو وہ اپنے بھائی کو کاشت کاری کے لیے دے دے اور اس کو کرائے پر نہ دے۔ اس حدیث کو سفیان نے از منصور از مجاہد از اسید بن ظہیر از حضرت رافع بن خد یج روایت کیا۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ [ص:309] مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1011

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter