مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو بَكْرَةَ · حديث 923
923 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرَةَ يُنْتَبَذُ لَهُ فِي جَرٍّ فَقَدِمَ أَبُو بَرْزَةَ مِنْ غَيْبَةٍ كَانَ غَابَهَا فَنَزَلَ بِمَنْزِلِ أَبِي بَكْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ مَنْزِلَهُ فَلَمْ يَجِدْ أَبَا بَكْرَةَ فِي مَنْزِلِهِ فَوَقَفَ عَلَى امْرَأَةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا مَيْسَةُ فَسَأَلَهَا عَنْ أَبِي بَكْرَةَ وَعَنْ حَالِهِ وَنَظَرَ فَأَبْصَرَ الْجَرَّةَ الَّتِي فِيهَا النَّبِيذُ فَقَالَ: مَا فِي هَذِهِ الْجَرَّةُ؟ قَالَتْ: نَبِيذٌ لِأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّكِ جَعَلْتِيهِ فِي سِقَاءٍ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَتْ بِالنَّبِيذِ فَحُوِّلَ فِي سِقَاءٍ ثُمَّ عَلَّقَتْهُ فَجَاءَ أَبُو بَكْرَةَ فَأَخْبَرَتْهُ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَعَنْ قُدُومِهِ ثُمَّ أَبْصَرَ السِّقَاءَ فَقَالَتْ: قَالَ أَبُو بَرْزَةَ: كَذَا وَكَذَا فَحَوَّلْتُ نَبِيذَكَ فِي السِّقَاءِ فَقَالَ: مَا أَنَا بِشَارِبٍ مِنْهُ شَيْئًا آللَّهِ إِنْ جَعَلْتِ الْعَسَلَ فِي جَرٍّ لَيَحْرُمَنَّ عَلَيَّ وَلَئِنْ جَعَلْتِ الْخَمْرَ فِي سِقَاءٍ لَيَحِلَّنَّ لِي إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا الَّذِي نُهِينَا عَنْهُ، «نُهِينَا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ» فَأَمَّا الدُّبَّاءُ فَإِنَّا مَعْشَرَ ثَقِيفٍ بِالطَّائِفِ كُنَّا نَأْخُذُ الدُّبَّاءَ فَنَخْرِطُ فِيهَا عَنَاقِيدَ الْعِنَبِ ثُمَّ نَدْفِنُهَا ثُمَّ نَتْرُكُهَا حَتَّى تَهْدِرَ ثُمَّ تَمُوتَ وَأَمَّا النَّقِيرُ فَإِنَّ أَهْلَ الْيَمَامَةِ كَانُوا يَنْقِرُونَ أَصْلَ النَّخْلَةِ فَيَشْدَخُونَ فِيهِ الرُّطَبَ وَالْبُسْرَ ثُمَّ يَدَعُونَهُ حَتَّى يَهْدِرَ ثُمَّ يَمُوتَ، وَأَمَّا الْحَنْتَمُ فَجِرَارٌ كَانَ يُحْمَلُ إِلَيْنَا فِيهَا الْخَمْرُ وَأَمَّا الْمُزَفَّتُ فَهِيَ هَذِهِ الْأَوْعِيَةُ الَّتِي فِيهَا هَذَا الزِّفْتُ
حضرت عیبیہ بن عبدالرحمٰن بن جوشن کہتے ہیں کہ میرے والد یہ روایت بیان کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ ابوبکرہ کے لیے ایک گھڑے میں نبیذ بنائی جاتی تھی ۔ حضرت ابو ہریرہ اجنبی علاقے سے تشریف لاۓ اور اپنے گھر جانے سے پہلے ابوبکرہ کے گھر میں گئے ‘ لیکن ابو بکرہ کو ان کے گھر میں نہ پایا تو وہ ان کی بیوی جس کا نام میسہ تھا ‘ کھڑے ہو گئے‘ تو ان کی بیوی سے ابوبکر اور ان کی حالت کے متعلق سوال کیا ‘دیکھتے دیکھتے حضرت ابو برز ہکی نظر اس گھڑے پر پڑ گئی جس میں نبیذتھی تو پو چھا: اس گھڑے میں کیا ہے؟ تو کہنے لگی: اس میں ابوبکرہ کیلئے نبیذ ہے تو آپ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ تم نبیذ مشک میں بنایا کرو‘پھر آپ وہاں سے چلے گئے تو میسہ (ابوبکرہ کی بیوی)نبیذ کو مشک میں انڈیلنے کا حکم دیا ‘پھر اسے لٹکا دیا ‘حضرت ابوبکر ہ گھر آۓ تو ان کی زوجہ نے انہیں حضرت ابو برز ہاور ان کے آنے کے متعلق آ گاہ کیا ‘پھر حضرت ابوبکرہ کی نظر مشکیزے پر پڑی تو ان کی بیوی کہنے گی: حضرت ابو برزہ کے کہنے میں نے آپ کی نبیذ کومشکینرے میں ڈال دیا ہے۔ تو حضرت ابو بکرہ کہنے لگے : میں اس سے کچھ بھی نہیں پیوں گا‘ اللہ کی قسم !اگرتم گھڑے میں شہد بھی بنا دوتو وہ بھی میرے لیے یقینا حرام ہو گا اور اگر تو مشکیزے میں شراب بھی بنا دے تو میرے لیے حلال ہو گی ‘تحقیق ہم ان چیزوں کو پہچان چکے ہیں جن سے ہمیں روک دی دیا گیا ہے ہمیں وباء ‘فقر‘ حلتم اور مزمت سے منع کیا گیا۔ بہر حال دباء‘ جبہم طائف میں ثقیف کے گروہ کے ساتھ موجود تھے‘ ہم دباء ییعنی‘ کدو میں انگور کے گچھے کے دانے نکال کر ڈال دیا کرتے تھے پھر ہم اسے زمین میں دفن کر دیتے اوراسے اسی حالت میں چھوڑ دیتے یہاں تک کہ وہ نبیذ جوش میں آتی، تھوڑی دیر بعد اس کا جوش ختم ہو جا تا ۔ نقیر (بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ) اہل یمامہ کھجور کی گٹھلی میں گڑھا بناتے‘یں اس میں تر اور خشک کھجوریں ڈالتے ‘پھر اسے اس حالت میں چھوڑ دیتے یہاں تک کہ وہ جوش مارتی بعد از یں اس کے جوش کا خاتمہ ہو جا تا۔ حفتم ‘یہ وہ گھڑےہیںجو ہماری طرف لاۓ جاتے تھے اور ان میں شراب ہوتی تھی ۔ مزفت سے مرادوہ برتن ہیں جن میں تارکول جیسی چیز ہوتی تھی ۔
أَبِي ← عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 923
