مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 668
668 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ بِعَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ وَهُمَا قَاعِدَانِ فِي [ص:25] الْمَسْجِدِ فَقَالَا: يَا أُسَامَةُ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ فَقَالَ: «أَتَدْرِي مَا جَاءَ بِهِمَا؟» قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَدْرِي قَالَ: «لَكِنِّي أَدْرِي مَا جَاءَ بِهِمَا» قَالَ: فَأَذِنَ لَهُمَا فَدَخَلَا فَسَلَّمَا ثُمَّ قَعَدَا فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ»
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا آپ دونوں مسجد میں تشریف فرما تھے دونوں نے مجھے کہا اے اسامہ ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگو میں نے عرض کی یارسول اللہ کے حضرت علی اور حضرت عباس دونوں آپ سے اجازت مانگ رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اسامہ تم جانتے ہو کہ دونوں کس لیے آئے ہیں میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا آپ نے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ دونوں کیوں آئے ہیں کہا بس آپ نے ان دونوں کو اجازت دیں تو وہ داخل ہوئے پھر دونوں نے سلام کیا تو دونوں تشریف فرما ہوئے دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو اپنے خاندان میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
يَا أُسَامَةُ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← مَرَرْتُ بِعَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ وَهُمَا قَاعِدَانِ فِي [ص:25] الْمَسْجِدِ ← أُسَامَةُ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Hadith 668
