Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 550

550 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: «أَلَا إِنَّ طَعَامَ ابْنِ آدَمَ ضُرِبَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا وَإِنْ مَلَّحَهُ وَقَزَّحَهُ» [ص:443] رَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنِ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ عُتَيٍّ، عَنْ أُبَيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خبر دار! ابن آ دم کا کھانا ہی دنیا کی مثال قرار دیا گیا ہے کہ اس میں جتنی مرضی نمک مصالحے ڈال لو‘ ( یہ دیکھو کہ اس کا انجام کیا ہو تا ہے؟ ) اس حدیث کو سفیان نے از یونس از حسن از مفتی از حضرت ابی از نبی اکرمﷺروایت کیا ہے ۔

إِلَّا ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 550

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 551

551 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيٍّ السَّعْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ: " لَمَّا نَزَلَ بِآدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوْتُ قَالَ: أَيْ بَنِيَّ، إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ [ص:444] فَانْطَلَقَ بَنُوهُ يَلْتَمِسُونَ فَرَأَوُا الْمَلَائِكَةَ فَقَالُوا: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا بَنِي آدَمَ؟ فَقَالُوا: اشْتَهَى أَبُونَا مِنْ ثَمَرَةِ الْجَنَّةِ فَانْطَلَقْنَا نَطْلُبُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ارْجِعُوا فَقَدْ أُمِرَ بِقَبْضِ أَبِيكُمْ فَأَقْبَلُوا حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى آدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفْتُهُمْ فَلَصِقَتْ بِآدَمَ فَقَالَ: إِلَيْكِ عَنِّي فَمِنْ قِبَلِكِ أُتِيتُ دَعِينِي وَمَلَائِكَةَ رَبِّي، قَالَ: فَقَبَضُوهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ وَغَسَّلُوهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ وَكَفَّنُوهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ وَحَنَّطُوهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ فِي مَوْتَاكُمْ وَهَذَا سَبِيلُكُمْ "

حضرت حسن بصری بنی اللہ عنہ مرفوعا بیان کر تےہیں کہ جب آدم علیہ السلام پر موت کا وقت قریب آیا‘ آپ نے فرمایا: اے میرے بیٹو! مجھے جنت کے پھل کھانے کی چاہت ہے ‘سوان کے بیٹے ان کے لیے جنت کے پھل کی تلاش میں چل نکلے ‘تو فرشتوں نے ان کو د یکھا ‘کہا: اے آدم کے بیٹو! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا ہمارے والد کو جنت کےپھلوں کی چاہت ہے‘ ہم چلے ہیں تا کہ ہم اس کو تلاش کریں ‘فرشتوں نے کہا واپس جاؤ!تمھارے والد کی موت کا وقت قریب ہے‘ پس وہ داپس لوٹے ۔ حتی کہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آۓ ‘جب حوا علیہا السلام نے فرشتوں کو دیکھا تو انہیں پہچان لیا‘ آپ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ چمٹ گئیں‘ (حضرت آدم نے) کہا: مجھ سے پیچھے ہٹوا تمہاری وجہ سے یہ معاملات پیش آۓ ہیں‘ اور میرے رب کے فرشتوں کو میری روح قبض کرنے دو ‘کہا کہ پس فرشتوں نے ان کی روح قبض کی ‘اور وہ (حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ) دیکھ رہے تھے ‘اور فرشتوں نے ہی حضرت آ دم کوغسل دیا‘ اور آپ کے بیٹے دیکھ رہے تھے‘ پر کفن دیا تو بھی وہ ( آپ کے بیٹے ) دیکھ ر ہے تھے‘ پھران کی نماز پڑ ھائی‘ پھر حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کی طرف متوجہ ہوۓ ‘کہا کہ اے آدم کے بیٹو! تمہاری موت نکلنے میں یہی سنت ہے‘ اور یہی تمہارے لیے (دفن وغسل) کا طریقہ ہے۔

لَمَّا نَزَلَ بِآدَمَ الْمَوْتُ ← الْحَسَنِ، رَفَعَ الْحَدِيثَ ← ابْنُ فَضَالَةَ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُتَىٍّ السَّعْدِىِّ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 551

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 552

552 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُبَيٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟» قُلْتُ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ؟ فَقَالَ لِي: «لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لَلِسَانًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَدِّسُ اللَّهَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ» وَسُفْيَانُ يَقُولُ: عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابومنذر! ( جانتے ہو!) کون سی آیت کتاب اللہ میں سب سے بڑی ہے؟ میں نے عرض کی: آیت الکرسی! تو مجھے آپ ﷺ نے فرمایا اے ابومنذ را تجھے تیراعلم مبارک ہو! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! قیامت کے دن عرش کے پائے کے پاس یہ اللہ کی پاکیز گی بیان کرتی ہوگی ۔ اور سفیان از سعید از ابن سلیل از حضرت عبداللہ بن رباح یہ روایت بیان کرتے ہیں۔

أَبِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 552

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 553

553 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِي وَكَانَ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: وَهُوَ يُحَدِّثُ فِي الْأَشْيَاخِ: مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْجِسْرِ أَوْ أَبْعَدُ قَالَ: قَالَ عَاصِمٌ: فَذَكَرْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ فَقَالَ: إِنْ كَانَ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ فَهُوَ أَبْعَدُ مِنَ الْجِسْرِ فَقَالَ فِي آخِرِ ذَلِكَ: إِنَّمَا كُنْتُ أَحْتَسِبُ الْأَثَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ مَا احْتَسَبْتَ»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے محلے کا ایک آ دمی تھا ‘اس کا گھر شہر سے بہت دور تھا‘ کہا کہ حضرت ابوعثمان نے فرمایا :اور وہ اپنے شیوخ سے بیان کرتے ہیں کہ اتنا دور تھا جتنا تیرے اور پل کے درمیان یا اس سے بھی زیادہ دور ۔ حضرت عاصم کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر محمد بن سیرین سے کیا‘ وہ فرماتے : ان کا گھر مد ینہ سے ایک پل کی مسافت سے بھی زیادہ دور تھا ‘میں ان کے نشانات کے حساب کرتا تھا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: تیرے لیے وہی ہے جو تو نے امید رکھی ۔

رَسُولُ اللَّهِ «لَكَ مَا احْتَسَبْتَ» ← فِي آخِرِ ذَلِكَ: إِنَّمَا كُنْتُ أَحْتَسِبُ الْأَثَرَ ← إِنْ كَانَ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ فَهُوَ أَبْعَدُ مِنَ الْجِسْرِ ← عَاصِمٌ: فَذَكَرْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← فِي الْأَشْيَاخِ: مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْجِسْرِ أَوْ أَبْعَدُ ← أَبُو عُثْمَانَ: وَهُوَ ← كَانَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِي وَكَانَ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 553

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 554

554 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ، يَقُولُ: غَدَوْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ فَقَالَ لِي: أَلْقِهِ فَقُلْتُ: لَا وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ يَعْرِفُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «عَرِّفْهَا حَوْلًا» ، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ: «احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا» ، قَالَ: فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُ سَلَمَةَ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ: لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ [ص:448] حَوْلًا وَاحِدًا فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ فَقُلْتُ لِأَبِي صَادِقٍ: تَعَالَ فَاسْمَعْهُ مِنْهُ

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت زید بن صوحان اور حضرت سلمان بن ربیعہ نکلے‘ پس میں نے ایک درہ پایا‘ تو میں نے اس کو اٹھالیا‘ ان دونوں نے مجھے کہا: اس کو پھینک دو! میں نے کہا: میں اسے نہیں پھینکوں گا‘ بلکہ میں اس کی تشہیر کروں گا ‘اگر اس کا مالک مل گیا تو میں اس کو دے دوں گا ورنہ‘ اس سے خود فائدہ اٹھاؤں گا‘ میں ان دونوں کے لیے انکار کرتا رہا‘ پس جب ہم جہاد سے واپس لوٹے‘ تو میں نے حج کا ارادہ کر لیا‘ جب میں مدینہ منورہ آ یا تو میں حضرت ابی بن کعب سے ملا ‘میں نے اس واقعہ کا ان سے تذکرہ کیا اور ان دونوں کی بات بھی بتائی ۔ تو حضرت ابی نے فرمایا کہ مجھے بھی راستے میں سودینار رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں ملے تھے‘ تو میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں آیا ‘تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا‘ آپ نے فرمایا: ایک سال اس کا اعلان کر‘ میں نے اعلان کیا کوئی نہیں ملا جو اس کا مالک ہو ‘تین مرتبہ اعلان کیا ‘کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ا:س کا لفافہ اور بندھن اچھی طرح یاد کر‘ اگر اس کا مالک آ جاۓ تو اس کو دے دینا در نہ اس سے فائدہ اٹھانا۔ ( حضرت ابی ) فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ حضرت شعبہ فر ماتے ہیں: پس میں حضرت سلمہ سے اس کے بعد ملا‘ تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ایک سال اعلان کیا ‘یاتین سال تک اعلان کیا ‘سو مجھے یہ بات بہت پسند آئی‘ تو میں نے اپنے والد سے کہا یہ سچ ہے‘ آ و ان سے حدیث سنتے ہیں ۔

سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 554

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 555

555 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَسَافَرَ عَامًا فَلَمْ يَعْتَكِفْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ قَابِلٍ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺرمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے ‘ایک سال آپ کسی سفر میں تھے تو اس سال آپ نے اعتکاف نہیں کیا ‘پھر جب آ ئند ہ سال آ یا تو آپ نے بیس دن اعتکاف کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 555

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 556

556 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَصِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» ، قَالُوا: لَا قَالَ: «إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ - يَعْنِي الْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ - أَثْقَلُ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْأَوَّلُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، وَصَلَاتُهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ، وَمَا كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» وَرَوَاهُ زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ہم کو (فجر کی )نماز پڑھائی اور فر مایا: کیا فلاں حاضر ہے؟ عرض کی: نہیں! (یا رسول اللہ!) آپ نے فرمایا: یہ دونوں نمازیں ہیں یعنی‘ عشاء و فجر کی ۔ منافق پر بھاری ہیں‘ اگر تمہیں ان کی فضیلت و ثواب کا پتا چل جاۓ تو ضرور ان میں شرکت کر و‘اگر چہ گھسٹ کر ہی آنا پڑے‘ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے‘ اگر تم اس کی فضیلت کو جان لو تو اس کی طرف سبقت کرو۔ اور ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے ‘اور دو آ دمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا ایک آدمی کے ساتھ پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے‘ اور جو جتنے زیادہ ہوں اتنے اللہ کو محبوب ہوں گے۔ اس حدیث کو زہیر نے از ابی اسحاق از عبدالله بن ابوبصیر از والد خوداز حضرت آبی از نبی کریم ﷺ یہ روایت کیا ۔

لَا۔ ← اَشَاھِدٌ فُلَانٌ؟ ← «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 556

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 557

557 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ قَتَادَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ لِلِقَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ لِقَاءً مِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَقُمْتُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ وَخَرَجَ عُمَرُ مَعَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفَهُمْ غَيْرِي فَنَحَّانِي وَقَامَ فِي مَكَانِي فَمَا عَقَلْتُ صَلَاتِي فَلَمَّا صَلَّى قَالَ لِي: يَا فَتًى لَا يَسُوءُكَ اللَّهُ، فَإِنِّي لَمْ آتِ الَّذِي أَتَيْتُ بِجَهَالَةٍ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: «كُونُوا فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِينِي» ، وَإِنِّي نَظَرْتُ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفْتُهُمْ غَيْرَكَ ثُمَّ حَدَّثَ فَمَا رَأَيْتُ الرِّجَالَ مَتَحَتْ أَعْنَاقَهَا إِلَى شَيْءٍ مُتُوحَهَا إِلَيْهِ [ص:451] قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقْدَةِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَهَا ثَلَاثًا هَلَكُوا وَأَهْلَكُوا، أَمَا إِنِّي لَا آسَى عَلَيْهِمْ وَلَكِنِّي آسَى عَلَى مَنْ يُهْلِكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَإِذَا الرَّجُلُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَهْلُ الْعُقْدَةِ مَا أَهْرَاقَ عَلَيْهِ الدِّمَاءَ وَاغْتَصَبَهُ ثُمَّ اعْتَقَدَهُ

حضرت قیس بن عبادرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ پاک میں حضرت محمدﷺ کے صحابہ کے پاس آیا‘ان صحابہ میں سے مجھے حضرت ابی بن کعب سے ملاقات کرنے کی سب سے زیادہ خواہش تھی‘ سو میں پہلی صف میں کھڑا ہوا‘ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت محمد مﷺکے صحابہ کے ساتھ نکلے ‘تو ایک آدمی آیا اس نے صحابہ کے چہرے کی طرف دیکھا ان کی شناخت کی‘ میرے علاوہ ‘پس مجھے میری جگہ سے ہٹایا اور میری جگہ پر خود کھڑے ہو گئے ‘مجھے اپنی نماز کی سمجھ نہیں تھی ( کہ میں نے کس طرح پڑھی) جب نماز سے فارغ ہوۓ ‘مجھے آپ نے فرمایا: اے نو جوان! اللہ تجھے رسوا نہ کرے ‘میں نے جو کیا ہے کسی لاعلمی کی وجہ سے نہیں کیالیکن رسول اللہ ﷺنے ہم سے فرمایا: میرے قریب والی صف میں کھڑے ہوا کرو‘ اور میں نے صحابہ کے چہرے کی طرف دیکھا‘ تو میں نے تیرے علادہ سب کو پہچان لیا۔ پھر میں نے لوگوں کو دیکھا گردن موڑ کرکسی شے کی طرف متوجہ ہیں ‘کہا کہ پھر میں نے ان کو فرماتے سنا: رب کعبہ کی قسم !اہل عقدہ ہلاک ہو گئے‘ بہر حال مجھے اس کی ہلاکت پر افسوس نہیں ہے ‘تین مرتبہ فرمایا لیکن مجھے افسوس ہے ان لوگوں پر جو ان مسلمانوں کی وجہ سے ہلاک ہوں گے ‘سو میں نے دیکھا تو وہ آ دمی حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے ۔ امام ابو داؤ دفر ماتے ہیں اہل عقدہ کا خون بہانا ‘جبرا ان سے مال لینا اور ان سے سخت رویہ اختیار کر نا درست ہے۔

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← إياس بن قتادة ← أَبُو جَمْرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 557

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 558

558 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بعض اشعار میں حکمت ہوتی ہے ۔

«إنَّ مِن الشِّعرِ حكماً» ← النَّبِيِّ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الرَّحمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ یَغُوث: ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 558

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 559

559 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ قَالَ: «أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ فَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ» ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ [ص:453]: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ: «أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ» ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ قَالَ: «أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ» ، ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا

حضرت ابی بن کعب ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اضاۃ بن غفار کے پاس تھے کہ حضرت جبر یل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آۓ ‘عرض کیا: بے شک اللہ عز وجل آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن ایک حرف پر پڑھائیں۔ فرمایا کہ میں اللہ کی بارگاہ میں ان کی معافات اور بخشش کا سوال کرتا ہوں‘ ہے شک میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ پھر دوسری مرتبہ آپ کے پاس آۓ ‘تو عرض کی کہ بے شک اللہ عز وجل آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں‘ فرمایا کہ میں اللہ تعالی سے اس کی معافات اور اس کی بخشش کا سوال کرتا ہوں‘ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پھر جبریل تیسری مرتبہ آ پ کے پاس آۓ‘ عرض کی کہ بے شک اللہ عز وجل آ پ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن تین حروف پر پڑھائیں‘ فرمایا کہ اللہ تعالی سے اس کی مغفرت و معافات کا سوال کرتا ہوں کہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پھر ( حضرت جبریل ) چوتھی مرتبہ آۓ‘ عرض کی بے شک اللہ تعالی آپ کو علم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کوقر آن سات حرفوں پر پڑھائیں‘ جو جس حرف سے پڑھے اس کوثو اب ملے گا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 559

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter