Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 481

481 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَصْحَابٍ لَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: " لَقَدْ تَرَكَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَتَقَلَّبُ فِي السَّمَاءِ طَيْرٌ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا

حضرت ابوا ( غفاری )رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺچھوڑ گئے اور آسمان پر کوئی اُڑنے والا پرند ہ نہیں جس کے بارے میں آپ نے ہمیں بتایا نہ ہو۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أصحاب له، ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 481

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 482

482 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَصْحَابٍ لَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاتَيْنِ يَنْتَطِحَانِ فَقَالَ لِي: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي فِيمَا يَنْتَطِحَانِ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «وَلَكِنْ رَبُّكَ يَدْرِي وَسَيَقْضِي بَيْنَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابوذ ر ( غفاری )رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو بکریاں دیکھیں جولڑ رہی تھیں ‘آپ نے مجھے فرمایا :اے ابوذر! کیا تم دیکھ رہے ہو کہ یہ کیوں لڑ رہی ہیں ‘میں نے عرض کی :جی نہیں ! آ پ نے فرمایا :لیکن تمہارا رب جانتا ہے اور عنقریب قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ۔

ولكن ربك يدري وسيقضي بينهما يوم القيامة". ← لِي: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي فِيمَا يَنْتَطِحَانِ؟» قُلْتُ: لَا، ← رأى رسول الله شاتين ينتطحان ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أصحاب له، ← منذرا الثوري ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 482

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 483

483 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: " أُقْسِمُ بِاللَّهِ إِنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا} [الحج: 19] فِي رَبِّهِمْ إِلَّا فِي هَؤُلَاءِ النَّفَرِ السِّتَّةِ حَمْزَةَ وَعَلِيٍّ وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَعُتْبَةَ وَشَيْبَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ "

حضرت قیس بن عبادفر ما تے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کوفرماتے سنا کہ میں اللہ کی قسم اُٹھا تا ہوں کہ یہ آیت کریمہ ان چھ کے بارے میں اتری ہے ’’هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا ‘‘(۱) حضرت حمزه (۲) حضرت علی (۳) حضرت عبیدہ بن حارث (۴)عتبہ (۵) شیبہ اور (۲) ولید بن عقبہ۔

أَبَا ذَرٍّ ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← شُعْبَةُ، وقَيْسٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 483

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 484

484 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ: كُنَّا عَلَى بَابِ مُعَاوِيَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَمَعَنَا أَبُو ذَرٍّ فَذَكَرَ أَنَّهُ صَائِمٌ فَلَمَّا دَخَلْنَا وَوُضِعَتِ الْمَوَائِدُ جَعَلَ أَبُو ذَرٍّ يَأْكُلُ قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا أَحْمَرُ مَا لَكَ، أَتُرِيدُ أَنْ تَشْغَلَنِي عَنْ طَعَامِي؟ قُلْتُ: أَلَمْ تُخْبِرْنَا أَنَّكَ صَائِمٌ؟ أَوْ قُلْتَ أَلَمْ تَزْعُمْ أَنَّكَ صَائِمٌ؟ قَالَ: بَلَى ثُمَّ قَالَ لِي: أَقَرَأَتَ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: لَعَلَّكَ قَرَأْتَ الْمُفْرَدَةَ مِنْهُ وَلَمْ تَقْرَأِ الْمُضَاعَفَ {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [الأنعام: 160] ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ - حَسَبْتُهُ قَالَ - صَوْمُ الدَّهْرِ» وَلَكِنْ هَذَا الَّذِي لَا شَكَّ فِيهِ يُذْهِبُ مَغْلَةَ الصَّدْرِ "، قَالَ: قُلْتُ: مَا مَغْلَةُ الصَّدْرِ؟ قَالَ: رِجْزُ الشَّيْطَانِ

بنی تمیم کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ ہم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آۓ ‘ہمارے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے بتایا کہ وہ روزہ سے ہیں ‘پس جب ہم دونوں داخل ہوۓ تو دستر خوان رکھا گیا‘ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کھانے لگے ‘میں نے آپ کی طرف دیکھا‘فرمایا :اے احمر! آ پ کو کیا ہے؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میرے کھانے سے تم مجھے مشغول رکھو؟ میں نے عرض کیا :کیا تم کو بتا یا نہیں گیا کہ آپ روز ہ کی حالت میں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں؟ پھر فرمایا :کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا جی ہاں ( پڑھا ہے ) پھر فرمایا :ہوسکتا ہے تم نے اکیلے پڑ ھا ہو‘ اور تم نے اکٹھے بیٹھے کرنہ پڑھا ہو ’’جو ایک نیکی کے ساتھ آۓ اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے ‘‘پھرفر مایا میں نے رسول اللہ ﷺکوفر ماتے سنا ہے کہ رمضان کے روزے رکھنا اور ہر ماہ کے تین روزے رکھنا ‘اس کے لیے کافی ہیں ۔فرمایا :یہ ہمیشہ کے روزوں کے برابر ثواب ہیں‘ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس کو مغلۃ الصدر نہ لے جاۓ ‘میں نے عرض کی : مغلۃ الصدر کیا ہے؟ فرمایا: شیطان کا رجز ہے۔

كنا على باب معاوية ومعنا أبو ذر ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 484

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 485

485 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ عنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَرُبَّمَا ذَكَرَ [ص:389]، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا فَرَأَيْتُ مِنَ أَحْسَنِ أَعْمَالِهِمُ الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَرَأَيْتُ مِنَ سَيِّئِ أَعْمَالِهِمُ النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ»

حضرت ابوذر (غفاری )رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مجھ پر میری اُمت کے اچھے اور بُرے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ‘میں نے ان کے اچھے اعمال میں سے ان کے راستے سے تکلیف دِہ چیز کو ہٹانا دیکھا ہے اور میں نے ان کے بُرے اعمال میں مسجد میں تھوک دیکھا ہے جسے دفن نہیں کیا گیا ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ ← [ص:149] ← يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَرُبَّمَا ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 485

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 486

486 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ بُرْدٌ قَطَرِيٌّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ رَدَّ عَلَيَّ قُلْتُ: أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْ [ص:390] أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا - ثُمَّ سَكَتَ أَيُّوبُ عِنْدَ أَبْوَالِهَا - وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» ، قُلْتُ: هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «وَمَا أَهْلَكَكَ؟» ، أَوْ قَالَ ": وَمَا ذَاكَ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ أَفَأُصَلِّي بِغَيْرِ وُضُوءٍ أَوْ قَالَ: بِغَيْرِ طَهُورٍ؟ فَدَعَا لِي بِمَاءٍ فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ حَبَشِيَّةٌ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَاسْتَتَرْتُ بِالْبَعِيرِ وَاغْتَسَلْتُ، قَالَ: وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ كَافِيكَ وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ» قَالَ أَبُو بِشْرٍ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ

بنی عامر ے ایک آدمی سے روایت ہے ‘اس نے کہا کہ میں نے حضرت ابوذر (غفاری )رضی اللہ عنہ کو مسجد قباء میں دیکھا۔ آپ اس میں نماز پڑھ رہے تھے ‘اور آپ پر قطری چادرتھی ‘سو میں نے آپ کو سلام کیا ‘تو آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ پس جب آپ نماز سے فارغ ہوۓ‘ تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔میں نے عرض کی کہ آپ ابوذرہیں ‘آپ نے فرمایا: ہاں! آپ نے فرمایا: مجھے مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی ‘تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کا حکم دیا اور مجھے حکم دیا کہ میں اُن کا پیشاب اور دودھ پیوں ‘پھر ایوب راویٔ حدیث ’’عِنْدَ أَبْوَالِهَا ‘‘ پر خاموش ہو گئے ۔ ( حضرت ابوذر فرماتے ہیں :)اور میں نے رسول اللہ ﷺ کوصحا بہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سایہ میں دیکھا ‘جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی میں ہلاک ہو گیا ‘یارسول اللہ! آپ نے فرمایا :کیسے ہلاک ہو گئے؟ یا فرمایا کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ ! میں پانی سے دور تھا مجھ پر غسل فرض ہو گیا اور میں نے بغیر وضو کے نما زپڑھ لی ہے ۔ یا فرمایا بغیر طہارت کے ‘پس آپ نے میرے لیے پانی منگا یا ‘تو ایک حبشی لونڈی پیالے میں پانی لے کر آئی ‘پیالا مجرا ہوانہیں تھا ‘سو میں نے اونٹ کی آڑ میں غسل کیا ‘کہتے ہیں :اور مجھے رسول اللہ ﷺنے فرمایا :اے ابوذر! بے شک مٹی پاک ہے‘ تیرے لیے کافی ہے ‘اگر تو دس سال تک بھی پانی نہ پاۓ ‘اے اپنے جسم پر مل لے ۔ ابو بشر نے کہا :اور ہمیں حدیث بیان کی ابوحفص نے ‘انہوں نے کہا :ہمیں یزید بن زرایع نے از حضرت خالد الخدء از حضرت ابوقلابہ از عمر و بن بجدان ‘انہوں ے کہا :میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 486

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 487

487 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَعْمِلْنِي قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ فَهِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ [ص:392] خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا»

حضرت ابوذر( غفاری )رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! مجھے آپ حکمران بنا دیں ‘آپ نے فرمایا: اے ابوذر! تو کمزور ہے ‘اور یہ حکومت امانت ہے ‘یہ قیامت کے دن ذلت و رسوائی ہوگی ‘مگر جس نے اس کا حق ادا کر دیا اور جواس پر ذمہ داری تھی اس کو ادا کیا۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 487

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter