Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 469

469 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ هَؤُلَاءِ فَقَدْ خَابُوا وَقَدْ خَسِرُوا؟ فَقَالَ: «الْمَنَّانُ وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ»

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے ارشاد فرمایا: تین آ دمیوں کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالی ٰنظر رحمت نہیں فرماۓ گا اور نہ ہی اُن سے بات کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے میں نے عرض کی :یارسول اللہ ! و ہ کون لوگ ہوں گے جو گھاٹے اور نقصان میں ہوں گے ۔ فرمایا: (۱)احسان جتلانے والا ( ۲ )اپنے تہہ بند کو (ازراہ تکبر ) لٹکانے والا ( ۳ ) اور جھوٹی قسم اٹھا کر اپنا سامان بیچنے والا ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 469

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 470

470 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: كَانَ الْحَدِيثُ يَبْلُغُنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ الْحَدِيثُ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ قَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ فَقَدْ لَقِيتَ فَهَاتِ، قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَكُمْ " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً، قَالَ: مَا إِخَالُنِي أَنْ أَكْذِبَ عَلَى خَلِيلِي قُلْتُ: فَمَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّ؟ قَالَ: رَجُلٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ " وَإِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ عِنْدَكُمْ {إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا} [الصف: 4] قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: «رَجُلٌ لَهُ جَارُ سُوءٍ فَهُوَ يُؤْذِيهِ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ فَيَكْفِيهِ اللَّهُ إِيَّاهُ بِحَيَاةٍ أَوْ [ص:376] مَوْتٍ» ، قَالَ: وَمَنْ؟ قَالَ: «رَجُلٌ كَانَ مَعَ قَوْمٍ فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا فَعَرَّسُوا وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الْكَرَى وَالنُّعَاسُ وَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَنَامُوا وَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَهْبَةً لِلَّهِ وَرَغْبَةً إِلَيْهِ» ، قُلْتُ: فَمَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ؟ قَالَ: «الْبَخِيلُ الْمَنَّانُ وَالْمُخْتَالُ الْفَخُورُ» وَإِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ {إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: 18] قَالَ: فَمَنِ الثَّالِثُ؟ قَالَ: «التَّاجِرُ الْحَلَّافُ» أَوْ «الْبَائِعُ الْحَلَّافُ»

حضرت مطرف بن عبدالله بن شخير رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک حدیث پاک پہنچی ‘اور میں ان کی ملاقات کا مشتاق تھا‘ سومیری ملاقات ان سے ہوئی ‘تو میں نے عرض کی: اے ابوذ ر!مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث پاک پہنچی تھی ‘میں نے چاہا کہ میں آپ سے ملاقات کروں ‘اللہ کی قسم! تیرا والد بھی ملا تھا اس کو بھی لے آ ۔ میں نے کہا: مجھے ایک حدیث پہنچی ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺکے حوالے سے اسے بیان کرتے ہیں کہ اللہ عز وجل تین چیزوں کو پسند کرتا ہے اور تین کو نا پسند کر تا ہے ۔ ( حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے )فرمایا کہ میں اپنے محبوب پر جھوٹ نہیں باندھ سکتا ہوں ‘میں نے کہا کہ وہ تین چیزیں کون سی ہیں جن کو ( اللہ تعالی ) پسند کرتا ہے؟ ( حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے )فرمایا: ایک وہ آ دمی جو دشمن سے ملے تو لڑے اور یہ بات تم قرآن پاک میں پاتے ہو جو تمہارے پاس ہے کہ ’’اللہ تعالی ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں‘‘۔ میں نے کہا اور ( دوسراعمل ) کون سا ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ آدمی جس کا پڑوسی ایسا ہو جس کی وجہ سے اس کو تکلیف ہو اور وہ اس کی تکلیف پر صبر کرتا ہےیہاں تک کہ اللہ تعالی اس سے کافی ہو گیا‘ اس کو زندگی دے کر یا اس کو موت دے کر ۔ میں نے کہا: اور ( تیسرا آ دمی )کون ہو گا ؟ فرمایا : وہ آ دمی جوکسی قوم کے ساتھ سفر میں ہوتو ان پر اونگھ اور نیند غالب آ جاۓ اور وہ اپنے سر رکھ کر سو جائیں ‘تو یہ آدمی اُٹھے ‘وضو کرے اور اللہ کے خوف واُمید پر نماز پڑھے۔ میں نے کہا: وہ تین آ دمی کون سے ہیں جن سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے: (۱) بخیل احسان جتلانے والا (۴) اور تکبر و غرور کرنے والا تم اس کے متعلق اللہ کی کتاب میں حکم پاتے ہو:’’ بے شک اللہ تعالی ہر تکبر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کر تا‘‘ (۳) کہا کہ میں نے کہا: اور تیسرا ؟ فرمایا کہ تا جر قسمیں کھانے والا یا قسمیں اٹھا کر بیچنے والا ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← كان الحديث يبلغني ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 470

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 471

471 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: " مَسْحُ الْحَصَى وَاحِدَةً وَأَنْ لَا أَفْعَلَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مِائَةِ نَاقَةٍ سُودِ الْحَدَقَةِ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کنکری کو ایک مرتبہ ہٹانا‘مجھے ایسا نہ کرنا ایک سو حاملہ اونٹیوں سے زیادہ پسند ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 471

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 472

472 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ: «وَاحِدَةً» وَقَالَ سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے ہر شے کے متعلق پوچھا یہاں تک کہ کنگر یوں کو ہٹانے کے متعلق بھی ‘آپ نے فرمایا: ایک مرتبہ (صاف کر لیا کرو ) ۔ اور سفیان نے از حضرت اعمش از مجاہد از ابن ابی لیلی ٰاز حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ از نبی اکر م ﷺنے بھی اس کی مثل روایت کی ہے۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ: «وَاحِدَةً» وَقَالَ سُفْيَانُ، ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 472

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 473

473 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أَشْيَاءَ يُؤْجَرُ فِيهَا الرَّجُلُ حَتَّى فِي غِشْيَانِهِ أَهْلَهُ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَهِيَ شَهْوَتُهُ يَقْضِيهَا؟ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ فِي حَرَامٍ أَلَيْسَ كَانَ يُؤْزَرُ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «فَكَذَلِكَ يُؤْجَرُ» لَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ وَقَالَ الْأَعْمَشُ: عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ

حضرت ابوبختری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: انسان کو ہر کام میں اجر ملتا ہے یہاں تک کہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ وطی کرے تو اس پر بھی اسے اجر ملے گا عرض کی گئی: یارسول اللہ ! انسان اپنی شہوت پوری کرے تو پھر کیسے ثواب ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں کہ اگر وہ زنا کرتا تو کیا اسے گناہ نہ ملتا؟ عرض کی :یا رسول اللہ ! جی ہاں ( کیوں نہیں )! فرمایا: اسی طرح اس پر اس کو ثواب ملے گا۔ شعبہ نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا اور اعمش نے اس حدیث کی از عمر و از ابی البختری از حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے ۔

أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 473

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 474

474 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُوتِيتُ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي: جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَى عَدُوِّي مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَبُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ كَانَ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " هَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ وَقَالَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ‘نبی اکر م ﷺسے روایت کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مجھے پانچ چیز یں عطا کی گئی ہیں جو کسی کونہیں عطا کی گئیں : (۱) میرے لیے ساری روۓ زمین کو مسجد بنایا گیا (یا) پاک کر دیا گیا (۲) میری دشمن پر رعب کے ساتھ مدد کی گئی‘ ایک ماہ کی مسافت تک ( ۳) اور مجھے سرخ و کالے کی طرف مبعوث کیا گیا اور (۴) میرے لیے غنیمت کو حلال کر دیا گیا جو کسی نبی کے لیے حلال نہیں ( ۵ ) اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ‘یہ شفاعت میرے ہر اس اُمتی کو ان میں سے ملے گی جومر جاۓ اور وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا تا ہو۔ اسی طرح شعبہ نے روایت کی اور جریر نے از اعمش از مجاہد از عبید بن عمیر از حضرت ابوذر رضی الله عنہ از نبی اکر م ﷺاسی کی مثل روایت کی ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مُجَاهِدٍ ← وَاصِلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 474

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 475

475 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ، أَوْ رَجُلٍ آخَرَ عَنْ قَاضِي أَهْلِ مِصْرَ - أَوْ قَاصِّ شَكَّ أَبُو بِشْرٍ - أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: " مَا لَقِيَنِي قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي وَلَقَدْ جِئْتُ مَرَّةً فَقِيلَ لِي: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَبَكَ فَجِئْتُهُ فَلَقِيَنِي فَاعْتَنَقَنِي فَكَانَ ذَلِكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ "

حضرت ایوب بن بشیر یا اہل مصر کے قاضی ایک اور شخص سے روایت کرتے ہیں‘ یا قصہ گو سے ابو داؤ دکو شک ہے کہ انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے عرض کی : کیا تم سے رسول اللہ ﷺمصافحہ کرتے تھے جب آپ سے ملاقات کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا :جب بھی میں نے آپ سے ملاقات کی آپ نے مجھ سے مصافحہ کیا ‘اور میں ایک مرتبہ آیا ‘تو مجھے کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺآپ کو بلا رہے ہیں ‘میں آیا تو آپ نے مجھ سے ملاقات کی اور مجھ سے معانقہ کیا ‘جو بہت ہی اچھا تھا ۔

مَا لَقِيَنِي قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي وَلَقَدْ جِئْتُ مَرَّةً فَقِيلَ لِي: ← لِأَبِي ذَرٍّ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟ ← قَاضِي أَهْلِ مِصْرَ أَوْ قَاصِّ شَكَّ أَبُو بِشْرٍ أَنَّهُ ← أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ، أَوْ رَجُلٍ آخَرَ ← أَبِي الْحُسَيْنِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 475

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 476

476 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ فَقَالَ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ»

حضرت عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر (غفاری )رضی اللہ عنہ سے عرض کی : اگر میں رسول اللہ ﷺکو دیکھتا تو آپ سے ایک چیز کے متعلق سوال کرتا ‘حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے کیا سوال کرنا تھا؟ کہا کہ میں نے یہ پوچھنا تھا کہ کیا آپ نے اپنے رب عز وجل کو دیکھا؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں ہی رسول اللہ ﷺسے پوچھ چکا ہوں آپ ﷺنے فرمایا: میں نے ایک نور دیکھا ہے ‘میں اس ذات کو کہاں دیکھ سکتا۔

نُورٌ أَنَّی أَرَاهُ ← أبو ذر سألت رسول الله هل رأيت ربك ← مَا هُوَ؟ قُلْتُ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ؟ ← شَيْءٍ ← قُلْتُ لأَبِي ذَرٍّ: لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ سَأَلْتُهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← قَتَادَةَ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 476

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 477

477 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ»

حضرت موسی ٰبن طلحہ فر ماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ کے مقام پر سنا‘ آپ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :اے ابوذر ! جب تو مہینے کے تین روزے رکھنا چاہے تو تیرھویں ‘چودھویں اور پندرھویں ( چاند کی تاریخ) کے روزے رکھا کر ۔

أبا ذر بالربذة ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← يَحْيَى بْنِ سَامٍ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 477

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 478

478 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ اسْتَقْبَلَهُ الرَّحْمَةُ فَلَا يَمْسَحَنَّ الْحَصَى أَوِ الْحَصْبَاءَ بِرِجْلِهِ»

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بندہ نماز میں ہوتا ہے تو اللہ کی رحمت اُس کے آگے ہوتی ہے ‘سو کنکر یوں کو نہ چھوا کرو‘ یا یہ فرمایا :پاؤں کے ساتھ کنگر یوں کو نہ صاف کیا کرو۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 478

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 479

479 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ [ص:383] أَنَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَادَّهَنَ مِنْ دُهْنِهِ وَتَطَيَّبَ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَصَلَّى فَإِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى» هَكَذَا قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَلْمَانَ، وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ

حضرت سلیمان خیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوشبو لگائی اور تیل لگایا اور جمعہ پڑھنے کے لیے آیا اور دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہیں ڈالی اور نماز پڑھی ‘جب امام نے خطبہ دیا ‘تو سنا اور خاموش رہا تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف فرما دئیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ابن ابی ذئب نے روایت کی ازسلیمان اور ہم سے ہمارے اصحاب نے از یحیی ٰبن سعید از ابن عجلان از سعید از والد خود از حضرت عبداللہ بن ودیعہ از حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ روایت کی ۔

سَلْمَانَ الْخَيْرِ [ص:383] ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 479

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 480

480 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّامِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ قَالَ: «أَصَلَّيْتَ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «قُمْ فَصَلِّ» ، فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَسْتَعَذْتَ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ؟» قُلْتُ: وَهَلْ لِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَ: «نَعَمْ يَا أَبَا ذَرٍّ» ، ثُمَّ قَالَ لِي: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ» قُلْتُ: فَالصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «خَيْرٌ مَوْضُوعٌ فَمَنْ شَاءَ أَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ» ، قُلْتُ: فَالصَّوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «فَرْضٌ مُجْزِئٌ» ، قُلْتُ: فَالصَّدَقَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ» ، قُلْتُ: فَأَيُّهَا أَفْضَلُ؟ قَالَ: «جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ وَسِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: «اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» ، قُلْتُ: فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «آدَمُ» ، قُلْتُ: أَوَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: «نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ» ، قُلْتُ: كَمْ [ص:385] كَانَ الْمُرْسَلُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثَلَاثَمِائَةٍ وَخَمْسَ عَشْرَةَ جَمًّا غَفِيرًا»

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺکے پاس آیا اور آپ مسجد میں تھے ‘سو میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا ‘آپ نے فرمایا اے ابوذ را میں نے عرض کی: لبیک! آپ نے فرمایا کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے عرض کی نہیں! آپ نے فرمایا، اُٹھ اور نماز پڑھ! سو میں نے نماز پڑھی ‘پھر میں آپ کے پاس بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا اے ابوذر! اللہ کی پناہ مانگو شیاطین جنوں اور انسانوں سے ۔ میں نے عرض کیا کہ انسان بھی شیاطین ہوتے ہیں آپ نے فرمایا :ہاں ! اے ابوذر ! پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتلاؤں! میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: وہ ہے لاحول ولاقوة الا باللہ ! یہ جنت کے خزانوں میں سے خزانہ ہے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! نماز؟ آپ نے فرمایا بہت بہتر ہے جو چاہے کم کرے اور جو چا ہے زیادہ کرے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! روزے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ایک فرض ( جسے ادا کر دیا جاۓ تو )تو کافی ہوتا ہے ‘عرض کی : یا رسول اللہ ! ز کوٰۃ ؟ فرمایا اس کا بدلہ دگنا چگنا ملتا ہے اور اللہ کے ہاں اور بھی زیادہ۔ میں نے عرض کی : افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا ‘اور کسی ضرورت مند کا راز۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آ پ پر سب سے عظیم کون سی آیات اُتریں؟ فرمایا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ‘میں نے عرض کی :یارسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ فرمایا: آ دم علیہ السلام‘ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا وہ نبی تھے ؟ آ پ نے فرمایا: ہاں! وہ نبی تھے اللہ نے ان سے کلام کیا ہے ۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہ ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے؟ فرما یا: تین سو پندرہ کا ایک جم غفیر ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّامِيِّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 480

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter