Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 457

457 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَكَانَ خِيَارًا مِنَ الرِّجَالِ قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا إِذْ «دَخَلَ رَسُولُ [ص:364] اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ»

حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان تھا ‘اچانک رسول اللہ ﷺمسجد حرام میں داخل ہوۓ ‘پس آپ ﷺنے طواف کی ابتداء حجر اسود سے کی ‘پھر بیت اللہ کے سات چکر لگاۓ ‘اور مقام ِابراہیم کے سامنے دو رکعتیں ( نفل )ادا کیں ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَكَانَ خِيَارًا مِنَ الرِّجَالِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 457

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 458

458 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَضَى صَلَاتَهُ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ، قَالَ: «وَعَلَيْكَ» ، قَالَ: فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکر م ﷺکے پاس پہنچا جس وقت آپ نے اپنی نماز مکمل کی ‘میں نے عرض کی السلام علیک ! آپ نے فرمایا :وعلیک! کہا کہ میں پہلا شخص تھا جس نے آپ کو اچھے طریقے سے سلام کہا تھا۔

فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ ← «وَعَلَيْكَ» ← انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ حِينَ قَضَى صَلَاتَهُ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ، ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 458

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 459

459 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُنْذُ كَمْ أَنْتَ هَاهُنَا؟» قَالَ: قُلْتُ: مُنْذُ ثَلَاثِينَ يَوْمًا وَلَيْلَةً، قَالَ: «مُنْذُ ثَلَاثِينَ يَوْمًا وَلَيْلَةً؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا كَانَ طَعَامُكَ؟» قُلْتُ: مَا كَانَ لِي طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ إِلَّا مَاءَ زَمْزَمَ، وَلَقَدْ سَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي، وَمَا أَجِدُ عَلَى كَبِدِي سَخْفَةَ جُوعٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ، وَهِيَ طَعَامُ طُعْمٍ، وَشِفَاءُ سُقْمٍ»

حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم یہاں کب سے ہو؟ کہا کہ میں نے عرض کی: تین دن اور رات سے ‘آپ ﷺنے فرمایا: تین دن و رات سے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! آپ ﷺنے فرمایا: تیرا کھا نا کیا تھا ؟ میں نے عرض کی میرے کھانے و پینے کے لیے کچھ نہیں تھا سواۓ آب ِزمزم کے ‘میں بے شک موٹا ہو گیا ہوں ‘میرے پیٹ کا ڈھکن ٹو ٹنے والا ہو گیا ہے اور میں نے بھوک محسوس نہیں کی ۔ کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :یہ بابرکت ہے ‘یہ کھانے کا کھانا ہے اور بیماری کے لیے شفاء ہے۔

«مُنْذُ ثَلَاثِينَ يَوْمًا وَلَيْلَةً؟» قُلْتُ: نَعَمْ، ← قُلْتُ: مُنْذُ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ولَيْلَةً. ← لِي رَسُولُ اللَّهِ «مُنْذُ كَمْ أَنْتَ هَاهُنَا؟» ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 459

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 460

460 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: فَغَبَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غَبَرْتُ ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ قَدْ رُفِعَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ وَلَا أُرَاهَا إِلَّا يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ مَا يَنْفَعُهُمُ اللَّهُ بِكَ وَيَأْجُرُكَ فِيهِمْ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَلَقِيتُ أُنَيْسًا فَقَالَ لِي: مَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَقَالَ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ قَالَ: وَأَتَيْنَا أُمَّنَا فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا الْإِسْلَامَ فَقَالَتْ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا فَقَالَتْ: أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، قَالَ: وَأَتَيْنَا قَوْمَنَا فَعَرَضْنَا عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ وَقَالَ النِّصْفُ الْآخَرُ: إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْنَا، قَالَ: فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَ [ص:366] سَيِّدَهُمْ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمَ النِّصْفُ الْبَاقِي وَجَاءَ إِخْوَانُنَا مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا: نُسْلِمُ عَلَى مَا أَسْلَمَ عَلَيْهِ إِخْوَانُنَا مِنْ غِفَارٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ»

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ جب میں گز را تو رسول اللہ ﷺکے ساتھ گز را ‘پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ میرے سامنے کھجوروں والی زمین پیش کی گئی ‘میرا خیال ہے کہ وہ یثرب ہے ‘کیا تو میری طرف سے اپنی قوم کو خبر پہنچانے والا ہے کہ اللہ ان کو تیری وجہ سے نفع دے گا اور تجھے ان میں ثواب ہوگا؟ میں نے عرض کی جی ہاں! کہتے ہیں کہ میں چلا‘پس میں انیس سے ملاا نہوں نے مجھے کہا تُو نے کیا کیا؟ میں نے کہا میں اسلام لا یا اور میں نے تصدیق کی ‘انہوں نے کہا :مجھے تیرے دین سے کوئی چیز روکنے والی نہیں ہے ‘میں اسلام لے آ یا ہوں اور میں نے تصدیق کر دی ہے کہتے ہیں کہ ہم اپنی والدہ کے پاس آۓ ‘اُن پر اسلام پیش کیا ‘انہوں نے کہا : مجھےتمہارے دین سے کوئی چیزروکنے والی نہیں ہے ‘اس نے کہا میں اسلام لائی اور میں نے تصدیق کی‘ کہا کہ ہم اپنی قوم کے پاس آۓ اُن پر اسلام پیش کیا تو وہ آ دھے مسلمان ہو گئے‘ اور دوسرے نصف کہنے لگے:جب رسول اللہ ﷺآئیں گے تو ہم اسلام لائیں گے۔ کہاکہ ان کی امامت ایماءبن رحضہ غفاری کر تے تھے اور وہ ان کے سردار تھے ‘پس جب رسول اللہ ﷺتشریف لاۓ تو باقی بھی مسلمان ہو گئے او ر ہمارے بھائی قبیلہ اسلم سے آۓ ‘انہوں نے کہا: ہم بھی اسلام لاتے ہیں ‘جسے ہمارے بھائی قبیلہ غفار والے اسلام لاۓ ہیں‘ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہ قبیلہ غفار ہے ‘اسے اللہ نے بخش دیا اورقبیلہ اسلم کو اللہ نے سلامت رکھا ۔

لِي رَسُولُ اللَّهِ ← فَغَبَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مَا غَبَرْتُ ثُمَّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 460

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 461

461 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنِ الْمُنْبَعِثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ تَأْتِي فِرَاشَكَ وَلَا تَقْدِرُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى مَسْجِدِكَ، وَتَأْتِي مَسْجِدَكَ وَلَا تَقْدِرُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى فِرَاشِكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْعِفَّةِ» ، قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ كَثِيرٌ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ يَعْنِي الْقَبْرَ بِالْوَصِيفِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ» ، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا رَأَيْتَ أَحْجَارَ الزَّيْتَ قَدْ [ص:368] غَرِقَتْ بِالدِّمَاءِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ أَوْ مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ قَالَ: «عَلَيْكَ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ - أَوْ - الْحَقْ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ»

حضرت ابوذر ( غفاری )رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے فرمایا: اے ابوذ ر! میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں اور آپ کی تابعداری کے لیے تیار ہوں ‘یا رسول اللہ ! آ پ ﷺ نے فرمایا: جب لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو جا ئیں گے اور تو اپنے بستر پر آۓ گا تو مسجد کی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھے گا اور جب تو مسجد میں ہوگا تو اپنے بستر تک جانے کی طاقت نہیں رکھے گا ‘اس وقت کیا عالم ہو گا؟ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں ! آ پ ﷺنے فرمایا اس وقت بھی تجھ پر لازم ہے کہ سوال نہ کرنا۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا اس وقت تیری حالت کیا ہو گی جب لوگ بہت زیا دہ مر ر ہے ہوں گے یہاں تک کہ آدمی کا گھر قبر ہوگی ۔ میں نے عرض کی: اللہ اور اُس کا رسول ہی جانتے ہیں ! آپ نے فرمایا: تجھ پر صبر کرنالازم ہے ‘پھر فرمایا اس وقت تیری حالت کیا ہو گی جب تو زیتون کے مٹکے خون سے بھرے دیکھے گا ‘عرض کی اللہ اور اُس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ‘یا جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں ‘فرمایا کہ تجھ پر اپنا آپ لازم ہے ‘یا فرمایا اس حق کے ساتھ مل جا جس پر تو ہے۔

لِي رَسُولُ اللَّهِ «يَا أَبَا ذَرٍّ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← الْمُنْبَعِثِ بْنِ طَرِيفٍ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 461

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 462

462 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَتْ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا قَالَ: " فَإِنَّهَا تَأْتِي الْعَرْشَ فَتَسْجُدُ وَيُؤْذَنُ لَهَا فِي الرُّجُوعِ وَكَانَ قَدْ قِيلَ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ مِنْ حَيْثُ جَاءَتْ فَذَلِكَ [ص:369] مُسْتَقَرُّهَا "

حضرت ابوذر (غفاری )رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا :اے ابوذرا کیا تم جانتے ہو کہ سورج جب غروب ہو جا تا ہے تو کہاں جا تا ہے؟ میں نے عرض کیا :میں نہیں جانتا! آ پ ﷺنے فرمایا :یہ عرش کے قریب آ تا ہے پس سجدہ کر تا ہے ‘اور اسے دوبارہ نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے اور اُس سے کہا جا تا ہے: لوٹ جا جہاں سے تو آ یا تھا۔ پس وہ لوٹ جاتا ہے جہاں سے وہ آیا ہو تا ہے ‘اور فرمایا یہی اُس کی جگہ ہے۔

قُلْتُ: لَا ← لِي رَسُولُ اللَّهِ «يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَتْ؟» ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 462

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 463

463 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: «مَنْ بَنَى لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» لَمْ يَرْفَعْهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَفَعَهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے اللہ عز وجس کے لیے مسجد بنائی‘ اگر چہ پرندے کے گھونسلے کے برابر تو بھی اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا ۔ امام ابوداؤ د اس کو مرفوعاً بیان نہیں کرتے اور یحییٰ بن آ دم اس کواز قطبہ از اعمش مرفوعا ًبیان کر تے ہیں ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← قَيْسٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 463

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 464

464 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ أَوَّلًا؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى» ، قَالَ: قُلْتُ: وَكَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ سَنَةً وَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَثَمَّ مَسْجِدٌ»

حضرت ابوذر ( غفاری) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟ آپ نے فرمایا :مسجد حرام ‘پھر مسجد اقصٰی ‘میں نے عرض کی :ان کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: چالیس سال کا (فاصلہ ہے )‘جہاں بھی تو نماز وقت پاۓ تو نماز پڑھ لیا کر وہی مسجد ہے ۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 464

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 465

465 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي [ص:371] قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: «حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَحَرَّمْتُهُ عَلَى عِبَادِي فَلَا تَظَالَمُوا، كُلُّ بَنِي آدَمَ يُخْطِيءُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ وَلَا أُبَالِي»

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ‘ نبی اکرم ﷺسے اورآپ ﷺ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کر تے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنی ذات پر بھی ظلم حرام کیا اور اس کو اپنے بندوں پر بھی حرام کیا ہے ‘پس تم آپس میں ظلم نہ کرو ‘ہر انسان دن اور رات کو غلطیاں کرتا ہے اور پھر مجھ سے بخشش طلب کر تا ہے ‘سو میں اسے معاف کر د یتا ہوں ‘اور مجھے کوئی پروا ہ نہیں ۔

رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ← النَّبِيِّ فِيمَا يَرْوِيهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ← أَبِي [ص:106] قِلابَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 465

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 466

466 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: «الْحَسَنَةُ بِعَشَرَةٍ وَالسَّيِّئَةُ بِوَاحِدَةٍ أَوْ أَغْفِرُهَا، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي لَقِيتُهُ بِقُرَابِ الْأَرْضِ مَغْفِرَةً، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ يُكْتَبْ [ص:372] عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا» لَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ وَرَفَعَهُ النَّاسُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :تمہارے رب عز وجل نے فرمایا کہ ایک نیکی کی جزا دس نیکیاں ہیں اور ایک بُرائی کی جزا ایک سزا ہے یا میں اسے معاف کر دوں گا اس کو جو مجھ سے ملے اس حالت میں کہ روۓ زمین اُس کی غلطیوں سے بھری پڑی ہو وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرا تا ہو اور میں اس سے ملوں گا‘ زمین بھر بخشش کے ساتھ ‘اور جو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اُس کو کیا نہ ہو ‘تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور جس نے بُرائی کا ارادہ کیا اوربُرائی کی نہیں تو اللہ تعالی اس کی بُرائی نہیں لکھے گا اور جو میرے قریب ایک بالشت ہوتا ہے میری رحمت اُس کی طرف ایک ہاتھ آتی ہے اور جو میرے قریب ایک ہاتھ آ تا ہے میری رحمت اس کے پاس ایک گز آتی ہے ۔ حضرت شعبہ نے اس حدیث کو حضرت واصل سے مرفوع ذکر نہیں کیا اور لوگ حضرت اعمش سے ‘وہ حضرت معرور سے اس کو مرفوع روایت کر تے ہیں ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← وَاصِلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 466

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 467

467 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ سُوَيْدَ بْنَ الْحَارِثِ، سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ أُحُدًا ذَهَبًا يَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ - أَوْ قَالَ مِثْقَالٌ - إِلَّا أَنْ أُرْصِدَهُ لِغَرِيمٍ»

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺنے فرمایا میں پسند نہیں کرتا کہ میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ تین دن گز ر جانے کے بعد میرے پاس موجود ہو‘ یا یہ فرمایا کہ میرے پاس ایک مثقال کے برابر ہومگر یہ کہ میں اتنا روک لوں قرض اداکرنے کے لیے۔

أَبَا ذَرٍّ ← سويد بن الحارث ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 467

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 468

468 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: صُمْنَا رَمَضَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ السَّابِعَةُ مِمَّا يَبْقَى، صَلَّى بِنَا حَتَّى كَادَ أَنْ يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ لَمْ يُصَلِّ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعِشْرِينَ الْخَامِسَةُ مِمَّا يَبْقَى صَلَّى بِنَا حَتَّى كَادَ أَنْ يَذْهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا، فَقَالَ: «لَا إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَتْ لَهُ قِيَامَ لَيْلَةٍ» ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لَمْ يُصَلِّ بِنَا فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ وَاجْتَمَعَ لَهُ النَّاسُ فَصَلَّى بِنَا حَتَّى كَادَ أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ ثُمَّ يَا ابْنَ أَخِي لَمْ يُصَلِّ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ، قَالَ: وَالْفَلَاحُ [ص:374] السُّحُورُ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو آپ ﷺنے سارا مہینہ ہمارے ساتھ ذرا بھی قیام نہیں کیا۔ حتی ٰکہ جب چوبیسویں رات ہوئی اور ستائیسو یں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا۔ حتی ٰکہ قریب تھا کہ رات کا تہائی حصہ چلا جا تا۔ پس جب پچیسرمضان کی رات آئی تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا ‘پھر جب پچیس چھبیس کی رات آئی تو آپ نے ہمیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہو گئی۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہ ! باقی رات بھی آپ ہمیں نفل پڑھاتے رہتے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! آدمی نے جب اپنے امام کے ساتھ نماز پڑھ لی یہاں تک کہ فارغ ہو گیا تو اُسے ساری رات کا قیام کر نے کا ثواب عطا ہوتا ہے ‘پھر جب ستائیسو یں رات ہوئی تو آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی ‘سو جب اٹھائیسو یں رات آئی تو رسول اللہ ﷺواپس آۓ اور آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور نماز پڑھائی ‘اتنی دیر تک کہ قریب تھا کہ ہماری فلاح فوت ہو جاتی ‘پھر فرمایا اے میرے بھتیجے ! اس کے بعد آپ ﷺنے کسی مہینے میں ہمیں نماز نہیں پڑھائی‘ فرمایا :اور فلاح سے مراد سحری ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 468

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter