Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 406

406 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ قوم کے کوڑے کے ڈھیر پر تشریف لاۓ تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی مانگا تو میں آپ کے پاس پانی لے کر آ یا ‘سوآپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Hadith 406

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 407

407 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ قَالَ: قِيلَ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ أَبَا مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ جَرِيرٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ يَبُولُ [ص:325] فِي قَارُورَةٍ وَيُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، قَالَ حُذَيْفَةُ: وَدِدْتُ أَنَّهُ لَا يَفْعَلُ هَذَا، إِنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا»

حضرت ابووائل بیان فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پیشاب کے معاملہ میں سختی کرتے ہیں ۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ حضرت جریر نے اس حدیث میں فرمایا کہ حضرت ابوموسی ٰاشعری رضی اللہ عنہ ایک شیشی میں پیشاب کرتے تھے اور پیشاب کے معاملہ میں سختی کرتے تھے ‘حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں چاہتا ہوں کہ وہ ایسا نہ کر یں کیونکہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ‘آ پ قوم کے کوڑے کے ڈھیر پر آۓ تو آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔

أَبُو دَاوُدَ، ← قيل لحذيفة إن أبا موسى يشدد في البول ← أَبَا وَائِلٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 407

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 408

408 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، كِلَيْهِمَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الْفِتْنَةِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، قَالَ: أَنْتَ؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ يُكَفِّرُهَا الصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، قَالَ: لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنِ الْفِتْنَةِ الَّتِي قَبْلَ السَّاعَةِ تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ [ص:326] بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابٌ مُغْلَقٌ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْبَابِ يُكْسَرُ كَسْرًا أَمْ يُفْتَحُ فَتْحًا؟ قَالَ: بَلْ يُكْسَرُ كَسْرًا فَقَالَ عُمَرُ: إِذًا لَا يُغْلَقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو وَائِلٍ: قُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْ حُذَيْفَةَ عَنِ الْبَابِ مَنْ هُوَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: الْبَابُ عُمَرُ وَرَوَى النَّاسُ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ: مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟

حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم کوفتنوں کے متعلق کون بتاۓ گا ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بتاؤں گا ! ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (فرمایا: آ پ بتائیں گے! انہوں نے عرض کی : اے امیرالمؤ منین ! آ دمی کے لیے فتنہ اس کے اہل خانہ اور اس کا مال ہوں گے ‘اس کا کفار ہ روزے صد قہ ‘نیکی کا حکم اور بُرائی سے منع کرنا ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا: میں نے اس کے متعلق نہیں پوچھا ‘میں ان فتنوں کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں جو قیامت سے پہلے سمندر کی موجوں کی طرح ہوں گے‘انہوں نے عرض کی اے امیر المؤمنین! آپ کے اور اس (فتنہ) کے درمیان ایک بند دروازہ ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے )فرمایا مجھے اس دروازے کے متعلق بتائیں کہ وہ توڑا جاۓ گا یا کھولاجاۓ گا ؟ ( حضرت حذیفہ نے )کہا: بلکہ وہ سختی سے توڑا جاۓ گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو وہ قیامت تک بند نہیں ہو گا ۔ حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسروق سے کہا: آ پ حضرت حذیفہ سے پوچھیں کہ وہ درواز ہ کون ہے؟ انہوں (حضرت مسروق ) نے پوچھا تو ( حضرت حذیفہ نے )کہا: وہ درواز ہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود ہیں ۔ اور لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کون ہے جو ہم کو نبی اکر مﷺکے حوالہ سے فتنہ کے متعلق حدیث بیان کرےگا۔

أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، كِلَيْهِمَا ← الْأَعْمَشِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 408

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 409

409 - حَدَّثَنَا دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَمعتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:327] إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو آپ اپنے منہ مبارک کو مسواک سے صاف کرتے تھے ۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ [ص:327] إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ» ← حُذَيْفَةَ ← أَبَا وَائِلٍ، ← حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← دَاوُدُ،

Hadith 409

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 410

410 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ حُذَيْفَةُ: «الْمُنَافِقُونَ الْيَوْمَ شَرٌّ مِنْهُمْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَئِذٍ يَكْتُمُونَهُ وَهُمُ الْيَوْمَ يْظهِرُونَهُ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ منافق نبی اکرم ﷺکے زمانہ مبارک میں بدترین مخلوق تھے :اس وقت یہ اپنے آپ کو چھپاتے تھے ‘اور آج اپنے آپ کو ظاہر کر تے ہیں۔

أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 410

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 411

411 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ [ص:328] ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أُتِيَ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ فَلَمْ يُزَايِلَا ظَهْرَهُ هُوَ وَجِبْرِيلُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَصَعِدَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى السَّمَاءِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَأَرَاهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ» ثُمَّ قَالَ لِي: هَلْ صَلَّى فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ؟ إِنِّي لَأَعْرِفُ وَجْهَكَ وَمَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ، قَالَ: قُلْتُ أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ قَالَ: فَأَيْنَ تَجِدُهُ صَلَّى؟ فَتَلَوْتُ الْآيَةَ {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ} [الإسراء: 1] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ: فَإِنَّهُ لَوْ صَلَّى فِيهِ لَصَلَّيْتُمْ كَمَا تُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ: قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ: أَرَبَطَ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي كَانَتْ تَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ؟ قَالَ: أَكَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَبَ مِنْهُ وَقَدْ أَتَاهُ اللَّهُ بِهَا

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے پاس براق لا یا گیا وہ سفید جانور ہے گد ھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ہے ‘میں اور جبریل مسلسل اس کی پیٹھ پر سوار رہے یہاں تک کہ ہم دونوں بیت المقدس پہنچے پس جبریل علیہ السلام انہیں (آپﷺکو )لے کر آ سمان کی طرف چڑ ھے حضرت جبریل نے دروازہ کھٹکھٹایا ‘سو انہوں نے انہیں جنت اور دوزخ دکھائی ‘پھر مجھے فرمایا: کیا آپ نے بیت المقدس میں نماز پڑھ لی ہے؟ میں نے کہا ہاں ! ( حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا کہ اے گنجے ! میں تیری صورت کوتو جانتا ہوں ‘اور میں تیرے نام کو نہیں جانتا۔ کہا کہ میں نے عرض کی: میرا نام زر بن حبیش ہے‘ آپ نے کہا: تو نے کہاں سے پایا کہ آپ نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو میں نے یہ آیت تلاوت کی’’سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ ‘‘(بنی اسرائیل: ۱) آ خر تک ۔ ( حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے )کہا: اگر آپ اس میں نماز پڑھتے تو تم ضرور نماز پڑھتے ‘جس طرح تم مسجد حرام میں نماز پڑھتے ہو ‘کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ سے عرض کیا :آپ ﷺ نے سواری وہاں باندھی تھی جہاں انبیاء علیہما السلام نے سواریاں باندھی تھیں ‘( حضرت حذیفہ نے جواباً) کہا: کیا آپ کو خوف تھا کہ سواری چلی جاۓ گی حالانکہ اللہ عز وجل نے آپ کو یہ سواری دی تھی ۔

حُذَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ [ص:328] ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 411

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 412

412 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ [ص:329]: سَمِعْتُ صِلَةَ بْنَ زُفَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: " ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا، فَقَالَ: " لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل نجران رسول اللہ ﷺکی بارگا ہ میں آ ۓ ‘سوانہوں نے عرض کی: ہماری طرف کسی آ دمی کوامیر مقرر کر کے بھیجیں ‘ آپ نے فرمایا: میں تم پر ایسا آ دمی بھیجتا ہوں جوا مین ہے اور اس نے امانت کا حق ادا کر دیا ہے ‘یہ سن کر رسول اللہ ﷺکے سب صحابہ سر اُٹھا کر دیکھنے لگے ‘کہتے ہیں کہ پس رسول اللہ ﷺنے حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 412

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 413

413 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ صِلَةَ بْنَ زُفَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ، الْإِسْلَامُ سَهْمٌ، وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ، وَالزَّكَاةُ سَهْمٌ، وَالْحَجُّ سَهْمٌ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ سَهْمٌ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَهْمٌ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ سَهْمٌ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَهْمٌ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ» وَذَكَرُوا أَنَّ غَيْرَ شُعْبَةَ يَرْفَعُهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام کے آٹھ حصے ہیں: (۱)اسلام حصہ ہے (۲) نماز حصہ ہے (۳) زکوۃ حصہ ہے (۴) حج حصہ ہے (۵) رمضان کے روزے حصہ ہیں (۱) نیکی کا حکم دینا حصہ ہے (۷ )بُرائی سے منع کرنا حصہ ہے(۸) اللہ کی راہ میں جہاد کرنا حصہ ہے ‘اور بلاشبہ وہ نقصان میں ہو گا جس کا کوئی حصہ نہیں ۔ اور انہوں نے ذکر کیا ہے کہ حضرت شعبہ کے علاوہ اس حدیث کو فوعاً بیان کرتے ہیں۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 413

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 414

414 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ صِلَةَ بْنَ زُفَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: يُجْمَعُ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَلَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ فَيَكُونُ أَوَّلَ مَدْعُوٍّ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيتَ سُبْحَانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ» ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [ص:331][الإسراء: 79]

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جاۓ گا کوئی جان کلام نہیں کرے گی‘ سوسب سے پہلے حضرت محمدﷺکو بلوایا جاۓ گا‘ آپ عرض کر یں گے ’’لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيتَ سُبْحَانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ ‘‘ یہی مراد ہے اللہ کے اس ارشاد کی کہ’’عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا ‘‘( بنی اسرائیل:۷۹ ) آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 414

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 415

415 - حَدَّثَنَا دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ الْعَبْسِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ، وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ، وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ وَلَا أَتَى عَلَى آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺکے ساتھ رات کو نماز پڑھی ‘آپ اپنے رکوع میں کہتے ’’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ‘‘ اور سجدہ میں کہتے ’’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ‘‘اور آپ جب کسی رحمت والی آیت کو پڑھتے توٹھہر کر اللہ سے سوال کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت کو پڑھتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے تھے ۔

فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» وَكَانَ ← حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ بِاللَّيْلِ فَكَانَ ← صِلَةَ بْنِ زُفَرَ الْعَبْسِيِّ ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← دَاوُدُ،

Hadith 415

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 416

416 - حَدَّثَنَا دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا حَمْزَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ - شُعْبَةُ يَرَى أَنَّهُ صِلَةُ بْنُ زُفَرَ - عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي صَلَاةَ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَبَّرَ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَةَ قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ فَجَعَلَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَامَ مِثْلَ رُكُوعِهِ فَقَالَ: «إِنَّ لِرَبِّيَ الْحَمْدَ» ، ثُمَّ سَجَدَ وَكَانَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ قِيَامِهِ وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَكَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي» ، وَجَلَسَ بِقَدْرِ سُجُودِهِ، قَالَ حُذَيْفَةُ: فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَالنِّسَاءَ، وَالْمَائِدَةَ أَوِ الْأَنْعَامَ شَكَّ شُعْبَةُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺکے ساتھ نماز پڑھی ۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں :یعنی رات کی نماز ۔ سو جب آپ نے تکبیر کہی تو پڑھا: ’’اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‘‘ پھر آپ نے سورۂ بقرہ پڑھی ۔ کہا کہ پھر رکوع کیا تو آپ کا رکوع آ پ کے قیام کی مثل تھا پس آپ نے اپنے رکوع میں ’’ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ‘سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ‘‘ پڑھا ‘پھر اپنا سر مبارک اُٹھایا رکوع سے ‘تو آپ کا قیام بھی آپ کے رکوع کی مشل تھا ‘پھر آپ نے کہا:’’إِنَّ لِرَبِّيَ الْحَمْدَ ‘‘ پھر آپ نے سجدہ کیا ‘اور آپ کا سجد ہ بھی آپ کے قیام کی مشل تھا اور آپ نے سجدہ میں’’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ‘‘پڑھا پھر سجدے سے سر اُٹھایا اور دونوں سجدوں کے درمیان پڑھا: ’’رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي ‘‘ اور آپ کےدونوں سجدوں کے درمیان قعدہ بھی آپ کے سجدہ کی مثل تھا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے چار رکعت پڑھی تھیں ‘ان میں سورۂ بقرہ ‘آل عمران ‘النساء ‘المائدہ یا الانعام پڑھی‘ امام شعبہ کو شک ہے۔

أَبَا حَمْزَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← دَاوُدُ،

Hadith 416

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 417

417 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جَنَازَةِ حُذَيْفَةَ وَأَظُنُّهُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ قَالَ: سَمِعْتُ صَاحِبَ هَذَا السَّرِيرِ يَقُولُ: مَا بِي بَأْسٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بَيْتِي فَإِنْ دُخِلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ: هَا بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ "

حضرت منصور فر ماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آ دمی سے سنا اور میرا گمان ہے کہ وہ حضرت رابعی بن حراش رضی اللہ عنہ تھے‘ انہوں نے فرمایا :میں نے اس صاحب ِجنازہ سے سنا ہے ‘فرماتے تھے: میرے لیے اس میں کوئی حرج نہیں جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے :اگرتم لڑنے نکلو گے تو میں انہیں اپنے گھر میں داخل کروں گا ‘سو اگر وہ میرے ہاں داخل ہو گیا تو میں ضرور کہوں گا آؤ ! میرا اور اپنا گناہ لے کر واپس جاؤ ۔

مَا بِي بَأْسٌ بَعْدَ مَا ← صَاحِبَ هَذَا السَّرِيرِ ← رَجُلًا فِي جَنَازَةِ حُذَيْفَةَ وَأَظُنُّهُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 417

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter