مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 289
289 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ وَلَوْلَا عَبْدُ اللَّهِ مَا وَجَدْنَا أَحَدًا يُحَدِّثُنَا فَقَالَ: " إِنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ فِي حَوَاصِلِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيَقُولُ لَهُمْ عَزَّ وَجَلَّ: مَا تُرِيدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: مَا نُرِيدُ شَيْئًا، وَيَقُولُهَا ثَلَاثًا، إِلَّا أَنْ نُرَدَّ [ص:234] إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ "
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے شہداء کی ارواح کے متعلق سوال کیا (امام مسروق فرماتے ہیں: ) اور اگر حضرت عبداللہ نہ ہوتے تو ہوسکتا ہے کہ ہم کسی سے جواب نہ پاتے ‘انہوں ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ )نے فرمایا: شہداء کی ارواح جنت کی نہروں میں سیر کرتی ہیں جیسے چاہتی ہیں ‘پھر عرش کی قنادیل کے تحت آ جاتی ہیں ‘اللہ عز وجل اُن سے پوچھتا ہے تم کیا چاہتی ہو؟ وہ عرض کرتی ہیں: ہم کوئی شی نہیں چاہتیں‘ یہ تین مرتبہ کہتی ہیں‘ سواۓ اس کے کہ ہم کو دنیا میں دوبارہ واپس بھیج دیا جاۓ اور ہم کو شہید کیا جاۓ ۔
سَأَلْنَا عَبْدَ اللهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 289
