Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 397

397 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ، عَنْ شَيْخٍ، لَنَا لَمْ أُدْرِكْهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ نُهِينَا عَنْ هَذَا، فَكُرِهَ لَنَا؟» قَالَ خَبَّابٌ: اشْتَدَّ الْبَلَاءُ فَقَالَتِ الْأَطِبَّاءُ: لَا دَوَاءَ لَكَ إِلَّا ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «مَا كُنْتُ أَخَافُكَ عَلَى هَذَا»

حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے شیخ نے اپنے شیخ سے حدیث بیان کی کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس آ یا ‘انہوں نے داغ لگایا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس سے منع کیا گیا ہے؟ اور ہمارے لیے اسے ناپسند کیا گیا ہے ۔ حضرت خباب نے کہا: سخت بیماری کی وجہ سے لگایا ہے ‘طبیب حضرات نے کہا تھا کہ اس کی دواصرف یہی ہے ۔ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے آپ پر اس کا خوف نہیں ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ: «مَا كُنْتُ أَخَافُكَ عَلَى هَذَا» ← الْأَطِبَّاءُ: لَا دَوَاءَ لَكَ إِلَّا ذَلِكَ، ← خَبَّابٌ: اشْتَدَّ الْبَلَاءُ ← هَذَا، فَكُرِهَ لَنَا؟» ← قَدْ نُهِينَا ← عَبْدُ اللَّهِ: «أَمَا عَلِمْتَ ← دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى، ← شَيْخٍ، لَنَا لَمْ أُدْرِكْهُ ← شَيْخٌ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 397

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 398

398 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَشَيْبَانُ، وَقَيْسٌ، كُلُّهُمْ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ فَجَعَلَ يُعْطِي أَهْلَ الْبَيْتِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا، وَكَرِهَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس قیدی لاۓ گئے تو آپ نے سارے کے سارے اپنے اہل بیت کو دے دیئے ‘اس وجہ سے کہ آپ کوان کے درمیان جدائی نا پسندتھی ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← جَابِرٍ ← أبو عوانة وشيبان وقيس كلهم ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 398

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 399

399 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: بَايَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ بِرَقِيقٍ مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: بِعْتَنِي بِعَشَرَةِ آلَافٍ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: اخْتَرْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَخْتَارَنَّ، أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بِقَضَاءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَهُوَ بِمَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ» وَيَرْوِيهِ هُشَيْمٌ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ الاشعث بن قیس نے حکومت کے غلام کے بدلے ایک غلام خریدا ‘سوانہوں نے کسی کوان کی طرف پسینے لینے کے لیے بھیجا تو حضرت اشعث نے کہا: میں نے آپ سے دس ہزار کے بد لے خرید لیے ‘حضرت عبداللہ نے کہا: میرے اور اپنے درمیان جس آدمی کو چاہیں اختیار کر یں‘ حضرت عبداللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہارے اور اپنے درمیان وہی فیصلہ کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے ‘آپ ﷺنے فرمایا: جب دو بیع کرنے والوں کے درمیان اختلاف ہو جاۓ اور ان دونوں کے درمیان گواہ بھی نہ ہوتو دہ وہی کچھ کرے جو سامان کا مالک کہتا ہے‘ یا دونوں چھوڑ دیں ۔ اور اسے ہشیم نے از حضرت قاسم از والد خود از حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ۔

الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 399

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 400

400 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:317] قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ إِنَّهُنَّ لَيَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ» ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُوَيدِ حَتَّى جَمَعُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا ثُمَّ أَجَّجُوا نَارًا فَأَنْضَجَتْ مَا قُذِفَ فِيهَا»

حضرت عبداللہ (بن مسعود )رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچو! یہ ادنیٰ گناہ جس میں جمع ہو جائیں اسے ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں ‘نبی اکرم ﷺنے ان کی مثال ایسی قوم سے دی ہے جو خشک زمین پر اُترے اور ان کے پاس (دوسری )قوم کا کھانا بھی آ جاۓ ایک آدمی بڑی لکڑیاں جبکہ دوسرا آ دمی دو چھوٹی لکڑیاں اکٹھی کر نی شروع کر دے ‘یہاں تک کہ وہ اندھیرے میں جمع ہو جائیں ‘تھوڑی دیر بعد آگ جلائیں اور وہ چیز پک کر تیار ہو جاۓ جو اس آگ میں ڈالی گئی تھی ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عِيَاضٍ، ← عَبْدِ رَبِّهِ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 400

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 401

401 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ لِلْحُسْنِ، وَالْمُسْتَحِلَّ، وَالْمُسْتَحَلَّ لَهُ، وَلَاوِيَ الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدَّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت عبد الله ( بن مسعود) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک سود کھانے والا ‘اس کا وکیل بننے والا ‘اس کا گواہ بننے والا ‘اور اس کو لکھنے والا ‘اور خوبصورتی کے لیے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں ‘اور زکوٰۃ چھپانے والے‘ اور ہجرت کے بعد مرتد ہونے والے ‘یہ حضرت محمد ﷺکی زبان مبارک سے لعنتی قرار دیئے گئے ہیں ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 401

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 402

402 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ، أَلَا وَإِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَمَا تَهَافَتُ الذِّبَّانُ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ عز وجل نے کوئی چیز حرام نہیں کی مگر یہ کہ بے شک وہ جانتا ہے کہ تم میں سے اسے جھانک کر دیکھنے والا دیکھے گا ‘خبر دار! میں تم کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں کھینچ رہا ہوں ‘مگر اس میں تم گر ر ہے ہو جیسے کہ مکھیاں گرتی ہیں ( روشنی کے قریب)۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ، ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 402

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 403

403 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ [ص:319] عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ فَتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ وَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ وَإِنَّهُ سَيُنْقَصُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ الِاثْنَانِ فِي الْفَرِيضَةِ فَلَا يَجِدَانِ مَنْ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا»

حضرت عبداللہ ( بن مسعود )رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلا شبہ میں بھی آ دمی ہوں ‘میں دنیا سے جانے والا ہوں ‘سوتم قرآن سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ‘ اور تم علم الفرائض سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ ‘اور علم سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ ‘کیونکہ میں دنیا سے جانے والا ہوں اور عنقریب علم کم ہو جاۓ گا اور فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آ دمی کسی مسئلہ کے متعلق اختلاف کر یں گے تو کوئی ان کے درمیان فیصلہ کر نے کےلیے نہیں ملے گا۔

[ص:73] عَبْدِ اللَّهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، ← بلغني ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيُّ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 403

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 404

404 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى أَهَالِينَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأُمَمِهَا وَأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَمِهَا فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الثَّلَاثَةُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ النَّفَرُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ مَا مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِهِ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي فَقُلْتُ: يَا رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قُلْتُ: يَا رَبِّ فَأَيْنَ أُمَّتِي؟ قَالَ: «انْظُرْ عَنْ يَمِينِكِ» فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ قَدْ سُدَّتْ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ قُلْتُ يَا: رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ قِيلَ: «أَرَضِيتَ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ قَدْ [ص:321] رَضِيتُ قِيلَ: «انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ» فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ قُلْتُ: يَا رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: " هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ قِيلَ: أَرَضِيتَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ رَبِّ رَضِيتُ، قِيلَ: «فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» ، فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَخُو بَنِي أَسَدٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، قَالَ: وَذُكِرَ لَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِدَاكُمْ أَبِي وَأُمِّي إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ فَكُونُوا فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ كَثِيرًا، قَالَ: وَذُكِرَ لَنَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ نَاسًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ تَرَاجَعُوا بَيْنَهُمْ فَقَالُوا: مَا تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ أَلْفًا؟ حَتَّى صَيَّرُوا مِنْ أُمُورِهِمْ أَنْ قَالُوا: نَاسٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَزَالُوا يَعْمَلُونَ بِهِ حَتَّى مُوِّتُوا عَلَيْهِ فَبَلَغَ حَدِيثُهُمْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَيْسَ كَذَاكُمْ وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» وَذُكِرَ لَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ [ص:322] يَتْبَعُنِي مِنْ أُمَّتِي رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرْنَا فَقَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ " قَالَ: فَكَبَّرُوا قَالَ: وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ} [الواقعة: 40]

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ ﷺکے پاس تھے یہاں تک کہ ہم نے بہت زیادہ احادیث یاد کیں ‘پھر ہم اپنے گھر واپس آ گئے ‘پس جب صبح ہوئی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آ تے ‘رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ پر انبیاء کرام اور اُن کی اُمتیں اور ان کی اتباع کرنے والے پیش کیے گئے‘ چنانچہ ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ تین اُن کے اُمتی تھے اور ایک نبی گزرے اُن کے ساتھ اُن کی امت کا ایک گردہ تھا ‘اور ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ اُن کے اُمتیوں کی ایک جماعت تھی اور ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ اُن کا ایک اُمتی تھا اور ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ اُن کا کوئی بھی اُمتی نہ تھا ‘یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے ان کے ساتھ بنی اسرائیل کی ایک جماعت تھی ‘پس جب میں نے ان کود یکھا تو مجھے تعجب ہوا ‘میں نے عرض کی :اے میرے رب ! یہ کون ہیں؟ فرمایا یہ آپ کے بھائی حضرت موسی ٰبن عمران علیہ السلام ہیں اور جنہوں نے بنی اسرائیل میں سے ان کی اتباع کی ‘میں نے عرض کی :اے میرے رب! میری اُمت کہاں ہے؟ فرمایا: اپنی دائیں جانب دیکھیں !سو میں نے دیکھا تو مکہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا ہے ‘میں نے عرض کی :اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ فرمایا گیا: آپ کی اُمت ہے ‘کہا گیا :کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! میں راضی ہوں‘ پھر کہا گیا:ا اپنے بائیں جانب دیکھیں !سو میں نے د یکھا کہ آ سمان کا کنارہ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا ہے ‘میں نے عرض کی اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ کہا گیا :آپ کی اُمت ہے! کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے عرض کی: اے میرے رب! میں راضی ہوں‘ فرمایا ان کے ساتھ ستّر ہزار بھی ہوں گے جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔ توبنواسد کے حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض شروع کی: یا رسول اللہ !دعا کر یں کہ اللہ تعالی ٰمجھے بھی اُن میں شامل کرے!آ پ نے فرمایا:اے اللہ ! اس کو اُن لوگوں میں شامل کر !سوایک دو سراآ دمی اُٹھااور اس نے عرض کی :یا رسول اللہ ! میرے لیے بھی دعا کر یں کہ اللہ تعالی ٰمجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کرے! فرمایا: عکاشہ بن محصن تجھ سے سبقت لے گئے ہیں ۔ پھر فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں! ہو سکے تو اُن ستّر ہزار میں سے ہو جاؤ‘ اگر تم اس سے عاجز آ جاؤ ‘اور اگر اس میں کم ہو جاؤ تو ہو سکے تو اہل الظر اب میں سے ہو جاؤ‘ اور اگر اس سے بھی عاجز آ جاؤ ‘اور ہو سکے تو اُفق والوں میں سے ہو جاؤ کیونکہ میں نے بہت سے لوگوں کو ملتے ہوۓ دیکھا ہے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا کہ بہت سے مؤمن مرد یا مؤمن لوگ آپس میں مذاکرہ کرنے لگے کہ یہ کون لوگ ہوں گے جوستّر ہزار بے حساب و کتاب جنت میں جائیں گے‘ بعض نے کہا وہ لوگ جو اسلام پر پیدا ہوۓ اور اسلام پر ہی عمل کر تے رہے یہاں تک کہ ان کا وصال ہوا‘ ان کی یہ بات اللہ کے نبی ﷺتک پہنچی تو آپ نے فرمایا :یہ وہ نہیں ہوں گے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ لگا کر علاج کرنے والے نہیں ہوں گے‘ اور نہ جھاڑ پھونک کر نے والے ہوں گے‘ اور اپنے رب پر ہی تو کل کرتے ہوں گے‘اور ہم سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا :میں اُمید کرتا ہوں کہ جو میری اتباع کریں گے میری اُمت میں سے وہ جنت میں چوتھائی حصہ ہوں گے ۔ سو ہم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا یا ‘آ پ ﷺ نے فر مایا: مجھے اُمید ہے کہ وہ آ دھے اہل جنت میں سے ہوں گے ‘ہم نے پھراللہ اکبر کا نعرہ لگا یا ‘پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ’’ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ ‘‘(الواقعہ: ۴۰)۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 404

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 405

405 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: " إِنِّي [ص:323] غَالٌّ مُصْحَفِي فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفًا فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ {وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 161] وَلَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَصَبِيُّ مِنَ الصِّبْيَانِ، فَأَنَا أَدَعُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

حضرت (عبداللہ) ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے مصحف میں غلو کر تا ہوں ‘پس جو مصحف میں غلو کر نے کی طاقت رکھتا ہے وہ غلو کرے ‘بے شک اللہ عز وجل فرماتا ہے: اور جو چھپا کر رکھے گا وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی ہوئی چیز یں لے کر آئے گا ‘اور بے شک میں نے رسول اللہ ﷺکے منہ مبارک سے ستّر سورتیں یاد کی ہیں‘ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس وقت بچوں میں سے ایک بچے تھے ‘پس میں نے ان چیزوں کو اپنے پاس بطور امانت رکھا ہوا ہے ‘جو میں نے نبی اکر م ﷺکی زبانی نبوت سے سنی ہیں۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عمرو بن ثابت ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 405

chevron_left Previous
1…11121314
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter