Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 203

203 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ [ص:168] يَسَارِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ يُقَاتِلَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَا بَعْدَهُ»

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اُحد کے دن رسول اللہﷺکی دائیں اور بائیں دو آ دمیوں کو دیکھا اور ان پر سفید کپڑے تھے‘ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے لڑ رہے تھے‘ نہ میں نے ان کو ایسی لڑائی کر تے اس سے پہلے کبھی دیکھانہ اس کے بعد ۔

رَسُولِ اللَّهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَا بَعْدَهُ» ← يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ وَعَنْ [ص:168] يَسَارِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ يُقَاتِلَانِ ← «رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ ← سَعْدٍ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 203

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 204

204 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، سَمِعَ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ سَعْدٍ فَلَمَّا رَكَعْتُ طَبَّقْتُ يَدَيَّ وَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتِيَّ فَقَالَ لِي أَبِي: «قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ حَتَّى نُهِينَا عَنْهُ وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَبِ»

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ میں حضرت سعد( بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی‘ پس جب میں نے رکوع کیا تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ ملاۓ اور اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھے‘ تو میرے والد نے مجھے کہا کہ ہم بھی ایسا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں اس سے منع کر دیا گیا اور ہم کو حکم دیا گیا کہ ہم گھٹنوں کے اوپر ہاتھ رکھیں ۔

صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ سَعْدٍ فَلَمَّا رَكَعْتُ طَبَّقْتُ يَدَيَّ وَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتِيَّ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← اَبِیْ یَعْفُورٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 204

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 205

205 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ [ص:169] حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ قَالَ: قَالَ أَبِي: أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ قَالَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» ، ثُمَّ عَاوَدْتُهُ فَقُلْتُ: أَأُتْرَكُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] وَهِيَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ هَكَذَا «يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ» الْآيَةَ كُلَّهَا قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِطَاعَةِ الْوَالِدَيْنِ فَلَا آكُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ بِاللَّهِ فَامْتَنَعَتْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ حَتَّى جَعَلُوا يَشْجُرُونَ فَاهَا بِالْعَصَا وَنَزَلَتْ {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا} [العنكبوت: 8] وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَدَعَا نَاسًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَنَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا حَتَّى سَكِرْنَا ثُمَّ افْتَخَرْنَا فَرَفَعَ رَجُلٌ لَحْيَ بَعِيرٍ فَفَزَرَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَكَانَ سَعْدٌ مَفْزُورَ الْأَنْفِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ فَنَزَلَتْ [ص:170] {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى} [النساء: 43] وَنَزَلَتْ {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90] الْآيَةَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَعْدٍ وَهُوَ مَرِيضٌ وَأَرَادَ أَنْ يُوصِيَ بِمَالِهِ كُلِّهِ فَجَعَلَ يُنَاقِصُهُ حَتَّى بَلَغَ الثُّلُثَ قَالَ: فَالنَّاسُ يُوصُونَ بِالثُّلُثِ

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد کے متعلق چار آیات اُتری ہیں انہوں نے فرمایا کہ میرے والد نے فرمایا کہ غزوۂ بدر میں مجھے تلوارملی‘ تو میں اس کو لے کر نبی اکرمﷺکی بارگاہ میں آ یا‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! یہ مال ِغنیمت کے طور پر مجھے عطا کر یں! آ پ ﷺنے فرمایا: جہاں سے لی ہے وہاں رکھ دو‘ پھر میں نے اس کو پکڑا ‘میں نے عرض کیا: کیا مجھےچھوڑ دیا جاۓ گا‘ اس طرح جس کو کسی طرح کی کوئی ضرورت ہی نہیں‘ تو رسول اللہﷺنے فرمایا: جہاں سے پکڑی ہے اس کو وہاں رکھ دے‘ اور اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی’’يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ‘‘ (الانفال:۱) یہ حضرت عبداللہ کی قرأت ہے اسی طرح آپ سے سوال کر تے مالِ غنیمت کے بارے میں پوری آیت ۔ حضرت مصعب کہتے ہیں کہ حضرت اُم سعد نے کہا: کیا اللہ عز وجل نے والدین کے ساتھ نیکی کا حکم نہیں دیا ‘سو میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی یہاں تک کہ تو اللہ کا انکار کر دے ‘چنانچہ وہ کھانے پینے سے رُک گئی‘ حتٰی کہ لوگ اس کے منہ کولکڑی کے ساتھ کھولتے (اور اس کے ذریعہ اس کے منہ میں کوئی چیز ڈالتے تھے) اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :’’وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ‘‘(العنکبوت:۸ ) اور انصار میں سے ایک آدمی نے کھانا تیار کیا ‘ سومہا جرین و انصار میں سے کچھ لوگوں کو بلوایا ‘ہم نے کھایا اور پیا‘ یہاں تک کہ ہم نشہ کی حالت میں ہو گئے‘ پھر ہم نکلے تو ایک آ دمی نے اونٹ کی ہڈی اٹھائی اور حضرت سعد کی ناک پر ماری‘ تو حضرت سعد کی ناک زخمی ہوگئی‘ اور یہ واقعہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کا تھا ‘پس یہ آیت نازل ہوئی:’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى‘‘(النساء:۴۳ ) اور یہ آیت نازل ہوئی: ’’إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ‘‘(المائدہ:۹۰) اور رسول اللہ ﷺ حضرت سعد کے پاس تشریف لاۓ‘ اور وہ بیمار تھے اور انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنے سارے مال کی وصیت کر یں تو آپﷺان سے مسلسل کمی کرواتے رہے یہاں تک کہ تہائی تک معاملہ پہنچ گیا‘ کہا کہ پس (اس وجہ سے) لوگ تہائی کی ہی وصیت کر تے ہیں ۔

أَبِي: أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ فَقُلْتُ: ← نَزَلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكِ بْنِ [ص:142] حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 205

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 206

206 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺسے پیچے رہ گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ رہے ہیں‘ تو آپﷺنے فرمایا :کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا میرے ساتھ وہی تعلق ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔

خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: ← سَعْدٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 206

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 207

207 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَعَادَةٌ لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثٌ، وَشِقْوَةٌ لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثٌ، فَمِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ: الزَّوْجَةُ الصَّالِحَةُ، وَالْمَرْكَبُ الصَّالِحُ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ، أَوْ قَالَ: وَالْمَسْكَنُ الصَّالِحُ، وَشِقْوَةٌ لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثٌ: الْمَسْكَنُ السُّوءُ، وَالْمَرْأَةُ السُّوءُ، وَالْمَرْكَبُ السُّوءُ "

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ابن آدم کے لیے تین چیزوں میں سعادت ہےاور تین چیزوں میں بدبختی‘ ابن آدم کی سعادت ان چیزوں میں ہے: نیک بیوی‘اچھی سواری‘ وسیع گھر‘یافرمایا:اچھا پڑوسی‘ اور ابن آدم کی بدبختی ان چیزوں میں ہے:بُرے پڑوسی‘بُری بیوی اور بُری سواری میں۔

سَعْدٍ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← محمد بن أبي حميد الأنصاري ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 207

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 208

208 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَيْزَارَ بْنَ حُرَيْثٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَجِبْتُ لِلْمُسْلِمِ؛ إِذَا أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ [ص:172] احْتَسَبَ وَصَبَرَ، وَإِذَا أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ اللَّهَ وَشَكَرَ، إِنَّ الْمُسْلِمَ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِيهِ»

حضرت عمر بن رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت سعد) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:میں نےنبی اکرمﷺ سے سنا‘آپ نے فرمایا:مسلمان کے لیے تعجب ہے جب اسے تکلیف آتی ہے تو صبر کرتا ہے‘اور جب اسے کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو اللہ کی تعریف اور شکر کرتا ہے‘بے شک مسلمان کے لیے ہر شی میں اجر ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو اپنے منہ میں رکھتا ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ← الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 208

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 209

209 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الشَّجَرِ، حَتَّى يَضَعَ أَحَدُنَا كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، فَأَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ، لَقَدْ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي»

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ( جہاد کر تے) تھے اور ہمارے پاس کھانے کے لیے درختوں کے پتے کے سوا کچھ نہیں تھاحتیٰ کہ ہم میں سے کوئی ایک پاخانہ کرتا تو اس طرح جس طرح بکری مینگنی کرتی ہے‘ سو بنواسد کے لوگ مجھ کو میرے اسلام پر ملامت کر تے‘ بے شک تب تو میں بڑے خسارے میں رہتا ‘اس وقت (اگر میں ان کی بات مانتا تو) میری ساری محنت بر باد ہو جاتی ۔

سَعْدًا، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 209

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 210

210 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ) فرمایا : تیری میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ۔

سَعْدٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 210

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 211

211 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدًا عَنِ اشْتِرَاءِ السُّلْتِ، بِالْبَيْضَاءِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ سَعْدٌ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ [ص:174] فَقَالَ: «هَلْ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ فَقَالَ: «لَا» أَوْ نَهَى عَنْهُ

حضرت زید ابی عیاش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے بغیر چھلکے والے جَو کو عام جَو کے بدلے فروخت کرنے کے متعلق پوچھا‘ تو انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا ‘اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے تر کھجوروں کے بد لے خشک کھجوریں فروخت کر نے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺنے فرمایا: کیا جب تر کھجور میں خشک ہو جائیں تو اُن کا وزن کم نہیں ہو جا تا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں! فرمایا: پھر جائز نہیں‘ یا فر مایا کہ اس سے منع فرما دیا۔

«لَا» أَوْ نَهَى عَنْهُ ← نَعَمْ ← «هَلْ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» ← الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ [ص:174] ← سَعْدٌ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← اشْتِرَاءِ السُّلْتِ، بِالْبَيْضَاءِ فَكَرِهَهُ ← سَأَلْتُ سَعْدًا ← زَيْدِ أَبِي عَيَّاشٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مالک بن أنس ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 211

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 212

212 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ حَتَّى يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ صُلْبَ الدِّينِ اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ أَوْ قَدْرِ ذَلِكَ فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ»

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! لوگوں میں سب سے زیادہ آ زمائش کس پر آئی ہے؟ آپ نے فرمایا: انبیا علیہم السلام پر‘ پھر جوان سے کم درجہ ہیں‘ پھر جو ان سے کم درجہ والے ہیں یہاں تک کہ آ دمی کی اپنے دین کے متعلق آ زمائش ہوتی ہے ‘یعنی اگر دین میں سختی سے عمل پیرا ہے تو آزمائش بھی سخت‘ اگر دین میں سختی سے عمل پیرانہیں تو آ زمائش بھی نرم ‘ بند ہ ( مؤمن ) پر آزمائش اس کے حسب حال آ تی رہتی ہے حتیٰ کہ زمین پر رہتے ہوۓ (جب وہ دنیا سے جا تا ہے) تو اس پر کوئی بھی گناہ نہیں ہوتا۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 212

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 213

213 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: «أَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ظَنِّي بِكَ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی ہر معاملہ میں شکایت آئی ہے حتیٰ کہ نماز کے متعلق بھی ‘آپ نے فرمایا: میں پہلی دو (رکعتوں) کو لمبا کرتا ہوں اور آخری دوکو مختصر کر تا ہوں ‘جب سے میں نے رسول اللہﷺکی اقتداء میں نماز پڑھی ہے‘ ان میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہیں کی‘ تو آپ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا: تیرے متعلق یہی گمان تھا ‘یا میرا تیرے متعلق یہی گمان تھا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 213

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 214

214 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ فَنَزَعَهُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا فَقَالُوا: إِنَّ سَعْدًا لَا يُحْسِنُ أَنْ يُصَلِّيَ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لَهُ فَقَالَ سَعْدٌ: «أَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ [ص:176] اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَخْرِمُ عَنْهَا، صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ» فَقَالَ: عُمَرُ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہا کے ہاں شکایت کی‘ تو آپ نے ان کو گورنری کے عہدہ سے ہٹا دیا ‘اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اُن پر گورنر مقر رکیا ‘تو لوگوں نے کہا کہ حضرت سعد اچھے طریقے سے نمازنہیں پڑھاتے ہیں‘ سو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات ذکر کی تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں انہیں رسول اللہ ﷺکی نماز کی طرح نماز پڑھا تا ہوں‘ اور میں اس میں کمی نہیں کرتا ہوں ‘میں مغرب وعشاء کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت مختصر کر تا ہوں اور آ خری دونوں میں نہیں پڑھتا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابواسحاق! تیرے متعلق یہی گمان تھا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 214

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter