مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 72
72 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ وَكُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا نَسْمَعُ مِنْهُ كَلَامَ مَنْ فِي الْبَلَاطِ فَدَخَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ فَقِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِّي بِالْقَتْلِ آنِفًا وَلَمْ أَسْتَيْقِنْ ذَلِكَ مِنْهُمْ حَتَّى كَانَ [ص:72] الْيَوْمَ فَقُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي؟ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ "، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَلَا فِي الْإِسْلَامِ قَطُّ وَلَا أَحْبَبْتُ بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَعَلَامَ يُرِيدُ هَؤُلَاءِ قَتْلِي؟
حضرت ابوامامہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اس گھر میں جس میں وہ بند کیے ہوۓ تھے‘ اور ہم آپ کے پاس ادھر سے داخل ہوۓ کہ ہم آپ کا کلام سنتے تھے‘ بلاط میں کون ہے؟ پس حضرت عثان رضی اللہ عنہ آۓ پھر نکلے‘ تو آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا ‘آ پ سے عرض کی گئی: اے امیر المؤمنین ! کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے ابھی قتل کے متعلق ڈرا رہے ہیں‘ اور مجھے اس پر یقین نہیں ہے یہاں تک کہ آج کا دن ۔ ہم نے عرض کی: اے امیر المؤمنین ! اللہ آپ کو کافی ہے‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے کیوں قتل کیا جاۓ گا؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں سواۓ تین چیزوں کے‘ (۱) جوا سلام لانے کے بعد کافر ہو جاۓ (۲) اور جس نے شادی کے بعد زنا کیا (۳) جس نے بغیر وجہ کے کسی کوقتل کیا۔ سو اللہ کی قسم ! میں نے نہ جاہلیت میں اور نہ ہی اسلام میں کبھی زنا کیا نہ میں نے دین بدلا ہے جب سے اللہ عزوجل نے مجھے ہدایت (اسلام) کی سعادت عطا کی ہے ‘اور نہ میں نے کسی کوقتل کیا ہے‘ سو یہ بتائیں کہ مجھے کیوں قتل کر رہے ہیں؟
أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 72
