Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 55

55 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى [ص:59] الْمَكِّيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمُ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ أَوْ قَالَ: بِالْإِفْلَاسِ "

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو خطبہ ارشاد فرماتے سنا: جس نے مسلمانوں پر ذخیرہ اندوزی کی‘ اللہ عز وجل اس کو کوڑھ اور تنگدستی کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔

بِالْإِفْلَاسِ ← مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمُ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ أَوْ ← رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ وَهُوَ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبُو يَحْيَى [ص:59] الْمَكِّيُّ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 55

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 56

56 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " كُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ: «لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ»

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوۓ سنا‘ آپ نے لوگوں پر فتوحات کا ذکر گیا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا‘ ایک دن آپ کو شد ید بھوک لگی ہوئی تھی‘ آ پ ردّی کھجور بھی نہیں پاتے تھے کہ جس کے ساتھ آپ اپنے پیٹ کو بھر سکیں ۔

آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ. ← عُمَرُ كُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ: «لَا تَرْغَبُوا ← أَبِيهِ ← عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 56

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 57

57 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ فَذَكَرَ مَا فُتِحَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَوِي يَوْمَهُ مِنَ الْجُوعِ مَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ»

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوۓ سنا‘ آپ نے لوگوں پر فتوحات کا ذکر گیا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا‘ ایک دن آپ کو شد ید بھوک لگی ہوئی تھی‘ آ پ ردّی کھجور بھی نہیں پاتے تھے کہ جس کے ساتھ آپ اپنے پیٹ کو بھر سکیں ۔

مَا فُتِحَ عَلَى النَّاسِ ← عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 57

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 58

58 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، أَنَّهُ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ فَقَالَ: «هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت صبی بن معبد فرماتے ہیں کہ انہوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا‘ یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتائی گئی تو آپ نے فرمایا: تجھے اپنے نبیﷺ کی سنت کی ہدایت دی گئی ہے ۔

هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ ← ذَلِكَ لِعُمَرَ، ← الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، أَنَّهُ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا ← أَبِي وَائِلٍ ← الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 58

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 59

59 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ كَانَ نَصْرَانِيًّا تَغْلِبِيًّا أَعْرَابِيًّا، فَأَسْلَمَ فَسَأَلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فَقِيلَ لَهُ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَرَادَ أَنْ يُجَاهِدَ فَقِيلَ لَهُ: أَحَجَجْتَ؟ فَقَالَ: لَا فَقِيلَ لَهُ: حُجَّ وَاعْتَمِرْ ثُمَّ جَاهِدْ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْحَوَائِطِ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا فَرَآهُ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ فَقَالَا: لَهُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِهِ أَوْ مَا هُوَ بِأَهْدَى مِنْ نَاقَتِهِ فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا فَقَالَ: «هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صبی بن معبد نصرانی تغلبی دیہاتی آدمی تھے‘ سو مسلمان ہو گئے ‘تو انہوں نے پوچھا: کون ساعمل افضل ہے؟ ان سے کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کر نا‘ تو انہوں نے جہاد کا ارادہ کیا‘ ان سے کہا گیا :کیا آپ نے حج کیا ہے؟ ( حضرت معبد نے )کہا کہ نہیں! سو اُن کو کہا گیا :حج اور عمرہ کر و پھر جہاد کرنا‘ سو وہ حج کے لیے چلے‘ حتیٰ کہ جب حواط پر پہنچے تو انہوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تو اُن کو حضرت زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ نے ایسی حالت میں دیکھا ‘ان دونوں نے کہا کہ یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ جاہل ہے‘ یا کہا کہ یہ تو اونٹنی سے بھی زیادہ سمجھدار نہیں‘پس دو حضرت عمر کے پاس آۓ اور انہیں ان دونوں کے قول کے متعلق بتایا ‘تو انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا تیری اپنے نبی حضرت محمد ﷺکی سنت کی رہنمائی کی گئی ہے ۔

أَبِي وَائِلٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 59

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 60

60 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ [ص:62] مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " ثَلَاثٌ لَأَنْ يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ: الْخِلَافَةُ وَالْكَلَالَةُ وَالرِّبَا "، فَقُلْتُ لِمُرَّةَ: وَمَنْ يَشُكُّ فِي الْكَلَالَةِ هُوَ مَا دُونَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ قَالَ: إِنَّهُمْ يَشُكُّونَ فِي الْوَالِدِ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین چیزوں کے متعلق سوال کرنا مجھے سرخ اونٹ صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے (۱) خلافت (۲) کلالہ (۳) اور ر با ( سود کے متعلق )۔ میں نے مرہ سے کہا: کلالہ میں کون شک کرتاہے؟ ( کلالہ ) وہ ہے جس کا نہ بیٹا ہو نہ باپ ۔ کہا کہ وو باپ کے( نہ ہونے) بارے شک کرتے تھے ۔

مُرَّۃُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 60

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 61

61 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَدِيثًا مِنْ رَجُلٍ فَأَعْجَبَنِي فَاشْتَهَيْتُ أَنْ أَكْتُبَهُ فَقُلْتُ: اكْتُبْهُ لِي فَأَتَانِي بِهِ مَكْتُوبًا مُزَبَّرًا، قَالَ [ص:63]: دَخَلَ الْعَبَّاسُ، وَعَلِيٌّ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ قَالَ: وَعِنْدَ عُمَرَ، طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَقَالَ لَهُمْ عُمَرُ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَوَلَمْ تَعْلَمُوا أَوَلَمْ تَسْمَعُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ كُلَّ مَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةٌ إِلَّا مَا أَطْعَمَهُ أَهْلَهُ أَوْ كَسَاهُمْ إِنَّا لَا نُورَثُ» ؟ فَقَالُوا: بَلَى فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ عَلَى أَهْلِهِ وَيَتَصَدَّقُ بِفَضْلِهِ

حضرت ابوبختری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے حدیث سنی ‘تو مجھے پسند آئی ‘سو میں نے چا ہا کہ اس کو لکھ لوں‘ میں نے کہا: اس کو میرے لیے لکھ دو‘ پس میں اس کے پاس ایک بند خط لا یا‘ کہا کہ حضرت عباس ومولا علی رضی اللہ عنہما‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آۓ اور وہ دونوں جھگڑ رہے تھے‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت طلحہ و زبیر وسعد وعبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم تھے‘ ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کواللہ کی قسم دیتا ہوں‘ کیا تم نے سنا نہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے: نبی ﷺ کا ہر مال صدقہ ہے مگر جو انہوں نے اپنے اہل خانہ کوکھلا یا یا پہنایا ‘ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہیں؟ ان سب نے کہا: کیوں نہیں ! رسول اللہﷺاپنے مال سے اپنے خاندان پر خرچ کرتے تھے اور باقی کوصد قہ کرتے تھے ۔

أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 61

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 62

62 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: «أَمِسُّوا فَقَدْ سُنَّتْ لَكُمُ الرُّكَبُ»

حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مزدلفہ میں موجود تھا ‘صبح کی نماز کے بعد آپ ٹھہرے پس فرمایا :بے شک مشرکین سورج کے طلوع ہونے سے پہلے نہیں لوٹتے تھے‘ وہ کہتے تھے ( کوہ) ثبیر روشن ہو‘ اور رسول اللہ ﷺان کی مخالفت کرتے‘ سوحضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی سورج طلوع ہونےسے پہلے لوٹ جاتے تھے۔

عمر أمسوا فقد سنت لكم الركب ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← أَبِي حَصِينٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 62

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 63

63 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِجَمْعٍ بَعْدَمَا صَلَّى الصُّبْحَ وَقَفَ فَقَالَ: " إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَيَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ " فَأَفَاضَ عُمَرُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ

حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مزدلفہ میں موجود تھا ‘صبح کی نماز کے بعد آپ ٹھہرے پس فرمایا :بے شک مشرکین سورج کے طلوع ہونے سے پہلے نہیں لوٹتے تھے‘ وہ کہتے تھے ( کوہ) ثبیر روشن ہو‘ اور رسول اللہ ﷺان کی مخالفت کرتے‘ سوحضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی سورج طلوع ہونےسے پہلے لوٹ جاتے تھے۔

شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِجَمْعٍ بَعْدَمَا صَلَّى الصُّبْحَ وَقَفَ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 63

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 64

64 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: " أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي [ص: 65] الدُّنْيَا وَتَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَوَّجَ أَحَدًا مِنْ بَنَاتِهِ وَلَا تَزَوَّجَ أَحَدًا مِنْ نِسَائِهِ بِأَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُغْلِي صَدَقَةَ الْمَرْأَةِ حَتَّى يَكُونَ فِدَاؤُهُ لَهَا فَيَقُولُ: قَدْ كَلِفْتُ لَكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ "، أَوْ قَالَ: «عَرَقَ الْقِرْبَةِ»

حضرت ابوعجفاءالسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا‘ فرمایا: خبر دار! عورتوں کے حق مہر میں غلو نہ کرو‘ کیونکہ اگر یہ دنیا میں عزت والا ہوتا تو اللہ کے ہاں بھی تقویٰ والا ہوتا ‘تم میں سے سب سے زیاد وحق دار حضرت محمد ﷺکی ذات ہوتی‘ آ پ نے کسی عورت سے شادی نہیں ‘کی نہ اپنی بیٹی کی مگر اُن کا حق مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہ ہوتا تھا‘ بے شک تم میں کوئی عورت کے حق مہر میں غلو کر تا ہے یہاں تک کہ اس کا وہ مہر مقرر کر دیتا ہے‘ وہ کہتا ہے کہ میں اس عورت کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوں ۔

خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِي ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 64

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 65

65 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْجَرَّاحِ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ آلِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ زَارَ قَبْرِي» أَوْ قَالَ: «مَنْ زَارَنِي كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺکو فرماتے سنا: جس نے میری قبر کی زیارت کی‘ یا یہ فرمایا :جس نے میری زیارت کی‘ میں اس کا سفارشی ہوں گا‘ یا اس کا گواہ ہوں گا اور جو کوئی حرمین میں کسی ایک جگہ فوت ہوا تو اللہ عز وجل اس کو قیامت کے دن امن والوں میں سے اٹھاۓ گا۔

من زار قبري أو ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ، ← رَجُلٍ مِنْ آلِ عُمَرَ ← سوار بن ميمون أبو الجراح العبدي ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 65

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 66

66 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ، يَقُولُ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ فَقَالَ: «أُوصِيكُمْ بِأَهْلِ الذِّمَّةِ فَإِنَّهُمْ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت جویر یہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ شریف آ یا تو میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جس وقت آپ کو نیز ہ مارا گیا تھا ‘ آپ نے فرمایا: میں تم کو اہل ذمہ کے متعلق وصیت کرتا ہوں ‘کیونکہ وہ تمہارے نبیﷺکے ذمہ ہیں ۔

«أُوصِيكُمْ بِأَهْلِ الذِّمَّةِ فَإِنَّهُمْ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ ← قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ ← جُوَيْرِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ← أَبُو جَمْرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 66

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter