Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 43

43 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذُبْيَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ: لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ»

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوۓ فرمایا کہ تم عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ‘ کیونکہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا : جو آ دمی دنیا میں ریشم پہنتا ہے‘ اس کو آخرت میں ریشم نہیں پہنا یا جاۓ گا۔

عُمَرَ، ← وهو يخطب الناس لا تلبسوا نساءكم الحرير فإني ← ابْنُ الزُّبَيْرِ ← أبا ذبيان ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 43

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 44

44 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْأَرْنَبِ فَقَالَ: لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ أَزِيدَ أَوْ أَنْقُصَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ الْأَعْرَابِيِّ حِينَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَرْنَبِ فَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى بِهَا دَمًا فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْكُلُوهَا وَقَالَ لِلْأَعْرَابِيٍّ: «ادْنُ فَكُلْ» ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ [ص:50] فَقَالَ: «أَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ؟» فَقَالَ: مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ وَآخِرِهِ قَالَ: «فَإِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ اللَّيَالِيَ الْبِيضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ» وَلَكِنْ أَرْسِلُوا إِلَى عَمَّارٍ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَجَاءَهُ فَقَالَ: أَشَاهِدٌ أَنْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ فَقَالَ: رَأَيْتُهَا تَدْمَى؟ فَقَالَ عَمَّارٌ: نَعَمْ

حضرت ابن حوتکیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خرگوش لا یا گیا‘ تو آپ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ( مجھے )زیادتی یا کمی کا خوف نہ ہوتا تو میں ضرور اعرابی کی حدیث بیان کرتا ‘جس وقت وہ ( د یہاتی ) رسول اللہﷺکے پاس خرگوش لے کر آیا ‘اس نے ذکر کیا کہ اس نے اس کا خون دیکھا ہے؟ تو آپ نے اُن کو کھانے کا حکم دیا‘ اور آپ ﷺ نے اعرابی سے فرمایا: قریب آؤ! اس (خرگوش) کو کھاؤ! اس نے عرض کی: میں روزہ کی حالت میں ہوں‘ آپﷺنے فرمایا :تو نے کون سا روزہ رکھا ہوا ہے؟ اس نے کہا :مہینہ کے اوّل اور آخر کے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اگر تو نے روزے رکھنے ہیں تو ایام بیض کے روزے رکھ لیا کر‘ (ایام بیض یہ ہیں) تیرہ‘ چودہ‘ پندرہ تاریخ ( چاند کی) لیکن آپ لوگ عمار کے پاس جاؤ‘ان کو بلا کر لا ؤ ۔ سوانہوں نے انہیں بھیجا تو وہ ( یعنی حضرت عمار رضی اللہ عنہ ) آ ۓ تو (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا: آپ رسول اللہﷺ کے لیے گواہ ہیں جس وقت دیہاتی خرگوش آ پ کے پاس لے کر آ یا تھا اور اس نے کہا تھا کہ میں نے اس کا خون دیکھا ہے ۔ تو انہوں ( حضرت عمار رضی اللہ عنہ ) نے عرض کی جی ہاں! ( اے امیر المؤمنین ! میں اس بات کا گواہ ہوں ) ۔

لَوْلَا مَخَافَةُ ← أُتِيَ عُمَرُ ← ابْنِ الْحَوْتَکِيَّةِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← حكيم بن جبير ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 44

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 45

45 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ [ص:51] بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ فَمُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ فَقَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَعْيُنَهُمْ - وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَةٌ كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ، أَوْ عَلَى رَأْسِ عُمَرَ» فَهَذَا فِي الدَّرَجَةِ الْأُولَى - وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ كَأَنَّمَا يَضْرِبُ جِلْدَهُ شَوْكُ الطَّلْحِ مِنَ الْجُبْنِ أَتَاهُ سَهْمُ غَرْبٍ فَقَتَلَهُ فَهَذَا فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهُ حَتَّى قُتِلَ فَهَذَا فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ، وَرَجُلٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَهَذَا فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ "

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا :شہداءچارقسم کے ہیں‘ ایک دو مؤمن جوعمدہ ایمان والا ہو ‘ دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہو جاۓ تو وہ اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھاۓ‘ سو وہ ( اللہ کی راہ میں) لڑے یہاں تک کہ شہید ہو جاۓ‘ سو یہ وہ ہے جس کی طرف لوگ اپنی آ نکھیں اور سر اٹھا کر دیکھیں گے‘ اور آپ نے اپنا سر انور اٹھایا یہاں تک کہ وہ ٹو پی گرگئی جو آپ کے سر پرتھی‘ یا وہ ٹوپی جوحضرت عمر کے سر پر تھی‘ یہ شہید پہلے درجے میں ہو گا‘ اور وہ شخص عمدہ ایمان کا مالک ہے جب اس کا آمنا سامنا دشمن سے ہو جاۓ اور وہ دشمن اس مجاہد کے جسم پر بز دلی دکھاتے ہوۓ کیکر کے کانٹے کی طرح حملہ آور ہواور ایک اجنبی تیر اس مجاہد کو قتل کر دے تو یہ شہید دوسرے درجے میں ہو گا ‘اور وہ مرد مؤمن جس کے اچھے اور بُرے عمل دونوں ہوں‘ دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا تو اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھاۓ یہاں تک کہ شہید ہو جاۓ ‘سو وہ تیسرے درجہ میں ہو گا‘ اور وہ شخص جس نے اپنی جان پرظلم کیا ‘پھر دشمن سے اس کا آ منا سامنا ہوا تو اس نے لڑائی کی ‘حتیٰ کہ وہ شہید ہو گیا تو وہ چوتھے درجہ میں ہوگا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ: ← أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ؛ ← عَبْدِ اللَّهِ [ص:51] بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 45

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 46

46 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَآهُ وَقَدْ أَضَاعَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَهُ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ كَانَ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا‘ پس اس کے مالک کو دیکھا کہ وہ اس گھوڑے کو ضائع کر رہا ہے اوراس کا ارادہ تھا کہ اس کو فروخت کر دے تو انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے نبی اکر م ﷺسے اس کے متعلق پو چھا کہ میں اس کو خرید لوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اسے نہ خرید و ‘اگر چہ وہ ایک درہم میں (فروخت) ہو‘ کیونکہ اس شخص کی مثال جو اپنے صدقہ میں لوٹتا ہے‘ اس کتے کی طرح ہے جواپنی قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 46

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 47

47 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ بْنَ [ص:53] الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْأَلِ الرَّجُلَ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَامَنَّ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ» وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ

حضرت اشعث بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مہمان نوازی کی‘ آپ نے فرمایا :اے اشعث ! مجھ سے تین باتیں یاد کر لو‘ میں نے ان تین باتوں کو رسول اللہﷺسے یاد کیا ہے‘ آدمی سے اس کے متعلق نہیں پو چھا جاۓ گا کہ تُو نے اپنی بیوی کو کیوں مارا تھا‘ اور ہرگز وتر پڑھے بغیر نہ سونا ‘اور تیسری بات میں بھول گیا ہوں ۔

يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ ← ضِفْتُ عُمَرَ بْنَ [ص:53] الْخَطَّابِ ← الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ← دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 47

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 48

48 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ وَصَلَاةُ اللَّيْلِ رَكْعَتَانِ وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ [ص:54] تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ» عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعتیں اور رات کی دورکعتیں اور جمعہ کی دورکعتیں مکمل نماز ہے‘ نبی کریم ﷺکی زبان مبارک سے قصر نہیں بیان ہو ئیں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 48

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 49

49 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ، عَنْ أَحَدِ النَّفْرِ الَّذِينَ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ: مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الْبُيُوتِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟ لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ بَعْدُ فَقَالَ: «أَمَّا مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَيَغْسِلُ يَدَهُ وَفَرْجَهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ الْمَاءَ، وَأَمَّا قِرَاءَةُ [ص:55] الْقُرْآنِ فَنُورٌ فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ»

کچھ لوگوں سے روایت ہے جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آۓ ‘انہوں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین ! ہم آپ کے پاس آۓ ہیں تا کہ ہم آپ سے تین باتیں پوچھیں‘ (۱) حالت حیض میں مرد کے لیے بیوی کا کون سا حصہ جائز ہے ( فائدہ اٹھانے کے لیے )؟ اور غسل جنابت کے متعلق اور گھروں میں قرآن پڑھنے کے متعلق۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ ! بے شک تم نے مجھ سے ایسا سوال کیا جو میں نے رسول اللہﷺسے کیا تھا‘ آپ سے اس کے بعد کسی نے سوال نہیں کیا ‘فرمایا کہ بہر حال حالت حیض میں آدمی کے لیے جو چیز حلال ہے‘ وہ یہ ہے کہ آ دمی ( بیوی کے ساتھ حالت حیض میں) تہبند کے اوپر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے‘ اورغسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ آ دمی اپنی شرمگاہ اور اپنے ہاتھ کو دھوئے ‘پھر وضو کرے‘ اور اپنے سر اور اپنے جسم پر پانی ڈالے‘ رہی قرآن پاک کی تلاوت کی بات تو وہ نور ہے‘ جو چا ہے اپنے گھروں کو اس سے منور کر ے ۔

شَيْءٍ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ بَعْدُ ← عُمَرُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟ لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي ← قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الْبُيُوتِ؟ ← الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ← ثَلَاثِ خِصَالٍ: مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ ← أَحَدِ النَّفْرِ الَّذِينَ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 49

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 50

50 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ "

حضرت عبداللہ بن سرجس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کود یکھا کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ و یا ‘پھر حجر اسود کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے تیرا بوسہ لیا ‘میں جانتا ہوں کہ تُو پتھر ہے‘ اور اگر میں نے رسول اللہﷺکو تجھے بوسہ دیتے ہوۓ نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرا بھی بوسہ نہ لیتا۔

رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَبَّلَ الْحَجَرَ ثُمَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 50

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 51

51 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ [ص:56] لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اگر تم اللہ کی ذات پرایسے ہی بھروسہ کرو جس طرح پر ندے بھروسہ کر تے ہیں تو تمہیں بھی اللہ رزق عطا فرماۓ گا جس طرح پرندوں کو عطا کرتا ہے‘ وہ اپنے گھونسلوں میں خالی پیٹ صبح کرتے ہیں‘ اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← عبد الله بن هبيرة ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 51

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 52

52 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ عُمَرُ: لِمَ تَحْتَبِسُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ فَقَالَ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا؟ أَوَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ» ؟

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعۃ المبارک کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک ایک آ دمی ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ) آ ۓ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جمعہ کا خیال کیوں نہیں کرتے ہو؟ ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے) عرض کی: اے امیر المؤمنین! جیسے ہی اذان ہوئی میں نے وضو کیا پھر فورا ًآ گیا ‘فرمایا :کیا وضو ہی کیا ‘کیا تم لوگوں نے رسول اللہ ﷺکا ارشاد نہیں سنا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آۓ تو اس کوغسل کر نا چاہیے۔

إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ ← وَالْوُضُوءَ أَيْضًا؟ أَوَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ ← النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ ← الجمعة ← عُمَرُ لِمَ تَحْتَبِسُونَ ← بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 52

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 53

53 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا لَحُضُورَ أَجَلِي وَإِنَّ قَوْمًا يَأْمُرُونِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَلَا خِلَافَتَهُ وَالَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالْخِلَافَةُ بَيْنَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ الَّذِينَ فَارَقُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ وَإِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا هُوَ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنَ الْكَلَالَةِ وَمَا نَازَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ صَحِبْتُهُ مَا نَازَعْتُهُ فِي شَيْءٍ فِي الْكَلَالَةِ وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مُنْذُ صَحِبْتُهُ مَا أَغْلَظَ لِي فِي الْكَلَالَةِ حَتَّى ضَرَبَ بِيَدِهِ قِبَلَ صَدْرِي وَقَالَ: «يَا عُمَرُ إِنَّمَا يكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ» ، ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلُ وَالثُّومُ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ آكِلَهُمَا لَا بُدَّ فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو اس خطبہ میں نبی اکرم ﷺاور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا‘ پھر فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغا مجھے ٹھوگے مار رہا ہے‘ ایک ٹھونگا یا دو‘ اور میرا خیال ہے کہ میری موت قریب ہے اور میری قوم مجھ کو حکم دیتی ہے کہ میں خلیفہ مقرر کروں‘ بے شک اللہ عز وجل اس دین اور اس خلافت کو ضائع کر نے والانہیں ہے‘ وہ ذات جس نے اپنے نبیﷺکو اس کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے‘ اگر مجھ سے اس معاملہ میں جلدی چاہتے ہوتو خلافت کا معاملہ ان چار افراد کے درمیان طے کر لینا کیونکہ جب رسول اللہﷺاس دنیا سے تشریف لے گئے تھے تو آپ ان سے راضی تھے‘ اور بلا شبہ میں اپنے بعد کسی اہم مسئلہ کو نہیں چھوڑ کر جار ہا ہوں سواۓ کلالہ کے ‘اور میں رسول اللہﷺسے کسی مسئلہ میں نہیں جھگڑ ا جب تک میں آپ کی صحبت میں رہا سواۓ کلالہ کے‘ مجھ پرکسی قسم کی سختی نہیں کی گئی‘ جتنی سختی مسئلہ کلالہ کے مسئلہ میں کی گئی ہے ‘یہاں تک کہ آپ نے اپنا دست مبارک میرے مینہ کی طرف جانب مارا اور فرمایا : اے عمر ! تجھ کو گرمی والی سورۃ کافی ہے جو سورۂ نساء کے آخر میں نازل ہوئی ہے‘ پھر فرمایا: اے لوگو! بے شک تم ان دونوں درختوں سے کھاتےہو‘یہ دونوں خبیث ہیں ‘یعنی پیاز اور لہسن اور بلاشبہ میں رسول اللہﷺکو دیکھا تھا کہ جب آپ ان کی کسی آ دمی سے بد بو پاتے تھے تو آپ اس کے متعلق حکم دیتے تھے کہ اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاۓ ‘سوتم میں سے جس نے اس کو کھا نا ہو‘ وہ ان کو پکا کر کھاۓ ۔

خطب عمر يوم الجمعة ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 53

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 54

54 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: " أَلَا فَمَنْ ظَلَمَهُ أَمِيرُهُ فَلْيَرْفَعْ ذَلِكَ إِلَيَّ أُقِيدُ مِنْهُ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَئِنْ أَدَّبَ رَجُلٌ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ رَعِيَّتِهِ لَتُقِصُّهُ مِنْهُ؟ قَالَ: كَيْفَ لَا أُقِصُّهُ مِنْهُ وَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ»

حضرت ابوفراس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا تو ارشادفر مایا :خبر دار! جس کا امیر اس پر ظلم کرے وہ مجھے اس بارے بتاۓ میں اس کو بدلا دلاؤں گا۔ تو حضرت عمرو بن عاص رضی الله عنہ کھرے ہوئے‘عرض کی: اے امیرالمؤمنین ! اگر کوئی امیر اپنی رعیت کو ادب سکھانے کے لیے مارے‘ تو آپ اس کا اس سے بھی بدلہ دلائیں گے؟ آپ نے فرمایا: کیسے میں اس کو اس سے بدلہ نہ دلا ؤں گا ‘حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺکود یکھا کہ آپ اپنے آپ سے بدلہ دلا رہے تھے ۔

خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← أَبِي فِرَاسٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← محمد بن أبي سليمان ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 54

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter