مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 97
97 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَيُكَنُّونَهُ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَبَا الْمُوَرِّعِ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ، بِأَبِي مُحَمَّدٍ، وَكَانَ مِنْ هُذَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَلَا يَدَعْ فِيهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَخَهَا، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ؟» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَكَأَنَّهُ هَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَجَعَ فَقَالَ: مَا أَتَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى لَمْ أَدَعْ فِيهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَخْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَادَ لِصَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْهَا» ، فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا، وَقَالَ لِعَلِيٍّ: «لَا تَكُنْ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ فَإِنَّ أُولَئِكَ الْمَسْبُوقُونَ فِي الْعَمَلِ»
حضرت حکم ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں جو بصرہ کا رہنے والا تھا ‘اہل بصرہ کے ہاں اس کی کنیت ابوالمورع تھی اور اہل کوفہ کے ہاں اس کی کنیت ابومحمد تھی اور قبیلہ ہذیل سے اس کا تعلق تھا‘ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :رسول اللہﷺایک جنازہ میں حاضر تھے‘ آپ نے فرمایا: کون ہے جو مد ینہ جاۓ وہاں کوئی بت ہو تو اس کو تو ڑ دے اور تصویر ہوتو اس کو مٹا دے‘ اور کوئی قبر ہوتو اس کو برابر کر دے۔ تو قوم میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا‘ عرض کی یارسول اللہ ! یہ کام میں سرانجام دیتا ہوں‘ پس وہ آ دمی گیا ‘گو یا کہ اہل مد ینہ نے اس کو بھگا دیا ‘سووہ واپس آ گیا ‘تو حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے پس والیس آ گئے ‘سوعرض کی :یا رسول اللہ ! میں کسی بت کو تو ڑے بغیر نہیں چھوڑوں گا اور نہ کسی قبر کو مگر یہ کہ اس کو برابر کر دوں گا اور نہ کوئی تصویر چھوڑوں گا مگر یہ کہ میں اس کو مٹا دوں گا۔ تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جو ان میں سے کسی شے کو دوبارہ بناۓ گا تو آپ نے اس کے متعلق سخت ارشاد فر مایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفر مایا :فتنہ پھیلانے والا اور تکبر کر نے والا نہ ہونا اور اچھا تا جر بنا بے شک یہی لوگ عمل میں سبقت کرنے والے ہیں ۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَيُكَنُّونَهُ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَبَا الْمُوَرِّعِ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ، بِأَبِي مُحَمَّدٍ، وَكَانَ مِنْ هُذَيْلٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 97
