مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 661
661 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: «وَعَدَنِي جِبْرِيلُ فَلَمْ أَرَهُ مُنْذُ ثَلَاثٍ» قَالَ: فَظَهَرَ كَلْبٌ خَرَجَ مِنْ بَعْضِ الْبُيُوتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ فَظَهَرَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: " يَا جِبْرِيلُ كُنْتَ إِذَا وَعَدْتَنِي أَتَيْتَنِي فَمَا لَكَ الْآنَ؟ فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ [ص:20] كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ "
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ پر غم کے آثار تھے میں نے عرض کی یارسول اللہ کیا وجہ ہے فرمایا مجھ سے جبرائیل علیہ السلام نے ملاقات کا وعدہ کیا تھا لیکن میں نے تین دن سے ان کو نہیں دیکھا فرمایا پس ایک کتا کسی گھر سے باہر نکلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام ظاہر ہوئے آپ نے فرمایا اے جبرائیل علیہ السلام آپ نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا سو آپ اب تشریف لائے ہیں عرض کی یارسول اللہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں کتا اور تصویر ہو ۔
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ فَقُلْتُ: ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← كُرَيْبٍ، ← خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 661
