Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 625

625 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ، أَوْ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا»

حضرت عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن کو منہ سے علیحدہ کرکے تین مرتبہ سانس لیتے تھے یا تین تینسانس لیتے تھے۔

«كَانَ النَّبِيُّ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ، أَوْ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا» ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 625

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 626

626 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، يُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ [ص:510] الْأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ»

حضرت عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت کرتے تھے ہم کو وہ ایسے سنائی دیتی تھی پہلی رکعت میں لمبی قرأت کرتے تھے اور دوسری میں مختصر کرتے تھے اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت کرتے تھے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 626

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 627

627 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْجِهَادَ، فَلَمْ يُفَضِّلْ عَلَيْهِ شَيْئًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو اس خطبہ میں جہاد کا ذکر کیا فرمایا فرض جہاد سے افضل کوئی شے نہیں ہے۔

خطب رسول الله فذكر الجهاد فلم يفضل عليه شيئا إلا المكتوبة ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 627

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 628

628 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَيْنَ أَنَا؟ فَقَالَ: «إِنَّ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، فَأَنْتَ فِي الْجَنَّةِ» ، ثُمَّ سَكَتَ وَرُئِينَا أَنَّهُ [ص:511] يَنْزِلُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ الرَّجُلُ؟» ، فَقَالَ: هَاأَنَذَا، قَالَ: «إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَإِنَّهُ مَأْخُوذٌ بِهِ، كَذَلِكَ زَعَمَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا 'ہوا اس نے عرض کی یارسول اللہ آپ بتائیں کہ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں تو میں کہا ہوگا آپ نے فرمایا اگر تو اللہ کی راہ میں لڑے صبر کرے اور ثواب کی نیت کرے آگے بڑھتے ہوئے پیچھے نہیں بھاگتے ہوئے تو جنت میں جائے گا پھر آپ خاموش ہو گئے اور ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے پھر فرمایا وہ آدمی کہا ہے اس نے عرض کی میں یہاں ہی ہوں فرمایا سوائے اس کے کہ جس پر قرض ہو تو اسے پکڑ ہوگی تو وہ جنت میں نہیں جائے گا قرض ادا کیے جانے سے پہلے اسی طرح کے خیالات حضرت جبرائیل علیہ السلام کا بھی ہے۔

قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 628

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 629

629 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا صَلَّى عَلَيْهَا، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا قَالَ لِأَهْلِهَا: «شَأْنَكُمْ بِهَا» ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب جنازہ لایا جاتا ہے تو آپ اس کے متعلق پوچھتے' اگر اس کی تعریف کی جاتی تو آپ اس کا جنازہ پڑھتے اور اگر اس کی برائی بیان کی جاتی تو آپ اس کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 629

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 630

630 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ طَلِيعَةً، وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمُونَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، قَالَ: فَرَأَيْنَا حِمَارًا فَاسْتَعَرْتُ مِنْهُمْ سَوْطًا، فَأَبَوْا أَنْ يُعِيرُونِي، فَاخْتَلَسْتُهُ مِنْ بَعْضِهِمْ، فَأَصَبْتُهُ [ص:512] فَنَحَرْتُهُ فَأَبَوْا أَنْ يَأْكُلُوا مَعِي، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا صَنَعْنَا شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا وَأَطْعِمُونَا»

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور صحابہ کرام حالت احرام میں تھے اور وہ حالت احرام میں نہیں تھا فرمایا کہ ہم نے ایک وحشی گدھا دیکھا میں نے اس سے کوڑا عاریتاً مانگا تو انہوں نے مجھے عاریتاً دینے سے انکار کر دیا تو میں نے ان میں سے بعض سے اچک لیا پھر میں نے اس کو شکار کرکے اس کو ذبح کیا تو انہوں نے میرے ساتھ کھانے سے انکار کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ہم نے ایسا کچھ کیا کیا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے تو آپ کو ساری تفصیل بتائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خود بھی کھاؤ اور ہم کو بھی کھلاؤ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 630

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 631

631 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ مَعَ أَصْحَابِي، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَضْحَكُ إِلَى بَعْضٍ فَنَظَرْتُ، فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ وَأَثْبَتُّهُ فَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي فَأَكَلْنَا مِنْهُ، وَخَشِيتُ أَنْ يُقْتَطَعَ قَوْمِي، فَانْطَلَقْتُ أَرْفَعُ فَرَسِي أَطْلُبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ رَجُلًا فِي جَوْفِ اللَّيْلِ مِنْ غِفَارٍ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بِالسُّقْيَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ [ص:513] السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَقَدْ خَشَوْا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ، فَانْتَظِرْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، وَمَعِيَ مِنْهُ فَاضِلَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ: «كُلُوا» وَهُمْ مُحْرِمُونَ

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے حدیبیہ کے سال فرماتے ہیں میرے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور میں احرام کی حالت میں نہیں تھا سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم چلے گئے اور میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا بعض ان میں سے بعض کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے میں نے دیکھا کہ ایک وحشی گدھا تھا تو میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کو شکار کرلیا اور اسے پکڑ لیا تو میں نے ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا ہم نے اس سے کھایا اور میں ڈر گیا کہ میں اپنے ساتھیوں سے علیحدہ نہ ہو جاؤں بس میں چلا میں نے اپنے گھوڑے کو دوڑا یا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکل پڑا میں آدھی رات کو بنو غفار کے ایک آدمی سے ملا میں نے اس کو کہا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا ہے اس نے کہا سقیاء کے مقام پر میں نے عرض کی یارسول اللہ آپ کے صحابی کو السلام علیکم ورحمتہ اللہ عرض کر رہے تھے اور ان کو راستہ بھول جانے کا خوف ہے یا رسول اللہ اب ان کا انتظار کرلیں بس میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ایک وحشی گدھا شکار کیا ہے اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو فرمایا اسے کھاؤں انہوں نے کھایا ہلکے وہ حالت احرام میں تھا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 631

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 632

632 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، يُسْمِعُنَا الْآيَةَ، وَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَيَقْرَأُ بِنَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ "

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اوردو سورتیں پڑھنے تھے ہم کو دونوں آیتیں سنائی دیتی تھی اور آپ پہلی اتنا رکعت کو لمبا کرتے تھے جتنا دوسری رکعت کو لمبا نہیں کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے اور فجر کی پہلی رکعت کو لمبا کرتے تھے اور دوسری کو لمبا نہیں کرتے تھے۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 632

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 633

633 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ»

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں ادا کرلے۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مالک بن أنس ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 633

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 634

634 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي قَتَادَةَ، فَقَالَ: وَأَنَا إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي، حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا مَنْ [ص:515] يُحِبُّ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَاسْتَيْقَظَ فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ»

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں بیمار ہوں میں نے یہ بات حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی آپ نے فرمایا :میں بھی خواب میں اپنے آپ کو بیمار دیکھنا تھا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے پس جب تم میں سے کوئی دیکھے جو اس کو پسند ہو تو وہ اپنے محبوب آدمی کو ہی بتائے اور جب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اٹھے اور اپنے بائیں طرف تھوکے تین مرتبہ اور اللہ سے پناہ مانگےاس کے شر اور شیطان کے شر سے اور کسی کو نہ بتائیں تو وہ اس کو نقصان نہیں دے گا ۔

بِهَا إِلَّا مَنْ [ص:515] يُحِبُّ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَاسْتَيْقَظَ فَلْيَتْفُلْ ← الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← إن كنت لأرى الرؤيا تمرضني حتى ← إن كنت لأرى الرؤيا فتمرضني فذكرت ذلك لأبي قتادة ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 634

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 635

635 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبَى قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَوْمِ عَاشُورَاءَ: «إِنِّي لَأَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ» وَقَالَ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ: «إِنِّي لَأَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ»

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے روزہ کے متعلق فرمایا :کہ میں اللہ عزوجل سے ثواب کی امید رکھتا ہوں کہ اس کے ذریعے ایک سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے متعلق فرمایا :میں اللہ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں کہ اس کے ساتھ ایک سال پہلے اور بعد کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 635

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 636

636 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهِشَامٌ، وَمَهْدِيٌّ، قَالَ حَمَّادٌ وَمَهْدِيٌّ: عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، وَهِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِهِ، فَغَضِبَ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَ [ص:516] عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِكَ نَبِيًّا، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَدِّدُ ذَلِكَ حَتَّى سَكَنَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ» ، أَوْ قَالَ: «مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ فَقَالَ: «وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟» فَقَالْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ يُفْطِرُ يَوْمَيْنِ وَيَصُومُ يَوْمًا؟ فَقَالَ: «لَوَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَقُولُ فِي صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: «ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ فَقَالَ: «ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَقُولُ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: «إِنِّي لَأَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَقُولُ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ؟ قَالَ [ص:517]: «إِنِّي لَأَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهَا وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهَا»

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روزے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کیا یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرے پر ظاہر ہوگیا 'تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور آپ کے مسلسل یہی کہتے رہے یہاں تک کہ آپ کا غصہ جاتا رہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں اس آدمی کے متعلق جو سارا سال روزے رکھتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ اس کا روزہ ہے اور نہ اس کا افطار ہے انہوں نے پھر عرض کی یا رسول اللہ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو دو دن روزے رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی کون طاقت رکھتا ہے اس کے بعد پھر عرض کیا یا رسول اللہ اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جو دو دن افطار اور ایک دن روزہ رکھا ہے آپ نے فرمایا مجھے یہ پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت دی جائے پھر عرض کی یارسول اللہ جو پیر کے دن روزہ رکھے اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا یہ تو وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور اس نے مجھے وحی نازل ہوئی لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ فرماتے ہیں اس آدمی کے متعلق جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میرے بھائی داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے انہوں نے عرض کی یارسول اللہ آپ عاشورہ کے روزے کے متعلق کیا فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ عزوجل سے امید رکھتا ہوں کہ اس کے ذریعے وہ ایک سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے عرض کی یارسول اللہ آپ عرفہ کے روزے کے متعلق کیا فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ تعالی سے امید رکھتا ہوں کہ اس کے ساتھ ایک سال کے پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔

صَوْمِهِ، فَغَضِبَ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَ [ص:516] عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← أبي قتادة أن أعرابياً سأل رسول الله ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ ← قَتَادَةَ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، وَهِشَامٌ ← حماد ومهدي ← حماد بن زيد وهشام ومهدي ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 636

chevron_left Previous
1…525354…90
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter