Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 49

49 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ، عَنْ أَحَدِ النَّفْرِ الَّذِينَ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ: مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الْبُيُوتِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟ لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ بَعْدُ فَقَالَ: «أَمَّا مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَيَغْسِلُ يَدَهُ وَفَرْجَهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ الْمَاءَ، وَأَمَّا قِرَاءَةُ [ص:55] الْقُرْآنِ فَنُورٌ فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ»

کچھ لوگوں سے روایت ہے جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آۓ ‘انہوں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین ! ہم آپ کے پاس آۓ ہیں تا کہ ہم آپ سے تین باتیں پوچھیں‘ (۱) حالت حیض میں مرد کے لیے بیوی کا کون سا حصہ جائز ہے ( فائدہ اٹھانے کے لیے )؟ اور غسل جنابت کے متعلق اور گھروں میں قرآن پڑھنے کے متعلق۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ ! بے شک تم نے مجھ سے ایسا سوال کیا جو میں نے رسول اللہﷺسے کیا تھا‘ آپ سے اس کے بعد کسی نے سوال نہیں کیا ‘فرمایا کہ بہر حال حالت حیض میں آدمی کے لیے جو چیز حلال ہے‘ وہ یہ ہے کہ آ دمی ( بیوی کے ساتھ حالت حیض میں) تہبند کے اوپر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے‘ اورغسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ آ دمی اپنی شرمگاہ اور اپنے ہاتھ کو دھوئے ‘پھر وضو کرے‘ اور اپنے سر اور اپنے جسم پر پانی ڈالے‘ رہی قرآن پاک کی تلاوت کی بات تو وہ نور ہے‘ جو چا ہے اپنے گھروں کو اس سے منور کر ے ۔

شَيْءٍ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ بَعْدُ ← عُمَرُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟ لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي ← قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الْبُيُوتِ؟ ← الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ← ثَلَاثِ خِصَالٍ: مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ ← أَحَدِ النَّفْرِ الَّذِينَ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 49

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 50

50 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ "

حضرت عبداللہ بن سرجس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کود یکھا کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ و یا ‘پھر حجر اسود کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے تیرا بوسہ لیا ‘میں جانتا ہوں کہ تُو پتھر ہے‘ اور اگر میں نے رسول اللہﷺکو تجھے بوسہ دیتے ہوۓ نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرا بھی بوسہ نہ لیتا۔

رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَبَّلَ الْحَجَرَ ثُمَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 50

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 51

51 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ [ص:56] لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اگر تم اللہ کی ذات پرایسے ہی بھروسہ کرو جس طرح پر ندے بھروسہ کر تے ہیں تو تمہیں بھی اللہ رزق عطا فرماۓ گا جس طرح پرندوں کو عطا کرتا ہے‘ وہ اپنے گھونسلوں میں خالی پیٹ صبح کرتے ہیں‘ اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← عبد الله بن هبيرة ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 51

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 52

52 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ عُمَرُ: لِمَ تَحْتَبِسُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ فَقَالَ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا؟ أَوَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ» ؟

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعۃ المبارک کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک ایک آ دمی ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ) آ ۓ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جمعہ کا خیال کیوں نہیں کرتے ہو؟ ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے) عرض کی: اے امیر المؤمنین! جیسے ہی اذان ہوئی میں نے وضو کیا پھر فورا ًآ گیا ‘فرمایا :کیا وضو ہی کیا ‘کیا تم لوگوں نے رسول اللہ ﷺکا ارشاد نہیں سنا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آۓ تو اس کوغسل کر نا چاہیے۔

إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ ← وَالْوُضُوءَ أَيْضًا؟ أَوَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ ← النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ ← الجمعة ← عُمَرُ لِمَ تَحْتَبِسُونَ ← بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 52

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 53

53 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا لَحُضُورَ أَجَلِي وَإِنَّ قَوْمًا يَأْمُرُونِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَلَا خِلَافَتَهُ وَالَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالْخِلَافَةُ بَيْنَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ الَّذِينَ فَارَقُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ وَإِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا هُوَ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنَ الْكَلَالَةِ وَمَا نَازَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ صَحِبْتُهُ مَا نَازَعْتُهُ فِي شَيْءٍ فِي الْكَلَالَةِ وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مُنْذُ صَحِبْتُهُ مَا أَغْلَظَ لِي فِي الْكَلَالَةِ حَتَّى ضَرَبَ بِيَدِهِ قِبَلَ صَدْرِي وَقَالَ: «يَا عُمَرُ إِنَّمَا يكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ» ، ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلُ وَالثُّومُ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ آكِلَهُمَا لَا بُدَّ فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو اس خطبہ میں نبی اکرم ﷺاور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا‘ پھر فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغا مجھے ٹھوگے مار رہا ہے‘ ایک ٹھونگا یا دو‘ اور میرا خیال ہے کہ میری موت قریب ہے اور میری قوم مجھ کو حکم دیتی ہے کہ میں خلیفہ مقرر کروں‘ بے شک اللہ عز وجل اس دین اور اس خلافت کو ضائع کر نے والانہیں ہے‘ وہ ذات جس نے اپنے نبیﷺکو اس کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے‘ اگر مجھ سے اس معاملہ میں جلدی چاہتے ہوتو خلافت کا معاملہ ان چار افراد کے درمیان طے کر لینا کیونکہ جب رسول اللہﷺاس دنیا سے تشریف لے گئے تھے تو آپ ان سے راضی تھے‘ اور بلا شبہ میں اپنے بعد کسی اہم مسئلہ کو نہیں چھوڑ کر جار ہا ہوں سواۓ کلالہ کے ‘اور میں رسول اللہﷺسے کسی مسئلہ میں نہیں جھگڑ ا جب تک میں آپ کی صحبت میں رہا سواۓ کلالہ کے‘ مجھ پرکسی قسم کی سختی نہیں کی گئی‘ جتنی سختی مسئلہ کلالہ کے مسئلہ میں کی گئی ہے ‘یہاں تک کہ آپ نے اپنا دست مبارک میرے مینہ کی طرف جانب مارا اور فرمایا : اے عمر ! تجھ کو گرمی والی سورۃ کافی ہے جو سورۂ نساء کے آخر میں نازل ہوئی ہے‘ پھر فرمایا: اے لوگو! بے شک تم ان دونوں درختوں سے کھاتےہو‘یہ دونوں خبیث ہیں ‘یعنی پیاز اور لہسن اور بلاشبہ میں رسول اللہﷺکو دیکھا تھا کہ جب آپ ان کی کسی آ دمی سے بد بو پاتے تھے تو آپ اس کے متعلق حکم دیتے تھے کہ اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاۓ ‘سوتم میں سے جس نے اس کو کھا نا ہو‘ وہ ان کو پکا کر کھاۓ ۔

خطب عمر يوم الجمعة ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 53

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 54

54 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: " أَلَا فَمَنْ ظَلَمَهُ أَمِيرُهُ فَلْيَرْفَعْ ذَلِكَ إِلَيَّ أُقِيدُ مِنْهُ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَئِنْ أَدَّبَ رَجُلٌ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ رَعِيَّتِهِ لَتُقِصُّهُ مِنْهُ؟ قَالَ: كَيْفَ لَا أُقِصُّهُ مِنْهُ وَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ»

حضرت ابوفراس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا تو ارشادفر مایا :خبر دار! جس کا امیر اس پر ظلم کرے وہ مجھے اس بارے بتاۓ میں اس کو بدلا دلاؤں گا۔ تو حضرت عمرو بن عاص رضی الله عنہ کھرے ہوئے‘عرض کی: اے امیرالمؤمنین ! اگر کوئی امیر اپنی رعیت کو ادب سکھانے کے لیے مارے‘ تو آپ اس کا اس سے بھی بدلہ دلائیں گے؟ آپ نے فرمایا: کیسے میں اس کو اس سے بدلہ نہ دلا ؤں گا ‘حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺکود یکھا کہ آپ اپنے آپ سے بدلہ دلا رہے تھے ۔

خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← أَبِي فِرَاسٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← محمد بن أبي سليمان ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 54

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 55

55 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى [ص:59] الْمَكِّيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمُ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ أَوْ قَالَ: بِالْإِفْلَاسِ "

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو خطبہ ارشاد فرماتے سنا: جس نے مسلمانوں پر ذخیرہ اندوزی کی‘ اللہ عز وجل اس کو کوڑھ اور تنگدستی کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔

بِالْإِفْلَاسِ ← مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمُ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ أَوْ ← رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ وَهُوَ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبُو يَحْيَى [ص:59] الْمَكِّيُّ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 55

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 56

56 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " كُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ: «لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ»

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوۓ سنا‘ آپ نے لوگوں پر فتوحات کا ذکر گیا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا‘ ایک دن آپ کو شد ید بھوک لگی ہوئی تھی‘ آ پ ردّی کھجور بھی نہیں پاتے تھے کہ جس کے ساتھ آپ اپنے پیٹ کو بھر سکیں ۔

آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ. ← عُمَرُ كُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ: «لَا تَرْغَبُوا ← أَبِيهِ ← عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 56

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 57

57 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ فَذَكَرَ مَا فُتِحَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَوِي يَوْمَهُ مِنَ الْجُوعِ مَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ»

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوۓ سنا‘ آپ نے لوگوں پر فتوحات کا ذکر گیا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا‘ ایک دن آپ کو شد ید بھوک لگی ہوئی تھی‘ آ پ ردّی کھجور بھی نہیں پاتے تھے کہ جس کے ساتھ آپ اپنے پیٹ کو بھر سکیں ۔

مَا فُتِحَ عَلَى النَّاسِ ← عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 57

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 58

58 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، أَنَّهُ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ فَقَالَ: «هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت صبی بن معبد فرماتے ہیں کہ انہوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا‘ یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتائی گئی تو آپ نے فرمایا: تجھے اپنے نبیﷺ کی سنت کی ہدایت دی گئی ہے ۔

هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ ← ذَلِكَ لِعُمَرَ، ← الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، أَنَّهُ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا ← أَبِي وَائِلٍ ← الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 58

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 59

59 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ كَانَ نَصْرَانِيًّا تَغْلِبِيًّا أَعْرَابِيًّا، فَأَسْلَمَ فَسَأَلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فَقِيلَ لَهُ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَرَادَ أَنْ يُجَاهِدَ فَقِيلَ لَهُ: أَحَجَجْتَ؟ فَقَالَ: لَا فَقِيلَ لَهُ: حُجَّ وَاعْتَمِرْ ثُمَّ جَاهِدْ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْحَوَائِطِ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا فَرَآهُ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ فَقَالَا: لَهُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِهِ أَوْ مَا هُوَ بِأَهْدَى مِنْ نَاقَتِهِ فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا فَقَالَ: «هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صبی بن معبد نصرانی تغلبی دیہاتی آدمی تھے‘ سو مسلمان ہو گئے ‘تو انہوں نے پوچھا: کون ساعمل افضل ہے؟ ان سے کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کر نا‘ تو انہوں نے جہاد کا ارادہ کیا‘ ان سے کہا گیا :کیا آپ نے حج کیا ہے؟ ( حضرت معبد نے )کہا کہ نہیں! سو اُن کو کہا گیا :حج اور عمرہ کر و پھر جہاد کرنا‘ سو وہ حج کے لیے چلے‘ حتیٰ کہ جب حواط پر پہنچے تو انہوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تو اُن کو حضرت زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ نے ایسی حالت میں دیکھا ‘ان دونوں نے کہا کہ یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ جاہل ہے‘ یا کہا کہ یہ تو اونٹنی سے بھی زیادہ سمجھدار نہیں‘پس دو حضرت عمر کے پاس آۓ اور انہیں ان دونوں کے قول کے متعلق بتایا ‘تو انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا تیری اپنے نبی حضرت محمد ﷺکی سنت کی رہنمائی کی گئی ہے ۔

أَبِي وَائِلٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 59

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 60

60 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ [ص:62] مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " ثَلَاثٌ لَأَنْ يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ: الْخِلَافَةُ وَالْكَلَالَةُ وَالرِّبَا "، فَقُلْتُ لِمُرَّةَ: وَمَنْ يَشُكُّ فِي الْكَلَالَةِ هُوَ مَا دُونَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ قَالَ: إِنَّهُمْ يَشُكُّونَ فِي الْوَالِدِ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین چیزوں کے متعلق سوال کرنا مجھے سرخ اونٹ صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے (۱) خلافت (۲) کلالہ (۳) اور ر با ( سود کے متعلق )۔ میں نے مرہ سے کہا: کلالہ میں کون شک کرتاہے؟ ( کلالہ ) وہ ہے جس کا نہ بیٹا ہو نہ باپ ۔ کہا کہ وو باپ کے( نہ ہونے) بارے شک کرتے تھے ۔

مُرَّۃُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 60

chevron_left Previous
1…456…90
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter