Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 433

433 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ثَوْرٍ، قَالَ: " كُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَأَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ حَيْثُ خَرَجَ أَهْلُ الْكُوفَةِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَرَدُّوهُ وَهُوَ يَوْمُ الْجَرَعَةِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ يَرْجِعَ وَلَمْ يُهْرَقْ فِيهَا دَمٌ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَتَرْجِعُنَّ عَلَى عَقِبَيْهَا وَلَمْ يُهْرَقْ فِيهَا مِحْجَمَةُ دَمٍ وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا عَلِمْتُهُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، إِنَّ " الرَّجُلَ يُصْبِحُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي مَا مَعَهُ مِنْ دِينِهِ شَيْءٌ وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ مَا مَعَهُ مِنْ دِينِهِ شَيْءٌ يُقَاتِلُ فِي فِئَةِ الْقَوْمِ - أَوْ قَالَ: فِتْنَةِ الْيَوْمِ شَكَّ أَبُو دَاوُدَ - يَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا يُنْكَسُ قَلْبُهُ وَتَعْلُوهُ اسْتُهُ "، قَالَ: قُلْتُ: «أَسْفَلُهُ؟» قَالَ: «اسْتُهُ»

حضرت ابو ثور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ بن یمان اور ابوسعید بدری رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ‘جس وقت اہل کوفہ حضرت سعید بن العاص کی طرف لکلے تو انہوں نے آپ کو واپس بھیج دیا ‘وہ جرعہ کا دن تھا ‘انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابومسعودکو فرماتے سنا کہ میرا خیال ہے کہ یہ آ دمی اس طرح واپس آۓ گا کہ اس میں خون ریزی نہیں ہو گی ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں ‘جب آپ واپس پہنچیں گے تو وہاں ایک سینگ کے برابر بھی خون نہیں بہا ہو گا‘ اور یہ بات مجھے اس وقت سے معلوم ہے جب حضرت محمدﷺبقید حیات تھے ‘ آپ نے فرمایا :ایک وقت ہو گا کہ صبح کے وقت آ دمی مؤمن ہو گا جب شام ہوگی تو اس کے ساتھ اس کے دین میں سے کچھ بھی نہیں ہو گا‘ اور رات کو مؤمن ہو گا تو صبح کے وقت اس کے پاس اس کے دین کی کوئی چیز نہ ہو گی ‘وہ لڑائی کرے گا ایک قوم کے ساتھ ‘یا فرمایا: اس دن کا فتنہ ہو گا‘ ابو داؤ دکو شک ہے ۔کل اللہ تعالی اس کوقتل کروا دے گا ‘اس کا دل اُلٹا دیا گیا ہو گا ‘اس کی سر ین اُو پر ہو گی ۔ راوی فرماتے ہیں: میں نے کہا کہ کیا یہ اس کا نچلا حصہ ہو گا ؟ انہوں نے کہا اس کی سرین میں۔

أَبي ثَوْرٍ ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 433

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 434

434 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ: مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوۓ ‘سو آ پ نے ہم کو قیامت تک ہونے والے معاملات کی مکمل خبر دی ‘مگر میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کیا چیزنکالے گی؟

قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ ← حُذَيْفَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 434

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 435

435 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ فَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ فَإِنَّهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ وَحَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِهِ "

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکر م ﷺنے فرمایا: آخر زمانہ میں ایک ایسی قوم آۓ گی جوکہیں گے کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ہے سو اگر وہ لوگ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرنا ‘اور اگر مر جائیں تو اُن کے جنازہ میں شریک نہ ہونا کیونکہ وہ دجال کا گروہ ہے ‘اور اللہ عز وجل پر حق ہے کہ انہیں اس کے ساتھ ملا دے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← رَجُلٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ← عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 435

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 436

436 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّ رَجُلًا قَعَدَ وَسَطَ الْحَلْقَةِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: " مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَعَنَ الَّذِي يَجْلِسُ وَسَطَ الْحَلْقَةِ»

حضرت لاحق بن حمید فر ماتے ہیں کہ ایک آ دمی حلقہ کے درمیان بیٹھ گیا ‘تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:یہ آدمی حضرت محمد ﷺکی زبان مبارک سے ملعون قرار دیا گیا ہے ‘یا یہ کہا کہ رسول اللہ ﷺنے لعنت فرمائی ایسے آدمی پر جو حلقہ کے درمیان بیٹھ جاۓ ۔

حذيفة ملعون على لسان محمد أو ← لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّ رَجُلًا قَعَدَ وَسَطَ الْحَلْقَةِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 436

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 437

437 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى حُذَيْفَةَ فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ فُلَانًا مَاتَ؟ قَالَ: إِنَّ الَّذِي أَمَاتَهُ قَادِرٌ أَنْ يُمِيتَكَ، فَجَلَسَ وَسَطَ الْحَلْقَةِ فَقَالَ لَهُ: قُمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَعَنَ الَّذِي يَجْلِسُ وَسَطَ الْحَلْقَةِ»

حضرت ابومجلز سے روایت ہے کہ ایک آ دمی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھانہیں کہ فلاں مارا گیا ہے؟ حضرت حذیفہ نے فرمایا: اس کو اس نے مارا ہے جو تجھے بھی مارنے پر قادر ہے ‘پس وہ حلقے کے وسط میں بیٹھ گیا‘ آپ نے اس کو کہا: اٹھ! کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی اس شخص پر جو حلقہ کے درمیان میں بیٹھے ۔

إِنَّ الَّذِي أَمَاتَهُ قَادِرٌ أَنْ يُمِيتَكَ، فَجَلَسَ وَسَطَ الْحَلْقَةِ ← ألم تر أن فلانا مات ← أبي مجلز أن رجلا أتى حذيفة ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 437

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 438

438 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «يَخْرُجُ الدَّجَّالُ وَمَعَهُ نَهَرٌ وَنَارٌ فَمَنْ دَخَلَ نَهَرَهُ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ وَمَنْ دَخَلَ نَارَهُ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دجال نکلے گا‘ اوراس کے ساتھ نہر ہوگی اور آگ ہو گی‘ پس جواس نہر میں داخل ہو گا اس پر اس کا گنا ہ واجب ہے اور اس کا اجر ضائع ہو گیا اور جو اس کی آگ میں داخل ہو گا اس کا اجر واجب ہو گیا اور اس کے گناہ معاف ہوں گے ۔

حُذَيْفَةَ ← سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 438

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 439

439 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْوَاسِطِيُّ، وَكَانَ ثِقَةً، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ بَشِيرٌ رَجُلًا يَكُفُّ حَدِيثَهُ، فَجَاءَ أَبُو ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ: يَا بَشِيرُ بْنَ سَعْدٍ، أَتَحْفَظُ [ص:350] حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأُمَرَاءِ؟ وَكَانَ حُذَيْفَةُ قَاعِدًا مَعَ بَشِيرٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَهُ، فَجَلَسَ أَبُو ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ فِي النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» ، ثُمَّ سَكَتَ، قَالَ: فَقَدِمَ عُمَرُ وَمَعَهُ يَزِيدُ بْنُ النُّعْمَانِ فِي صَحَابَتِهِ، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ أُذَكِّرُهُ الْحَدِيثَ فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ: إِنَّى أَرْجُو أَنْ يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ قَالَ: فَأَخَذَ يَزِيدُ الْكِتَابَ فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُمَرَ، فَسُرَّ بِهِ وَأَعْجَبَهُ

حضرت نعمان بن بشیر بن سعد فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوۓ تھے اور حضرت بشیر ایسے آدمی تھے کہ اپنی بات کو روکتے تھے ‘ پس حضرت ابوثعلبہ آۓ فرمایا: اے بشیر بن سعد ! کیا آپ کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث یاد ہے امراء کے متعلق جو آپ نے بیان فرمائی ۔ اور حضرت بشیر ‘حضرت حذیفہ کے ساتھ بیٹھے ہوۓ تھے ‘حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے آپ کا وہ خطبہ یاد ہے ‘پس حضرت ابوثعلبہ بیٹھ گئے ‘حضرت حذیفہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نبوت جب تک اللہ چاہے گا ر ہے گی جب اُٹھانا چاہے گا تو اُٹھالی جاۓ گی ‘تو پھر خلافت علی منہاج النبوۃ ہو گی ۔ پس وہ رہے گی جب تک اللہ چاہے گا ‘پھر جب اللہ عز وجل اس کو اُٹھانا چاہے گا اُٹھا لے گا پھر ایک کاٹنے والے بادشاہ ہوں گے جب تک اللہ چاہے گا وہ بھی رہیں گے ‘پھر جب اللہ ان کو اُٹھانا چاہے گا اُٹھا لے گا پھر اس کے بعد ظالم حکمران ہو گے‘ وہ بھی رہیں گے جب تک اللہ چاہے گا ان کا رکھنا ‘پھر اسے بھی اُٹھا لے گا جب اُٹھا نا چا ہے گا ‘پھر جبری حکومت ہو گی ‘پس وہ اتنا عرصہ رہے گی جتنی اللہ چاہے گا ‘پھر اسے بھی اُٹھا لے گا‘پھر خلافت علی منہاج النبوۃ ہو گی ۔ پھر آپ خاموش ہو گئے فرمایا کہ حضرت عمر آئے ‘اور آپ کے ساتھ حضرت یزید بن نعمان بھی تھے اپنے ساتھیوں میں ‘سو میں نے ان کی طرف لکھا تا کہ میں اس حدیث کو انہیں یا دکراؤں ‘سو میں نے ان کی طرف خط لکھا کہ میں اُمید کرتا ہوں کہ امیر المؤمنین کے بعد نا فرمان اور ظالم ہوں گے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت یزید نے وہ خط لیا اور وہ اس کو لے کر حضرت عمر کے پاس آۓ ‘پس آپ اس سے خوش ہوۓ اوراس کو پسند کیا۔

النعمان بن بشير بن سعد ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← دَاوُدُ الْوَاسِطِيُّ، وَكَانَ ثِقَةً، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 439

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 440

440 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنِ الْمُطَّلِبِ، - هَكَذَا قَالَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ وَيَرِثَ دُنْيَاكُمْ شِرَارُكُمْ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :قیامت قائم نہیں ہو گی حتی ٰکہ تم اپنے پیشوا کوقتل کرو گے ‘اور تم اپنی تلواروں کے ساتھ لڑ نے لگو گے ‘اور دنیا میں شریر ترین حکمران ہوں گے ۔

حُذَيْفَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← الْمُطَّلِبِ، هَكَذَا ← عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 440

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 441

441 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةَ: «مَا رَأَيْتُ أَخْصَاصًا إِلَّا [ص:352] أَخْصَاصًا كَانَتْ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَدْفَعُ عَنْ هَذِهِ» يَعْنِي الْكُوفَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْأَخْصَاصُ بُيُوتٌ عِنْدَنَا بِالْبَصْرَةِ مِنْ قَصَبٍ

حضرت نعیم بن ابی ھند فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے بانس کے گھر نہیں دیکھے سواۓ ان بانسوں کے گھر کے جو حضرت محمدﷺکے ساتھ رہتے تھے جس سے کوفہ والوں کو دور کیا جا تا ہے۔ امام ابوداؤ دفر ماتے ہیں کا ’’الْأَخْصَاصُ ‘‘ ہمارے نز دیک بصرہ میں بانس کے گھر ہیں۔

أَبُو دَاوُدَ: الْأَخْصَاصُ بُيُوتٌ عِنْدَنَا بِالْبَصْرَةِ مِنْ قَصَبٍ ← هَذِهِ» يَعْنِي الْكُوفَةَ ← حُذَيْفَةَ: «مَا رَأَيْتُ أَخْصَاصًا إِلَّا [ص:352] أَخْصَاصًا كَانَتْ مَعَ مُحَمَّدٍ مَا يَدْفَعُ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← سَلَّامٌ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 441

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 442

442 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَاذَانُ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ فَقَالَ: «لَوِ اسْتَخْلَفْتُ فَعَصَيْتُمْ نَزَلَ بِكُمُ الْعَذَابُ وَلَكِنْ مَا أَقْرَأَكُمُ ابْنُ مَسْعُودٍ فَاقْرَءُوا وَمَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَاقْبَلُوا» ، أَوْ قَالَ: «فَاسْمَعُوا»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نےعرض کی : یارسول اللہ! کاش کہ آپ خلیفہ مقرر کر یں‘ آپ نے فرمایا: اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کروں تو تم نافرمانی کرو گے ‘پھر تم پر عذاب نازل ہو گا ‘لیکن جوتم کو ابن مسعود پڑھائیں تم اس کو پڑھو ‘جو تم سے حذیفہ بیان کریں اس کو قبول کرو‘یا فرمایا :اسے سنو۔

قُلْنَا ← حُذَيْفَةَ ← زَاذَانَ ← عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 442

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 443

443 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْقَيْسِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ الْيَشْكُرِيَّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ يَا بَنِي لَيْثٍ؟ قَالَ: قُلْنَا: جِئْنَا نَسْأَلُكَ عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ فَقَالَ: غَلَتِ الدَّوَابُّ فَأَتَيْنَا الْكُوفَةَ نَجْلِبُ مِنْهَا دَوَابَّ فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: أَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا كَانَتِ السُّوقُ خَرَجْتُ إِلَيْهَا فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا حَلْقَةٌ كَأَنَّمَا قُطِّعَتْ رُءُوسُهُمْ مُجْتَمِعُونَ عَلَى رَجُلٍ فَجِئْتُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لَا بَلْ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ: لَوْ كُنْتَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ مَا سَأَلْتَ عَنْ هَذَا، هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «يَا حُذَيْفَةُ تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْهُدْنَةُ عَلَى دَخَنٍ؟ قَالَ: «لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ إِلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ دُعَاةُ ضَلَالَةٍ أَوْ قَالَ دُعَاةُ النَّارِ فَلَأَنْ تَعَضَّ عَلَى جِذْلٍ [ص:354] يَعْنِي شَجَرَةً - خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ»

حضرت نصر بن عاصم لیثی فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ یشکری کے پاس آ یا‘ انہوں نے پو چھا :اے بنولیث ! تم کیسے آۓ ہو؟ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث معلوم کرنے آئے ہیں ‘انہوں نے کہا: جانور بہت مہنگے ہو گئے تھے پس ہم کوفہ میں آۓ تو ہم نے ان سے جانور طلب کیے‘سو میں نے اپنے ساتھی سے کہا: میں مسجد میں داخل ہو نے لگا ہوں جب بازار لگے گا تو میں اس کی طرف آ جاؤں گا۔ پس میں مسجد میں داخل ہوا ‘وہاں ایک حلقہ لگا ہوا تھا ‘یوں محسوس ہوا کہ ان کے سرکاٹ دیئے گئے ہیں‘ وہ ایک آدمی کے پاس جمع تھے ‘پس میں آ کر کھڑا ہو گیا ‘میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے پوچھا: آپ اہل کوفہ میں سے ہیں؟ میں نے کہا نہیں! بلکہ میں بصرہ کا رہنے والا ہوں ‘انہوں نے کہا: اگر آپ اہل کوفہ میں سے ہوتے تو ان کے متعلق نہ پو چھتے ‘یہ حضرت حذیفہ بن یمان ہیں ‘انہوں نے فرمایا کہ میں نے عرض کی: یارسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا: اے حذیفہ! کتاب اللہ کوسکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو ‘میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا ؟ آپ نے فرمایا: دھوئیں پر صلح ہوگئی ‘میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دھوئیں پرصلح کا کیا مطلب؟ آپ نے فرمایا: یعنی لوگوں کے دل جس بات پر ہوں گے اسی پر ر ہیں گے ( کہ صلح ہو گی لیکن دل سے صلح نہیں ہو گی )۔ پھر رسول اللہ ﷺنے پھر فرمایا :ایک فتنہ ہو گا جو اندھا اور نہ سننے والا ہوگا ‘اور گمراہی کی طرف لے جاۓ گا ‘یا یہ فرمایا :جہنم کی طرف بلائے گا ‘ان میں سے کسی ایک کا درختوں کے تنے کو اپنے دانتوں میں دبا نا اس سے بہتر ہے کہ وہ اُن میں سے ہو۔

نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ القيسى ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 443

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 444

444 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَأَبُو عُبَيْدٍ عَبْدُ الْوَارِثِ وَحَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيِّ، عَنْ صَخْرٍ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ أَوْ خَالِدِ بْنِ سُبَيْعٍ قَالَ: غَلَتِ الدَّوَابُّ فَأَتَيْنَا الْكُوفَةَ نَجْلِبُ مِنْهَا دَوَابَّ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنَ الرِّجَالِ حَسَنُ الثَّغْرِ يُعْرَفُ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الْحِجَازِ وَإِذَا نَاسٌ [ص:355] مُشْرَئِبُّونَ عَلَيْهِ فَقَالَ: لَا تَعْجَلُوا عَلَيَّ أُحَدِّثْكُمْ، فَإِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ فَإِذَا أَمْرٌ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَكَانَ اللَّهُ رَزَقَنِي فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «السَّيْفُ» ، قُلْتُ: فَهَلْ لِلسَّيْفِ مِنْ بَقِيَّةٍ؟ فَمَا يَكُونُ بَعْدَهُ؟ قَالَ: «تَكُونُ هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا يَكُونُ بَعْدَ الْهُدْنَةِ؟ قَالَ: «دُعَاةُ الضَّلَالَةِ فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً فَالْزَمْهُ وَإِنْ ضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ وَإِنْ لَمْ تَرَ خَلِيفَةً فَاهْرُبْ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «الدَّجَّالُ»

حضرت سبیع بن خالد یا خالد بن سبیع فرماتے ہیں کہ جانور مہنگے ہو گئے ‘تو ہم جانور خریدنے کے لیے کوفہ آۓ ‘پس میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک آدمی بہت خوبصورت تھا جو اہل حجاز سے معلوم ہوتا تھا ‘اور وہاں لوگ اس کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے‘ انہوں نے فرمایا: اپنی بات مجھ سے جلدی نہ بیان کر و‘ ہم زمانہ جاہلیت کے آدمی تھے سو جب اسلام آ یا تو ایک ایسا کام دیکھا کہ اس کی مشل پہلے نہیں دیکھا تھا اور اللہ عز وجل نے ہم کو قر آ ن فہمی عطا فرمائی ‘اور لوگ رسول اللہ ﷺسے سوال کر تے خیر کے متعلق اور میں سوال کرتا شر کے متعلق۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا جیسے کہ اس سے پہلے شر تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! میں نے عرض کی یارسول اللہ ! عصمت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا تلوار ‘میں نے عرض کی یا رسول اللہ !’’لِلسَّيْفِ مِنْ بَقِيَّةٍ ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس کے بعد کیا ہوگا ؟ فرمایا: دھواں پرصلح ہوگی ‘فرمایا کہ میں نے عرض کی :دھوئیں کے بعد کیا ہو گا ؟ فرمایا: لوگ گمراہی کی طرف بلائیں گے ‘اس دن اگر تو دیکھے کہ اللہ عز وجل کی طرف سے ایک خلیفہ ہے تو اس کی لاز ماً پیروی کرنا اگر چہ وہ میری پیٹھ پر مارے اور تیرا مال لے لے ‘اور اگر تو خلیفہ نہ دیکھے تو وہاں سے بھاگ جاحتیٰ کہ تجھے موت آ جاۓ ‘اس حال میں کہ تیرے منہ میں درخت کا تنا ہو‘ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! اس کے بعد کیا ہوگا ؟ فرمایا: دجال ہوگا۔

سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ أَوْ خَالِدِ بْنِ سُبَيْعٍ ← صَخْرِ بْنِ بَدْرٍ ← أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ كُلُّهُمْ ← أَبُو عُبَيْدٍ عَبْدُ الْوَارِثِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 444

chevron_left Previous
1…363738…90
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter