Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 205

205 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ [ص:169] حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ قَالَ: قَالَ أَبِي: أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ قَالَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» ، ثُمَّ عَاوَدْتُهُ فَقُلْتُ: أَأُتْرَكُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] وَهِيَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ هَكَذَا «يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ» الْآيَةَ كُلَّهَا قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِطَاعَةِ الْوَالِدَيْنِ فَلَا آكُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ بِاللَّهِ فَامْتَنَعَتْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ حَتَّى جَعَلُوا يَشْجُرُونَ فَاهَا بِالْعَصَا وَنَزَلَتْ {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا} [العنكبوت: 8] وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَدَعَا نَاسًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَنَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا حَتَّى سَكِرْنَا ثُمَّ افْتَخَرْنَا فَرَفَعَ رَجُلٌ لَحْيَ بَعِيرٍ فَفَزَرَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَكَانَ سَعْدٌ مَفْزُورَ الْأَنْفِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ فَنَزَلَتْ [ص:170] {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى} [النساء: 43] وَنَزَلَتْ {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90] الْآيَةَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَعْدٍ وَهُوَ مَرِيضٌ وَأَرَادَ أَنْ يُوصِيَ بِمَالِهِ كُلِّهِ فَجَعَلَ يُنَاقِصُهُ حَتَّى بَلَغَ الثُّلُثَ قَالَ: فَالنَّاسُ يُوصُونَ بِالثُّلُثِ

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد کے متعلق چار آیات اُتری ہیں انہوں نے فرمایا کہ میرے والد نے فرمایا کہ غزوۂ بدر میں مجھے تلوارملی‘ تو میں اس کو لے کر نبی اکرمﷺکی بارگاہ میں آ یا‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! یہ مال ِغنیمت کے طور پر مجھے عطا کر یں! آ پ ﷺنے فرمایا: جہاں سے لی ہے وہاں رکھ دو‘ پھر میں نے اس کو پکڑا ‘میں نے عرض کیا: کیا مجھےچھوڑ دیا جاۓ گا‘ اس طرح جس کو کسی طرح کی کوئی ضرورت ہی نہیں‘ تو رسول اللہﷺنے فرمایا: جہاں سے پکڑی ہے اس کو وہاں رکھ دے‘ اور اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی’’يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ‘‘ (الانفال:۱) یہ حضرت عبداللہ کی قرأت ہے اسی طرح آپ سے سوال کر تے مالِ غنیمت کے بارے میں پوری آیت ۔ حضرت مصعب کہتے ہیں کہ حضرت اُم سعد نے کہا: کیا اللہ عز وجل نے والدین کے ساتھ نیکی کا حکم نہیں دیا ‘سو میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی یہاں تک کہ تو اللہ کا انکار کر دے ‘چنانچہ وہ کھانے پینے سے رُک گئی‘ حتٰی کہ لوگ اس کے منہ کولکڑی کے ساتھ کھولتے (اور اس کے ذریعہ اس کے منہ میں کوئی چیز ڈالتے تھے) اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :’’وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ‘‘(العنکبوت:۸ ) اور انصار میں سے ایک آدمی نے کھانا تیار کیا ‘ سومہا جرین و انصار میں سے کچھ لوگوں کو بلوایا ‘ہم نے کھایا اور پیا‘ یہاں تک کہ ہم نشہ کی حالت میں ہو گئے‘ پھر ہم نکلے تو ایک آ دمی نے اونٹ کی ہڈی اٹھائی اور حضرت سعد کی ناک پر ماری‘ تو حضرت سعد کی ناک زخمی ہوگئی‘ اور یہ واقعہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کا تھا ‘پس یہ آیت نازل ہوئی:’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى‘‘(النساء:۴۳ ) اور یہ آیت نازل ہوئی: ’’إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ‘‘(المائدہ:۹۰) اور رسول اللہ ﷺ حضرت سعد کے پاس تشریف لاۓ‘ اور وہ بیمار تھے اور انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنے سارے مال کی وصیت کر یں تو آپﷺان سے مسلسل کمی کرواتے رہے یہاں تک کہ تہائی تک معاملہ پہنچ گیا‘ کہا کہ پس (اس وجہ سے) لوگ تہائی کی ہی وصیت کر تے ہیں ۔

أَبِي: أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ فَقُلْتُ: ← نَزَلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكِ بْنِ [ص:142] حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 205

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 206

206 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺسے پیچے رہ گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ رہے ہیں‘ تو آپﷺنے فرمایا :کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا میرے ساتھ وہی تعلق ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔

خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: ← سَعْدٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 206

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 207

207 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَعَادَةٌ لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثٌ، وَشِقْوَةٌ لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثٌ، فَمِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ: الزَّوْجَةُ الصَّالِحَةُ، وَالْمَرْكَبُ الصَّالِحُ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ، أَوْ قَالَ: وَالْمَسْكَنُ الصَّالِحُ، وَشِقْوَةٌ لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثٌ: الْمَسْكَنُ السُّوءُ، وَالْمَرْأَةُ السُّوءُ، وَالْمَرْكَبُ السُّوءُ "

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ابن آدم کے لیے تین چیزوں میں سعادت ہےاور تین چیزوں میں بدبختی‘ ابن آدم کی سعادت ان چیزوں میں ہے: نیک بیوی‘اچھی سواری‘ وسیع گھر‘یافرمایا:اچھا پڑوسی‘ اور ابن آدم کی بدبختی ان چیزوں میں ہے:بُرے پڑوسی‘بُری بیوی اور بُری سواری میں۔

سَعْدٍ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← محمد بن أبي حميد الأنصاري ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 207

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 208

208 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَيْزَارَ بْنَ حُرَيْثٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَجِبْتُ لِلْمُسْلِمِ؛ إِذَا أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ [ص:172] احْتَسَبَ وَصَبَرَ، وَإِذَا أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ اللَّهَ وَشَكَرَ، إِنَّ الْمُسْلِمَ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِيهِ»

حضرت عمر بن رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت سعد) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:میں نےنبی اکرمﷺ سے سنا‘آپ نے فرمایا:مسلمان کے لیے تعجب ہے جب اسے تکلیف آتی ہے تو صبر کرتا ہے‘اور جب اسے کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو اللہ کی تعریف اور شکر کرتا ہے‘بے شک مسلمان کے لیے ہر شی میں اجر ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو اپنے منہ میں رکھتا ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ← الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 208

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 209

209 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الشَّجَرِ، حَتَّى يَضَعَ أَحَدُنَا كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، فَأَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ، لَقَدْ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي»

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ( جہاد کر تے) تھے اور ہمارے پاس کھانے کے لیے درختوں کے پتے کے سوا کچھ نہیں تھاحتیٰ کہ ہم میں سے کوئی ایک پاخانہ کرتا تو اس طرح جس طرح بکری مینگنی کرتی ہے‘ سو بنواسد کے لوگ مجھ کو میرے اسلام پر ملامت کر تے‘ بے شک تب تو میں بڑے خسارے میں رہتا ‘اس وقت (اگر میں ان کی بات مانتا تو) میری ساری محنت بر باد ہو جاتی ۔

سَعْدًا، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 209

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 210

210 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ) فرمایا : تیری میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ۔

سَعْدٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 210

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 211

211 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدًا عَنِ اشْتِرَاءِ السُّلْتِ، بِالْبَيْضَاءِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ سَعْدٌ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ [ص:174] فَقَالَ: «هَلْ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ فَقَالَ: «لَا» أَوْ نَهَى عَنْهُ

حضرت زید ابی عیاش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے بغیر چھلکے والے جَو کو عام جَو کے بدلے فروخت کرنے کے متعلق پوچھا‘ تو انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا ‘اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے تر کھجوروں کے بد لے خشک کھجوریں فروخت کر نے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺنے فرمایا: کیا جب تر کھجور میں خشک ہو جائیں تو اُن کا وزن کم نہیں ہو جا تا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں! فرمایا: پھر جائز نہیں‘ یا فر مایا کہ اس سے منع فرما دیا۔

«لَا» أَوْ نَهَى عَنْهُ ← نَعَمْ ← «هَلْ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» ← الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ [ص:174] ← سَعْدٌ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← اشْتِرَاءِ السُّلْتِ، بِالْبَيْضَاءِ فَكَرِهَهُ ← سَأَلْتُ سَعْدًا ← زَيْدِ أَبِي عَيَّاشٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مالک بن أنس ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 211

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 212

212 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ حَتَّى يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ صُلْبَ الدِّينِ اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ أَوْ قَدْرِ ذَلِكَ فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ»

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! لوگوں میں سب سے زیادہ آ زمائش کس پر آئی ہے؟ آپ نے فرمایا: انبیا علیہم السلام پر‘ پھر جوان سے کم درجہ ہیں‘ پھر جو ان سے کم درجہ والے ہیں یہاں تک کہ آ دمی کی اپنے دین کے متعلق آ زمائش ہوتی ہے ‘یعنی اگر دین میں سختی سے عمل پیرا ہے تو آزمائش بھی سخت‘ اگر دین میں سختی سے عمل پیرانہیں تو آ زمائش بھی نرم ‘ بند ہ ( مؤمن ) پر آزمائش اس کے حسب حال آ تی رہتی ہے حتیٰ کہ زمین پر رہتے ہوۓ (جب وہ دنیا سے جا تا ہے) تو اس پر کوئی بھی گناہ نہیں ہوتا۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 212

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 213

213 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: «أَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ظَنِّي بِكَ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی ہر معاملہ میں شکایت آئی ہے حتیٰ کہ نماز کے متعلق بھی ‘آپ نے فرمایا: میں پہلی دو (رکعتوں) کو لمبا کرتا ہوں اور آخری دوکو مختصر کر تا ہوں ‘جب سے میں نے رسول اللہﷺکی اقتداء میں نماز پڑھی ہے‘ ان میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہیں کی‘ تو آپ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا: تیرے متعلق یہی گمان تھا ‘یا میرا تیرے متعلق یہی گمان تھا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 213

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 214

214 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ فَنَزَعَهُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا فَقَالُوا: إِنَّ سَعْدًا لَا يُحْسِنُ أَنْ يُصَلِّيَ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لَهُ فَقَالَ سَعْدٌ: «أَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ [ص:176] اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَخْرِمُ عَنْهَا، صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ» فَقَالَ: عُمَرُ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہا کے ہاں شکایت کی‘ تو آپ نے ان کو گورنری کے عہدہ سے ہٹا دیا ‘اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اُن پر گورنر مقر رکیا ‘تو لوگوں نے کہا کہ حضرت سعد اچھے طریقے سے نمازنہیں پڑھاتے ہیں‘ سو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات ذکر کی تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں انہیں رسول اللہ ﷺکی نماز کی طرح نماز پڑھا تا ہوں‘ اور میں اس میں کمی نہیں کرتا ہوں ‘میں مغرب وعشاء کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت مختصر کر تا ہوں اور آ خری دونوں میں نہیں پڑھتا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابواسحاق! تیرے متعلق یہی گمان تھا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 214

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 215

215 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ وَلَدِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنَ الشَّجَرِ شَيْئًا - يَعْنِي شَجَرَ الْحَرَمِ - فَلَكُمْ سَلَبُهُ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُقْطَعُ» قَالَ: فَرَأَى سَعْدٌ غِلْمَانًا يَقْطَعُونَ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ فَانْتَهُوا إِلَى مَوَالِيهِمْ فَأَخْبَرُوهُمْ أَنَّ سَعْدًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ غِلْمَانَكَ أَوْ مَوَالِيكَ أَخَذُوا مَتَاعَ غِلْمَانِنَا فَقَالَ: بَلْ أَنَا أَخَذْتُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ فَلَكُمْ سَلَبُهُ» وَلَكِنْ سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی حرم سے کوئی درخت کاٹے تو اس کا سامان قبضے میں لے لو‘ نہ اس کے درخت کو کا ٹا جاۓ اور نہ اکھیٹرا جاۓ ۔ کہا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بچے دیکھے کہ وہ درخت کاٹ رہے ہیں تو انہوں نے اُن کا سامان لے لیا‘ وہ لڑ کے اپنے آقاؤں کے پاس گئے‘ اور اُن کو اس معاملہ کی خبر دی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایسے ایسے کیا ہے‘ تو انہوں نے آ کر کہا: اے ابواسحاق! آپ نے ہمارے بچوں یا غلاموں کا سامان لیا ؟ آپ نے فرمایا: ہاں! میں نے لیا ہے‘ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے سنا ہے کہ جو بھی حرم کے درخت کاٹے ‘تم اس کا سامان لے لو (تو میں واپس نہیں کروں گا )لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ تم اپنے مال سے جو مجھ سے لینا چاہتے ہو‘ مانگ سکتے ہو۔

سَعْدٍ، ← بعض ولد سعد ← صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 215

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 216

216 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ فِيهِ لَاخْتَصَيْنَا

حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکر م ﷺنے حضرت عثمان بن مظعون کو گوشہ نشینی اختیار کرنے سے منع کیا‘ اور اگر آپ اجازت دیتے تو ہم اپنے آپ کو خصی کر لیتے ۔

رَدَّ النَّبِيُّ عَلَى عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ فِيهِ لَاخْتَصَيْنَا ← سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 216

chevron_left Previous
1…171819…90
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter