مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 205
205 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ [ص:169] حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ قَالَ: قَالَ أَبِي: أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ قَالَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» ، ثُمَّ عَاوَدْتُهُ فَقُلْتُ: أَأُتْرَكُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] وَهِيَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ هَكَذَا «يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ» الْآيَةَ كُلَّهَا قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِطَاعَةِ الْوَالِدَيْنِ فَلَا آكُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ بِاللَّهِ فَامْتَنَعَتْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ حَتَّى جَعَلُوا يَشْجُرُونَ فَاهَا بِالْعَصَا وَنَزَلَتْ {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا} [العنكبوت: 8] وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَدَعَا نَاسًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَنَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا حَتَّى سَكِرْنَا ثُمَّ افْتَخَرْنَا فَرَفَعَ رَجُلٌ لَحْيَ بَعِيرٍ فَفَزَرَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَكَانَ سَعْدٌ مَفْزُورَ الْأَنْفِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ فَنَزَلَتْ [ص:170] {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى} [النساء: 43] وَنَزَلَتْ {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90] الْآيَةَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَعْدٍ وَهُوَ مَرِيضٌ وَأَرَادَ أَنْ يُوصِيَ بِمَالِهِ كُلِّهِ فَجَعَلَ يُنَاقِصُهُ حَتَّى بَلَغَ الثُّلُثَ قَالَ: فَالنَّاسُ يُوصُونَ بِالثُّلُثِ
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد کے متعلق چار آیات اُتری ہیں انہوں نے فرمایا کہ میرے والد نے فرمایا کہ غزوۂ بدر میں مجھے تلوارملی‘ تو میں اس کو لے کر نبی اکرمﷺکی بارگاہ میں آ یا‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! یہ مال ِغنیمت کے طور پر مجھے عطا کر یں! آ پ ﷺنے فرمایا: جہاں سے لی ہے وہاں رکھ دو‘ پھر میں نے اس کو پکڑا ‘میں نے عرض کیا: کیا مجھےچھوڑ دیا جاۓ گا‘ اس طرح جس کو کسی طرح کی کوئی ضرورت ہی نہیں‘ تو رسول اللہﷺنے فرمایا: جہاں سے پکڑی ہے اس کو وہاں رکھ دے‘ اور اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی’’يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ‘‘ (الانفال:۱) یہ حضرت عبداللہ کی قرأت ہے اسی طرح آپ سے سوال کر تے مالِ غنیمت کے بارے میں پوری آیت ۔ حضرت مصعب کہتے ہیں کہ حضرت اُم سعد نے کہا: کیا اللہ عز وجل نے والدین کے ساتھ نیکی کا حکم نہیں دیا ‘سو میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی یہاں تک کہ تو اللہ کا انکار کر دے ‘چنانچہ وہ کھانے پینے سے رُک گئی‘ حتٰی کہ لوگ اس کے منہ کولکڑی کے ساتھ کھولتے (اور اس کے ذریعہ اس کے منہ میں کوئی چیز ڈالتے تھے) اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :’’وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ‘‘(العنکبوت:۸ ) اور انصار میں سے ایک آدمی نے کھانا تیار کیا ‘ سومہا جرین و انصار میں سے کچھ لوگوں کو بلوایا ‘ہم نے کھایا اور پیا‘ یہاں تک کہ ہم نشہ کی حالت میں ہو گئے‘ پھر ہم نکلے تو ایک آ دمی نے اونٹ کی ہڈی اٹھائی اور حضرت سعد کی ناک پر ماری‘ تو حضرت سعد کی ناک زخمی ہوگئی‘ اور یہ واقعہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کا تھا ‘پس یہ آیت نازل ہوئی:’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى‘‘(النساء:۴۳ ) اور یہ آیت نازل ہوئی: ’’إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ‘‘(المائدہ:۹۰) اور رسول اللہ ﷺ حضرت سعد کے پاس تشریف لاۓ‘ اور وہ بیمار تھے اور انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنے سارے مال کی وصیت کر یں تو آپﷺان سے مسلسل کمی کرواتے رہے یہاں تک کہ تہائی تک معاملہ پہنچ گیا‘ کہا کہ پس (اس وجہ سے) لوگ تہائی کی ہی وصیت کر تے ہیں ۔
أَبِي: أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ فَقُلْتُ: ← نَزَلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكِ بْنِ [ص:142] حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 205
