المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 37
37 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا يوسف بن عدي الكوفي ثنا أبو الأحوص عن الأغر أبي مالك قال Y لما أراد أبو بكر رضي الله عنه أن يستخلف عمر بعث إليه فدعاه فأتاه فقال : إني أدعوك إلى أمر متعب لمن وليه فاتق الله يا عمر بطاعته وأطعه بتقواه فإن المتقي آمن محفوظ ثم إن الأمر معروض لا يستوجبه إلا من عمل به فمن أمر بالحق وعمل بالباطل وأمر بالمعروف وعمل بالمنكر يوشك أن تنقطع أمنيته وأن يحبط عمله فإن أنت وليت عليهم أمرهم وأن يجف لسانك عن أعراضهم فافعل ولا قوة إلا بالله
حضرت اغرابومالک فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کا ارادہ کی اتو آپ کی طرف کسی کو بھیجا ، آپ کو بلوایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو ایک مشکل کام کی طرف بلاتا ہوں جس کی ذمہ داری آپ کو سونپنی ہے ، اے عمر! اللہ سے ڈرنا اس کی اطاعت میں اس کے خوف سے اس کی اطاعت کرنا کیونکہ متقی حالت امن میں اور محفوظ ہوتا ہے ۔ پھر آپ کو یہ حکم پیش کیا جائے گا،ضروری ہے کہ آپ قبول کریں، جس نے اس پر عمل کیا، جس نے حق کا حکم دیا اور باطل پر عمل کیا اور نیکی کا حکم دیا، برائی کے ساتھ عمل کیا، قریب ہے کہ اس کی امید ختم ہو جائےاور اس کا عمل ضائع ہو جائے، اگر آپ کو ان پر ان کے کام کا والی بنایا گیا ہے ، اگر تو طاقت رکھتا ہے تواپنے ہاتھ کو خون بہانے سے روکنا، اپنے پیٹ کو ان کے اموال کھانے سےپرہیز کرنا، اپنی زبان کو ان کی عزتوں سے روکے رکھنا ( ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو) تو کر ، نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی توفیق اللہ ہی دینے والا ہے ۔
لمّا أراد أبو بكرٍ أنْ يَسْتَخْلِفَ عُمَرَ بَعَثَ إليه فدعَاهُ، فأتاه ← الأَغَرِّ أبي مالكٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ الْكُوفِيُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 37
