المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الأصبغ بن نباتة عن الحسن بن علي رضي الله عنه · حديث 2761
2760 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا إسماعيل بن سيف ثنا جعفر بن سليمان عن سعد بن طريف Y عن الأصبع بن نباتة قال : دخلت مع علي بن أبي طالب رضي الله عنه إلى الحسن بن علي نعوده فقال له علي رضي الله عنه : كيف أصبحت يا ابن رسول الله ؟ قال : أصبحت بحمد الله بارئا قال : كذلك إن شاء الله ثم قال الحسن رضي الله عنه : أسندوني فأسنده علي رضي الله عنه إلى صدره فقال سمعت جدي رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن في الجنة شجرة يقال له شجرة البلوى يؤتى بأهل البلاء يوم القيامة فلا يرفع لهم ديوان ولا ينصب لهم ميزان يصب عليهم الآجر صبا وقرأ { إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب }
حضرت اصبغ بن نباتہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کرنے کے لیے آیا ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے رسول اللہ کے بیٹے ! آپ نے صبح کیسے کی؟ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:اللہ کی رحمت سے میں نے صبح اچھی کی ہے اور عرض کی : انشاء اللہ ایسے رہوں گا۔ پھر امام حسن نے کہا: مجھے ٹیک لگاؤ! حضرت علی نے اپنے سینے سے ان کو سہار ا دیا ۔ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جنت میں ایک درخت ہے اس کو آزمائش والا درخت کہا جاتا ہے ، قیامت کے دن وہ اہل بلا کو عطا کیا جائے گا، ان کے لیے حساب و کتاب والا رجسٹر بھی نہیں اُٹھایا جائے گااور میزان بھی نصب نہیں کیا جائے گا، ان پراجر بہایا جائے گا ، پھر یہ آیت کریمہ پڑھی : "بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجربغیر حساب کے پورا پورا دیا جائے گا"۔
جدي رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنُ أَسْنِدُونِي، فَأَسْنَدَهُ عَلِيُّ إِلَى صَدْرِهِ، ← كَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ ← أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا، ← لَهُ عَلِيُّ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ؟ ← دَخَلْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ نَعُودُهُ ← الْأَصْبَعِ بْنِ نُبَاتَةَ، ← سعد بن طريف ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَيْفٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ
Hadith 2761
