المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 208 - جهجاه الغفاري · حديث 2153
2152 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالوا ثنا زيد بن حباب حدثني موسى بن عبيدة حدثني عبيد بن سليمان الأغر عن عطاء بن يسار عن جهجاه الغفاري Y أنه قدم في نفر من قومه يريدون الإسلام فحضروا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم المغرب فلما سلم قال : ( يأخذ كل رجل بيده جليسه ) فلم يبق في المسجد غير رسول الله صلى الله عليه و سلم وغيري وكنت عظيما طويلا لا يقدم علي أحد فذهب بي رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى منزله فحلب لي عنزا فأتيت عليها حتى حلب لي سبع أعنز فأتيت عليها ثم أتيت بصنيع برمة فأتيت عليها وقالت أم أيمن أجاع الله من أجاع رسول الله هذه الليلة قال : ( مه يا أم أيمن أكل رزقه ورزقنا على الله ) فأصبحوا فغدوا فاجتمع هو وأصحابه فجعل الرجل يخبر بما أتي به فقال جهجاه : حلبت لي سبع أعنز فأتيت عليها وصنيع برمة فأتيت عليها فصلوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم المغرب فقال : ( ليأخذ كل رجل بيد جليسه ) فلم يبق في المسجد غير رسول الله صلى الله عليه و سلم وغيري وكنت عظيما طويلا لا يقدم علي أحد فذهب بي رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى منزله فحلب لي عنزا فرويت وشبعت فقالت أم أيمن : يا رسول الله أليس هذا ضيفنا ؟ قال : ( بلى ) فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إنه أكل في معى مؤمن الليلة وأكل قبل ذلك في معى كافر الكافر يأكل في سبعة أمعاء والمؤمن يأكل في معى واحد )
حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اس قوم کے گروہ کے ساتھ آئے جو اسلام لانا چاہتے تھے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس نماز مغرب کے وقت آئے جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے فرمایا : ہر ایک آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا ہاتھ پکڑے، مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور میرے علاوہ کوئی نہ رہا۔ میں بڑا لمبے قد والا تھا، مجھ سے زیادہ لمبا کوئی نہیں تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میرے پاس سے ہو کر اپنے گھر گئے آپ نے میرے لیے بکری کا دودھ دوھا، میرے پاس لایا گیا، میں سات بکریوں کا دودھ پی گیا، میں آپ کے پاس آیا ، پھر میرے پاس ہنڈی میں بھونی ہوئی کوئی شی لائی گئی تو میں اس کو بھی کھا گیا ۔ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ اس کو بھوکا رکھے جس نے اج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو بھوکا رکھا۔ میں نے کہا : ا ے ام ایمن ! چھوڑو میں نے اپنا رزق کھایا ہے ، جو اللہ نے ہم کو رزق دیا ہے ۔ صبح ہوئی تو سارے صحابہ جمع ہوئے ، ہر ایک بتانے لگا جو اس کے پاس آیا تھا ، میں نے کہا : میرے لیے سات بکریوں کادودھ دوھا گیا ، میں اسے پی گیا اور ہانڈی میں بھونی ہوئی کوئی شی لائی گئی تو اسے بھی کھا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی ، آپ نے فرمایا : ہر آدمی اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑے ، مسجد میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ رہا ، میں بہت لمبا آدمی تھا، مجھ سے زیادہ کوئی لمبا نہیں تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور پنے گھر گئے ، میرے لیے بکری کا دودھ لائے میں سیر ہو گیا اور میرا پیٹ بھر گیا ۔ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آج یہ ہمارا مہمان نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ! حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : آج میرے ساتھ حالت ایمان میں کھایا ہے ، کل اس نے حالت کفر میں کھایا تھا ، کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ۔
جهجاه الغفاري ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عبيد بن سليمان الأغر ← موسى بن عبيدة ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2153
