المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ تسمية أصحاب العقبة · حديث 3017
3016 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا مصعب بن عبد الله الزبيري حدثنا محمد بن عمر الواقدي عن ابن أبي حبيبة عن داود بن الحصين عن عبد الرحمن بن جابر Y عن أبيه قال : كان بين عمار بن ياسر و وديعة بن ثابت كلام فقال وديعة لعمار : إنما أنت عبد أبي حذيفة بن المغيرة ما أعتقك بعد قال عمار : كم كان أصحاب العقبة ؟ فقال : الله أعلم قال : أخبرني عن علمك فسكت وديعة فقال من حضره : أخبره عما سألك وإنما أراد عمار أن يخبره أنه كان فيهم فقال : كنا نتحدث أنهم أربعة عشر رجلا فقال عمار : فإن كنت فيهم فإنهم خمسة عشر فقال وديعة : مهلا با أبا اليقظان أنشدك الله أن تفضحني فقال عمار والله ما سميت أحدا ولا أسميه أبدا ولكني أشهد أن الخمسة عشر رجلا اثنا عشر منهم حرب لله ولرسوله في الحياة الدنيا ويوم يقوم الأشهاد
حضرت عبدالرحمٰن بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر اور ودیعہ بن ثابت کے درمیان گفتگو ہوئی' حضرت ودیعہ نے حضر ت عمار سے کہا: آپ ابو حذیفہ بن مغیرہ کے غلام ہیں' آپ کو اس کے بعد کس نے آزاد کیا' حضرت عمار نے فرمایا: اصحابِ عقبہ کتنے تھے؟ ودیعہ نے کہا: اللہ زیادہ جانتا ہے۔ حضرت عمار نے فرمایا: اپنے علم کے مطابق بتائیں! ودیعہ خاموش رہے' تو عمار بولے : ان کے پاس کون آیا' جو اس نے تجھ سے سوال کیا' اس آدمی کی خبر دو۔ حضرت عمار کا ارادہ صرف یہ تھا کہ وہ کم از کم اتنی بات ہی بتا دے کہ وہ بھی ان میں تھا' تو اس نے کہا: وہ چودہ افراد تھے ہم گفتگو کر رہے تھے۔ حضرت عمار نے فرمایا: تو ان میں پندرھواں تھا' حضرت ودیعہ نے کہا: اے ابو یقظان! چھوڑیں! اللہ کی قسم ! میں نے کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہمیشہ کے لیے نام لوں گا لیکن گواہی دیتا ہوں کہ وہ پندرہ افراد تھے' بارہ ان میں سے دنیا کی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے رہے اور اس دن جب قیامت قائم ہو گی۔
وديعة مهلا با أبا اليقظان أنشدك الله أن تفضحني ← عَمَّارٌ: فَإِنْ كُنْتُ فِيهِمْ، فَإِنَّهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ. ← كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، ← عَمَّا سَأَلَكَ وَإِنَّمَا أَرَادَ عَمَّارٌ أَنْ يُخْبِرَهُ أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ ← مَنْ حَضَرَهُ: ← عِلْمِكَ؟ فَسَكَتَ وَدِيعَةُ. ← اللَّهُ أَعْلَمُ ← عَمَّارٌ: كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ ← وَدِيعَةُ لِعَمَّارٍ: إِنَّمَا أَنْتَ عَبْدُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، مَا أَعْتَقَكَ بَعْدُ. ← كان بين عمار بن ياسر و وديعة بن ثابت كلام ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3017
