المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ سعيد بن أبي سعيد مولى أبي بكر بن حزم عن أبي رافع · حديث 991
987 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا زيد بن الحباب ثنا موسى بن عبيدة عن سعيد بن أبي سعيد مولى أبي بكر بن حزم عن أبي رافع Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال للعباس : ( يا عم ألا أصلك ألا أحبوك ألا أنفعك ؟ ) قال : بلى يا رسول الله قال : ( تصلي يا عم أربع ركعات تقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة فإذا انقضت القراءة فقل الله أكبر والحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله خمس عشرة مرة قبل أن تركع ثم اركع فقلها عشرا ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشرا ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشرا ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم قم فتلك خمس وسبعون في كل ركعة وهي ثلاثمئة في أربع ركعات فلو كانت ذنوبك مثل زبد البحر غفر الله لك ) قال : يا رسول الله ومن يستطيع أن يقولها في كل يوم ؟ قال : ( فإن لم تستطع أن تصليها في يوم فصلها في جمعة ) حتى قال : ( صلها في شهر ) حتى قال : ( صلها في سنة )
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اے چچا ! کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں ! کیا آپ سے محبت نہ کروں! کیا آپ کو نفع مند شے نہ بتاؤں!حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یار سول اللہ ! کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا : اے چچا ! چار رکعت نفل پڑھو ، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورت پڑھو ، جب قرات ختم کرلو تو کہو: "اللہ اکبر و الحمد للہ و سبحان اللہ والالہٰ الا اللہ " پندرہ مرتبہ رکوع کرنے سے پہلے سر اُٹھا ؤ تو دس مرتبہ پڑھو ، پھر سجدہ میں دس مرتبہ پڑھو، پھر سجدہ سے سر اُٹھاؤ تو دس مرتبہ پڑھو ، پھر سجدہ کرو تو سجدہ میں دس مرتبہ پڑھو ، پھر سجدہ سے سے اُٹھاؤ تو دس مرتبہ پڑھو تو یہ ایک رکعت میں پچھتر مرتبہ ہو جائے گا اور چار رکعتوں میں تین سو مرتبہ ہو جائے گا ، اگر تیرے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں گے تو اللہ عزوجل تیرے لیے بخش دے گا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یار سول اللہ ! ہر روز پڑھنے کی کون طاقت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگر ہر روز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو جمعہ کے دن پڑھ لیا کر ، اگر یہ بھی نہ کر سکے تو ایک ماہ میں پڑھ لیا کر ، اگر یہ بھی نہ کر سکے تو سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کر۔
أَبِي رَافِعٍ ← سعيد بن أبي سعيد مولى أبي بكر بن حزم ← موسى بن عبيدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 991
