المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ ومما أسند سعيد بن زيد رضي الله عنه · حديث 353
350 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عبد الله بن رجاء أبنا المسعودي عن نفيل بن هشام بن سعيد بن زيد عن أبيه عن جده قال Y خرج ورقة بن نوفل و زيد بن عمرو يطلبان الدين حتى مرا بالشام فأما ورقة فتنصر وأما زيد فقيل له : إن الذي تطلب أمامك فانطلق حتى أتى الموصل فإذا هو براهب فقال : من أين أقبل صاحب المرحلة ؟ قال : من بيت إبراهيم قال : ما تطلب ؟ قال : الدين فعرض عليه النصرانية فأبى أن يقبل وقال : لا حاجة لي فيه قال : أما إن الذي تطلب سيظهر بأرضك فأقبل وهو يقول : لبيك حقا حقا تعبدا ورقا البر أبغي لا الحال وهل مهاجر كمن قال عذت بما عاذ به إبراهيم وهو قائم وأنفي لك اللهم عان راغم مهما تجشمني فإني جاشم ثم يخر فيسجد للكعبة قال : فمر زيد بن عمرو بالنبي صلى الله عليه و سلم و زيد بن حارثة وهما يأكلان من سفرة لهما فدعياه فقال : يا ابن أخي لا آكل مما ذبح على النصب قال : فما رؤي النبي صلى الله عليه و سلم يأكل مما ذبح على النصب من يومه ذلك حتى بعث قال : وجاء سعيد بن زيد إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إن زيدا كان كما رأيت أو كما بلغك فاستغفر له قال : ( نعم فأستغفر له فإنه يبعث يوم القيامة أمة وحده )
حضرت نفیل بن ہشام بن سعید بن زید اپنے والد سے ، ان کے والد ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ورقہ بن نوفل اور زید بن عمر دونوں دین کی تلاش میں نکلے، جب ملک شام سے گزرے تو ورقہ تو نصرانی ہو گئے ، زید سے کہا گیا: آپ جو طلب کر رہے ہیں وہ آگے ہے۔ حضرت زید چلے یہاں تک کہ موصل آئے ، وہاں ایک راہب تھا، اس نے کہا: یہ سواری والا کہاں سے آیا ہے ؟ کہا: ابراہیم کے شہر سے ۔ اس نے کہا: کیا تلاش کر رہے ہیں؟ کہا: دین! اس نے کہا : نصرانی مذہب قبول کریں۔ زید نے قبول کرنے سے انکار کر دیا، کہا: مجھے اس میں کوئی ضرورت نہیںہے ، اس نے کہا: جس کو تو تلاش کر رہا ہے ، عنقریب تیرے شہر میں آنے والا ہے ۔ پس وہ تشریف لائے اس حال میں کہ وہ نعرے لگا رہے تھے: میں حاضر ہوں ، حق ہے حق ہے ، عبادت کرنا اور نرمی کرنا ہے ، مجھے نیکی کی تلاش ہے لیکن فوراً نہیں ملی ، کیا میں ہجرت کرنے والا ہوں اس آدمی کی طرح جس نے کہا تھا: میں نے پناہ لی اس سے جس سے ابراہیم علیہ السلام نے پناہ لی اس حال میں کہ وہ کھڑے تھے، تیرے لیے میں نے ہر چیز کی نفی کی، اے اللہ ! تو مدد کرنے والا ہے ، دشمن کو برباد کرنے والا ہے ، جب تو نے مجھے مشکل اٹھانے پر مجبور کیا ہے تو میں مشکل اٹھاؤں گا، پھر گرے اور کعبہ کو سجدہ کر رہے تھے ۔ راوی کا بیان ہے : زید بن عمرو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور زید بن حارثہ کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ دونوں اپنے دستر خوان سے کھا رہے تھے، انہوں نے اسے دعوت دی، اس نے جواب دیا: جو چیز بتوں کے نام پر ذبح کی گئی ہو، اس سے نہیں کھاتا ، اے میرے بھائی کے بیٹے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتوں کے نام پر ذبح کی ہوئی چیز کھاتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ مبعوث ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : اور سعید بن زید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! زید اسی طرح تھا جس طرح آپ نے دیکھ لیا جیسے آپ کو خبر پہنچی ، اس کے لیے استغفار کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! پس آپ نے اس کے لیے استغفار کی کیونکہ وہ قیامت کے دن ایک اکیلا اُمت بنا کر اٹھائے جائے گا۔
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← عبد الله بن رجاء أبنا المسعودي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 353
