المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ معانق أو أبو معانق أو ابن معانق عن أبي مالك الأشعري هكذا يروى اسمه بالشك · حديث 3465
3464 - حدثنا إسماعيل بن قيراط الدمشقي ثنا سليمان بن عبد الرحمن ثنا إسماعيل بن عياش عن سعيد بن يوسف عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلام عن ابن معانق الدمشقي Y عن أبي مالك الأشعري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أقام الصلاة وآتى الزكاة ومات يعبد الله لا يشرك به شيئا فإن حقا على الله عز و جل أن يدخله الجنة هاجر أو قعد في مولده فقال رجل : يا رسول الله إن حدثت بها الناس يطمئنوا إليها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله أعد للمجاهدين في سبيله مئة درجة بين كل درجتين كما بين السماء والأرض فلو كان عندي ما أتقوى به وأقوي المسلمين أو بأيديهم ما ينفقون به ما انطلقت سرية إلا كنت صاحبها ولكن ليس ذاك بيدي ولا بأيديهم ولو خرجت ما بقي أحد فيه خير إلا انطلق معي وذلك يشق علي فلوددت أن أغزو فأقتل ثم أحيى ثم أغزو فأقتل ثم أحيى فأقتل
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جس نے نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کی اور اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مرا تو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو،اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے ،ہجرت کی ہو یا وہاں بیٹھا رہا جہاں وہ پیدا ہوا تھا ۔ایک آدمی نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر میں لوگوں کو یہ بتاؤں تووہ اس پر اطمینان کر لیں گے۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :اللہ عزوجل نے مجاہدین کے لیے سودرجات تیار کررکھے ہیں ،ہر دو درجوں کے درمیان فاصلہ زمین و آسمان جتنا ہے،اگر میرے پاس وہ چیز ہو جس کے ذریعے قوت حاصل کی جاتی ہے ،یا مسلمان جس سے قوت حاصل کرتے ہیں ۔یا اپنے ہاتھوں سے خرچ کرتے ہیں،وہ سریہ میں بھیج دیا جائے لیکن وہ میرے اور مسلمانوں کے پاس نہیں ہے،اگر میں نکلتا تو کوئی بھلا آدمی نہ رہ جاتا سوائے اس کے جو میرے ساتھ نکلتا ،یہ مجھ پر دشوار ہے،میں پسند کرتا ہو ں کہ میں جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں ،پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں ۔
أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← ابن معانق الدمشقي ← أَبِي سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنَ قِيرَاطٍ الدِّمَشْقِيُّ
Hadith 3465
