المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 81 - الأغر المزني · حديث 883
879 - حدثنا العباس بن الفضل الاسفاطي ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أخي عن سليمان بن بلال عن ابن أبي عتيق عن نافع أن ابن عمر أخبره Y أن الأغر وهو رجل من مزينة كانت له صحبة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم كانت له أوسق من تمر على رجل من بني عمرو بن عوف فاختلف إليه مرارا قال : فجئت النبي صلى الله عليه و سلم فأرسل معي أبا بكر الصديق رضي الله عنه : ألا أرى الناس يبدأونك بالسلام فيكون لهم الأجر فابدأهم السلام يكون لك الأجر
حضرت ابن عمر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اغر جو کہ مزینہ قبیلہ سے ایک آدمی ہیں ، ان کو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ میری کھجوروں کا ایک اوسق بنی عمر و بن عوف کے ایک آدمی کے ذمہ تھا ، اس سے کئی دفعہ اختلاف ہوا۔ حضرت اغررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ محمد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے میرے ساتھ حضرت ابو بکر کو بھیجا ۔ حضرت اغر فرماتے ہیں : جو بھی ہم کو ملتا وہ ہم کو سلام کرتا ۔ حضرب بابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ تجھے سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں ، ان کے لیے ثواب ہے ، تُو بھی ان سے سلام کرنے میں ابتداء کر، تیرے لیے بھی ثواب ہوگا۔
نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ← ابن أبي عتيق ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 883
