المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ يوسف بن مازن الراسبي عن الحسن بن علي رضي الله عنه · حديث 2755
2754 - حدثنا أحمد بن عمرو البزار و العباس بن حمدان الحنفي قالا ثنا زيد بن أخزم ثنا أبو داود ثنا القاسم بن الفضل Y عن يوسف بن مازن الراسبي قال : قام رجل إلى الحسن بن علي فقال : سودت وجوه المؤمنين فقال : لا تؤنبني رحمك الله فإن رسول الله قد أري بني أمية يخطبون على منبره رجلا فرجلا فساءه ذلك فنزلت هذه الآية { إنا أعطيناك الكوثر } نهر في الجنة ونزلت { إنا أنزلناه في ليلة القدر * وما أدراك ما ليلة القدر * ليلة القدر خير من ألف شهر } تملكه بني أمية قال القاسم : فحسبنا ذلك فإذا هو ألف لا يزيد ولا ينقص
حضرت یوسف بن مازن الراسبی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کھڑا ہوا، اُس نے کہا: آپ نے ایمان والوں کے چہرے کو کا لا کر دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: مجھے نہ بتاؤ ! اللہ تم پر رحم کرے !کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنوامیہ دکھائے گئے تھے کہ آپ کے منبر پر خطبہ دے رہے ہیں ، ایک کے بعد دوسرا آدمی ، تو یہ آیت نازل ہوئی : " آپ پیارے مصطفیٰ ! بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائی ہیں " کو ثر سے مراد جنت میں ایک نہر ہے ، اور یہ آیت نازل ہوئی : "ہم نے قرآن لیلتہ القدر میں نازل کیا، آپ کو کیا معلوم کہ لیلتہ القدر کیا ہے ، لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے "۔ بنوامیہ مالک ہوگئے ہیں ۔ امام طبرانی فرماتے ہیں: یہ ہزار تھے ، اس سے نہ زیادہ ہوئے نہ کم ۔
سودت وجوه المؤمنين ← قام رجل إلى الحسن بن علي ← يوسف بن مازن الراسبي ← الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← أحمد بن عمرو البزار و العباس بن حمدان الحنفي
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2755
