المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 65 - الأسود بن سريع المجاشعي · حديث 823
819 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا مبارك بن فضالة عن الحسن عن الأسود بن سريع قال Y كنت أنشده يعني النبي صلى الله عليه و سلم ولا أعرف أصحابه حتى جاء رجل بعيد ما بين المناكب أصلع فقيل لي : أسكت أسكت فقلت : واثكلاه من هذا الذي أسكت له عند النبي صلى الله عليه و سلم ؟ فقيل : إنه عمر بن الخطاب فعرفت والله بعد أنه كان يهون عليه لو سمعني أن لا يكلمني حتى يأخذ برجلي فيسحبني إلى البقيع
حضرت اسود بن سریع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھ رہاتھا ، میں آپ کےصحابہ کو نہیں جانتا تھا ، ایک آدمی آیا اس کے دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا اور سر کے اگلے حصہ پر بال نہیں تھے، مجھے کہا گیا کہ خاموش ہو جاؤ !خاموش ہو جاؤ! میں نے کہا: میری ماں روئے !یہ آدمی کون ہے ؟ کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خاموش کروایا گیا ہے ۔ کہا گیا: عمر بن خطاب !میں نے پہنچان لیا، اللہ کی قسم ! دور سے اس کا رعب ڈالا گیا ، اگر میری بات سن لیتے تو میرے ساتھ گفتگو کیے بغیر مجھے پاؤں سے پکڑتا اور جنت البقیع چھوڑ آتا۔
الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،
Hadith 823
