المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 282 - الحارث بن مالك الأنصاري · حديث 3368
3367 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي حدثنا أبو كريب ثنا زيد بن الحباب ثنا ابن لهيعة عن خالد بن يزيد السكسكي عن سعيد بن أبي هلال عن محمد بن أبي الجهم Y عن الحارث بن مالك الأنصاري أنه مر برسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له : كيف أصبحت يا حارث ؟ قال : أصبحت مؤمنا حقا فقال : : انظر ما تقول ؟ فإن لكل شيء حقيقة فما حقيقة إيمانك ؟ فقال : قد عزفت نفسي عن الدنيا وأسهرت لذلك ليلي وأطمأن نهاري وكأني أنظر إلى عرش ربي بارزا وكأني أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون فيها وكأني أنظر إلى أهل النار يتضاغون فيها فقال : يا حارث عرفت فالزم ثلاثا
حضرت حارث بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرے ' آپ نے مجھے فرمایا: اے حارث ! تم نے صبح کیسے کی ہے؟ عر ض کی : یا رسول اللہ ! میں نے یقناً حالت ایمان میں کی ہے۔ آپ نے فرمایا: دیکھو! کیا کہہ رہے ہو؟ کیونکہ ہر شی کی حقیقت ہوتی ہے' تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ عرض کی : میں نے اپنے آپ کو دنیا سے کنارہ کش کیا اور اپنی رات اس کی راد میں گزاری اور دن کو مطمئن تھا' گویا میں اب بھی اپنے رب کے عرش کو صاف دیکھ رہا ہوں اور جنت والوں کو دیکھ رہا ہوں' وہ اس میں اس کی زیارت کر رہے ہیں اور دوزخ والوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس میں جل رہے ہیں' آپ نے فرمایا: اے حارث ! تو نے پہچان لیا' اس پر ہمیشگی اختیار کر ۔ تین مرتبہ فرمایا۔
الحارث بن مالك الأَنصارى ← محمد بن أبي الجهم، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكِيُّ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ
Hadith 3368
