المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب · حديث 426
423 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا محمد بن عبد الله الرقاشي ثنا معتمر بن سليمان قال سمعت أبي عن أبي عثمان يقول Y نبئت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كانت عنده أم سلمة فجاء جبريل عليه السلام فتحدث ما قضى له فلما قام قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا أم سلمة من هذا ؟ ) قالت : دحية قالت : ولأيم الله ما حسبته إلا دحية حتى سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب بخبر جبريلعليه السلام قال معتمر قال أبي لأبي عثمان : ممن سمعته ؟ قال : من أسامة
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے ، آپ کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے ، آپ نے گفتگو کی جو آپ کے لیے فیصلے ہوئے تھے ، جب حضرت جبریل علیہ السلام کھڑے ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے ام سلمہ ! یہ کون ہے ؟ حضرت ام سلمہ نے عرض کی : دحیہ ! حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! میرا خیال یہ تھا کہ یہ حضرت دحیہ ہیں یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، آپ نے منبر پر خطبہ دیا، حضرت جبریل علیہ السلام کی خبر دی ۔ حضرت معتمر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت ابو عثمان سے کہا : یہ آپ نے کس سے سنا ہے ؟ فرمایا : اسامہ سے۔
نُبِّئْتُ ← أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 426
