المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب في الدية · حديث 516
513 - حدثنا المقدام بن داود المصري ثنا أسد بن موسى ثنا سفيان بن عيينة عن أيوب السختياني قال سمعت أبا المليح عن أبيه وكان قد صحب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y كانت فيها امرأتان ضربت إحداهما الأخرى بعمود فقتلها وقتلت ما في بطنها فقضى النبي صلى الله عليه و سلم في المرأة بالعقل وفي الجنين بغرة عبد أو أمة أو بفرس أو بعيرين من الإبل أو كذا وكذا من الغنم فقال رجل من رهط القاتلة : كيف نعقل يا رسول الله من لا أكل ولا شرب ولا صاح فاستهل ؟ فمثل ذلك يطل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أسجاعة أنت ؟ ) وقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ميراث المرأة لزوجها وولدها وأن العقل على عصبة القاتلة
حضرت ابو سختیانی فرماتے ہیں : میں نے ابو الملیح سے سنا ، انہوں نے اپنے والد گرامی سے روایت کیا، انہیں شرف صحابیت حاصل تھا فرماتے ہیں : دو عورتوں میں سے ایک عورت نے دوسری سے گڈی یا لاٹ ( جسے کھانے کے برتنوں میں سے ایک کو دوسرے پر عمودا! رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ) ماری تو اس عورت اور اس کے پیٹ والے بچہ کو مار دیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورت کے بارے میں دیت اور بچنے کے لیے چٹی کا فیصلہ فرمایا ۔ غلام یا لونڈی یا گھوڑا یا دو اونٹ یا اتنی اور اتنی بکریاں۔ قتل کرنے والی عورت کے گروہ سے ایک آدمی بول پڑا۔ جس بچے نے کھایا پیا نہیں ، چیخا نہیں کہ روئے اس کی دیت ہم کیسے ادا کریں ؟اے اللہ کے رسول ! اسی کی مثل تو رائیگاں ہوتی ہے ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب فرمایا : کیا تو سجع ساز ہے ؟ اور فیصلہ سنایا کہ عورت کی میراث اس کے خاوند اور اس کے بیٹے کے لیے ہے اور دیت قتل کرنے والی کے عصبہ پر ہے ۔ ( نوٹ : عصبہ وہ رشتہ دار ہوتا ہے جو اصحاب فروض کی عدم موجودگی میں کل مال کا اور ان کی موجودگی میں بقیہ کا مالک ہوتا ہے ۔ )
أَبَا الْمَلِيحِ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 516
