المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 3 · حديث 1552
1551 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عمر بن محمد عن محمد بن جبير بن مطعم أن أباه أخبره Y أنه بينا هو يسير مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه الناس مقفله من حنين علقه الأعراب يسألونه فاضطروه إلى سمرة فخطفت رداءه وهو على راحلته فوقف فقال : ( ردوا علي ردائي أتخشون علي البخل فوالله لو كان عدد هذه العضاه نعما لقسمته بينكم ثم لا تجدوني بخيلا ولا جبانا ولا كذابا )
حضرت محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ میرے والد نے بتایا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل رہےتھے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جنگ حنین سے لوگ واپس آ رہے تھے ،دیہات کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روک کرسوال کرنے لگے،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کانٹے دار درخت کے پاس لے گئے مجبور ہو کر ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اپنی چادر کانٹے اور درخت سے چمٹ گئی،اس حالت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری پر تھے ،آپ ٹھہرے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :میری چادر واپس کرو کیا تم خوف کرتے ہو کہ میرے متعلق بخل کرنے کا ،اللہ کی قسم اگر درختوں کی طرح میرے پاس نعمتیں ہوتیں تو میں تمھارے درمیان تقسیم کرتا ،تم مجھے بخیل اور کنجوس اور جھوٹا نہ پاتے ۔
مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1552
