المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ علي بن رباح اللخمي عن جبير بن مطعم · حديث 1610
1609 - حدثنا المقدام بن داود المصري ثنا أبو الأسود النضر بن عبد الجبار أنا ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن عامر بن يحيى عن علي ابن رباح حدثه عن جبير بن مطعم Y قال : كنت أكره أذى قريش رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما ظننت أنهم سيقتلوه خرجت حتى لحقت بدير من الديرات فذهب أهل الدير إلى رأسهم فأخبروه فقال : له حقه الذي ينبغي له ثلاثا فلما مرت ثلاث رأوه لم يذهب فانطلقوا إلى صاحبهم فأخبروه فقال : قولوا له : قد أقمنا لك حقك الذي ينبغي لك فإن كنت وصيا فقد ذهب وصيتك وإن كنت واصلا فقد نالك أن تذهب إلى من تصل وإن كنت تاجرا فقد نالك أن تخرج إلى تجارتك فقال : ما كنت واصلا ولا تاجرا وما أنا بنصيب فذهبوا إليه فأخبروه فقال : إن له شأنا فسلوه ما شأنه قال : فأتوه فسألوه فقال : لا والله إلا أني في قرية إبراهيم و ابن عمي يزعم أنه نبي فآذوه قومه وتخوفت أن يقتلوه فخرجت لأن لا أشهد ذلك قال : فذهبوا إلى صاحبهم فأخبروه بقولي قال : هلموا فأتيته فقصصت عليه قصصي وقال : تخاف أن يقتلوه ؟ قلت : نعم قال : وتعرف شبهه لو تراه مصورا ؟ قلت : نعم عهدي به منذ قريب فأراه صورا مغطاة فجعل يكشف صورة صورة ثم يقول : أتعرف ؟ فأقول : لا حتى كشف صورة مغطاة فقلت : ما رأيت أشبه شيء من هذه الصورة به كأنه طوله وجسمه وبعد ما بين منكبيه قال : فتخاف أن يقتلوه ؟ قال : أظنهم قد فرغوا منه قال : والله لا يقتلوه وليقتلن من يريد قتله وإنه لنبي وليظهرنه الله ولكن قد وجب حقه علينا فامكث ما بدا لك وادع بما شئت قال : فمكثت عندهم حينا ثم قلت : لو أطعتهم فقدمت مكة فوجدتهم قد أخرجوا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى المدينة فلما قدمت قامت إلي قريش فقالوا : قد تبين لنا أمرك وعرفنا شأنك فهلم أموال الصبية التي عندك استودعكها أبوك فقلت : ما كنت لأفعل هذا حتى تفرقوا بين رأسي وجسدي ولكن دعوني أذهب فأدفعها إليهم فقالوا : إن عليك عهد الله وميثاقه أن لا تأكل من طعامه قال : فقدمت المدينة وقد بلغ رسول الله صلى الله عليه و سلم الخبر فدخلت عليه فقال لي فيما يقول : ( إني لأراك جائعا هلموا طعاما ) قلت : لا آكل حتى أخبرك فإن رأيت أن آكل أكلت قال : فحدثته بما أخذوا علي قال : ( فأوف بعهد الله ولا تأكل من طعامنا ولا تشرب من شرابنا )
حضرت جبیر بن معطم فرماتے ہیں :قریش مکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیفیں دیتے تھے،میں اس چیز کو ناپسند کرتا تھا ،پس جب مجھے یہ گمان ہو اکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قتل کردیں گے ،میں نکلاایک گرجا میں جا ڈیرہ لگایا ،گرجا والے اپنے سردار کے پاس گئے اور اسے بتایا تو اس نے کہا :اس کا حق ہے کہ وہ تین دن رہے ،پس جب تین دن گزر گئے ،انہوں نے اسے دیکھا ،وہ نہیں گیا ،پس اپنے مالک کی طرف گئے ،اسے خبر دی ،اس نے کہا :اس سے بولو !جتنے دن ٹھہر نا تیر احق تھا ہم نے تجھے ٹھہرا یا پس اگر آپ وصی ہیں تو آپ کی وصیت ختم ہو گئی اور اگر آپ نے یہاں سے کسی آدمی کےپاس جانا ہے تو راستہ کھلا ہے،آپ اس سے جا کر ملیں اور اگر آپ تاجر ہیں تو آپ اپنی تجارت کرنے کو جائیں ،پس آپ نے کہا :میں نے کسی سے ملنے بھی نہیں جانا ،تاجر نہیں ہوں ،اور نہ ہی یہاں پر مستقل ٹھہرنے والا ہوں ،پس انہوں نے اپنے سردار کے پاس جا کر خبر دی ،اس نے کہا بے شک اسے کوئی ضروری کام ہے،اس سے پوچھو ،اس کا خاص کام کیا ہے۔پس وہ آئے ،سوال کیا تو فرمایا :پس مجھے اور کام نہیں ہے،اتنی بات ہےکہ میں ابراہیم علیہ اسلام کے گاؤں(مکہ )میں رہتا ہوں اور میرے چچا کا بیٹا گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ،اس کی قوم نے اسے بہت تکلیف دی ،مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں اسے قتل ہی نہ کردیں ،پس میں وہاں سے نکل آیا ہوں کہ یہ کام میری آنکھوں کےسامنے نہ ہو ،پس انہوں نے اپنے سردار کو جا کر اس کی خبر دی اور میری باتیں اسے بتائیں ،اس نے کہا اسے لے آؤ ! پس میں اس کے پاس آیا،میں نے اپنے قصے اسے سنائے اور اس نے کہا :کیا تجھے خوف ہے کہ وہ اسے قتل کردیں گے؟میں نے کہا :ہاں ! اس نے کہا :کیا تو اس کی شبیہ کو پہچان لے گااگر تو اس کی تصویر دیکھے ؟میں نے کہا :ہاں ! میرا زمانہ اس کے قریب ہے ،پس اس نے چند ایسی تصویریں دکھائیں جن پر عزت و احترام سے پردہ ڈال رکھا تھا ،پس وہ ایک ایک تصویر نکال کر سامنے کرنے لگا ،پھر کہتا :کیا تم پہچانتے ہو ؟میں کہتا نہیں ! آخر میں اس نے ایک تصویر نکالی جسے خوب ادب سے ڈھانپ کر رکھا گیا تھا ،پس میں نے کہا :یہی سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے،گویا وہ ان کی مکمل لمبائی ،ڈیل ڈول جسم تھا اور اس کے بعد اس نے ان کے دونوں کندھوں کو ظاہر کیا ،اس نے کہا :کیا تمہیں خوف ہےکہ وہ انہیں شہید کردیں گے؟میں نے کہا :میرا گمان ہےکہ وہ اس کام سے فارغ بھی ہو چکے ہوں گے ،اس نے کہا :قسم بخدا ! وہ اسے قتل نہیں کر سکیں گے ،جو اس کے قتل کا ارادہ کرے گا وہ خود قتل ہو جائے گابے شک وہ نبی برحق ہیں ،اللہ تعالیٰ انہیں غلبہ عطا فرمائے گا ،لیکن اس کا حق ہم پر واجب ہے،جتنا چاہو رہو اور دل کرے ،مانگو۔ایک گھڑی ٹھہر کر میں نے کہا :کاش میں ان کی اطاعت کرتا ،پس میں مکہ واپس آیا ،میں نے دیکھا کہ قریش نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کومکہ سےمدینہ کی طرف ہجرت پر مجبور کردیا ،پس جب میں آیا ،قریشی آکر میرے پاس کھڑے ہوئے ،کہا :تیری بات بھی ہمیں پتہ چل گئی ہے اور ہم نے تیرا کام پہچان لیا ،پس (جلدی کرو)بچپن کے زمانے کے وہ مال لاؤجو تمھارے باپ نے تمہیں دیے تھے ؟میں نے جواب میں کہا :میں یہ کام نہیں کروں گا حتی کہ تم میرا سر تن سے جدا کردو ،لیکن مجھے جانے دو۔پس میں نے وہ ان کو دیا تو انہوں نے کہا :تم پر اللہ کاوعدہ اور میثاق لازم ہے کہ ان کا کھانا نہیں کھاؤ گے۔فرماتے ہیں :میں وہاں سے چل کر مدینے آیا ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی میرے آنے کی خبر ہو گئی ،پس میں آپ کے پاس آیا ،باتوں باتوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا :آپ پر بھوک کے آثار دیکھتا ہوں ،آؤ کھانا کھا لو! میں نے عرض کی میں کھانا نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک بات بتاؤں ،پس اس کے بعد اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خیال ہو اکہ میں کھاؤں تو کھاؤں گا ،پس جو قریش نے مجھ سے وعدہ لیا تھا ،میں نے بیان کردیا ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :پس اللہ کاوعدہ پورا کرو اور ہمارا کھانا نہ کھاؤ اور نہ ہی ہمارا پانی پیو۔
جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← علي ابن رباحٍ، ← عَامِرُ بْنُ یَحْیَی ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← اَبُو الْاَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1610
