المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ وما روى ابن عباس رضي الله عنه عن أبي رافع · حديث 916
912 - حدثنا موسى بن هارون ثنا إسحاق بن راهويه حدثنا وهب بن جرير حدثني أبي قال سمعت محمد بن إسحاق يقول حدثني حسين بن عبد الله عن عكرمة عن ابن عباس عن أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y كنت غلاما للعباس بن عبد المطلب وكنت قد أسلمت وأسلمت أم الفضل وأسلم العباس وكان يكتم إسلامه مخافة قومه وكان أبو لهب قد تخلف عن بدر وبعث مكانه العاص بن هشام وكان عليه دين فقال له : اكفني هذا الغزو وأترك لك ما عليك ففعل فلما جاء الخبر وكبت الله أبا لهب وكنت رجلا ضعيفا أنحت هذه الاقداح في حجرة ومر بي فوالله إني لجالس في الحجرة أنحت أقداحي وعندي أم الفضل إذ الفاسق أبو لهب يجر رجليه أراه قال : حتى جلس عند طنب الحجرة فكان ظهره إلى ظهري فقال الناس : هذا أبو سفيان بن الحارث فقال أبو لهب : هلم إلي يا ابن أخي فجاء أبو سفيان حتى جلس عنده فجاء الناس فقاموا عليهما فقال : يا ابن أخي كيف كان أمر الناس ؟ قال : لا شيء والله ما هو إلا أن لقيناهم فمنحناهم أكتافنا يقتلوننا كيف شاؤوا ويأسروننا كيف شاؤوا وأيم الله لم لمت الناس قال : ولم ؟ فقال : رأيت رجالا بيضا على خيل بلق لا والله ما تليق شيئا ولا يقوم لها شيء قال : فرفعت طنب الحجرة فقلت : تلك والله الملائكة فرفع أبو لهب يده فلطم وجهي وثاورته فاحتملني فضرب بي الأرض حتى نزل علي فقامت أم الفضل فاحتجزت فأخذت عمودا من عمد الحجرة فضربته به ففلقت في رأسه شجة منكرة وقالت : أي عدو الله استضعفته أن رأيت سيده غائبا عنه فقام ذليلا فوالله ما عاش إلا سبع ليال حتى ضربه الله بالعدسة فقتلته فلقد تركه ابناه ليلتين أو ثلاثة ما يدفناه حتى أنتن فقال رجل من قريش لابنيه : ألا تستحيان ؟ إن أباكما قد أنتن في بيته فقالا : إنا نخشى هذه القرحة وكانت قريش يتقون العدسة كما يتقى الطاعون فقال رجل : انطلقا فأنا معكما قال : فوالله ما غسلوه إلا قذفا بالماء عليه من بعيد ثم احتملوه فقذفوه في أعلى مكة إلى جدار وقذفوا عليه الحجارة
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضر ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : میں حضرت عباس بن عبدالمطلب کا غلام تھا ، میں اور حضرت اُم الفضل ، حضرت عباس اسلام لا چکے تھے ، لیکن حضرت عباس اپنا ایمان اپنی قوم سے چھپاتے تھے ، ابو لہب بدر میں شریک نہیں ہوا تو اُس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا تھا ، عاص نے ابو لہب کا قرض دینا تھا ، ابو لہب نے کہا: اس غزوہ میں آپ میری نمائندگی کریں ، جو آپ کے ذمہ قرض ہے، میں اس کو چھوڑ دوں گا۔ عاص نے ایسے کیا، جب خبر آئی کہ اللہ نے ابو لہب کو زلیل کردیا ، میں ایک کمزور سا آدمی تھا ، ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر یہ پیالے بنایا کرتاتھا ، وہ میرے پاس سے گزرا۔ قسم بخدا! میں اسی کمرہ میں بیٹھ کر اپنے پیالے بنا رہا تھا ۔حضرت اُم فضل بھی میرے پاس تھیں جبکہ فاسق ابولہب اپنی ٹانگیں گھسٹیتا ہوا آگیا۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ حضرت ابورافع نے یہ بات بھی کی کہ حجرہ کی طنابوں کے پاس آکر بیٹھ گیا ، پس اس کی پیٹھ ، میری پیٹھ کی طرف تھی تو لوگوں نے کہا: وہ دیکھو ابو سفیان بن حارث آگئے تو ابو لہب نے کہا: اے میرے بھائی کے بیٹے ! ادھر آؤ۔ ابو سفیان بھی آکر اس کے پاس بیٹھ گیا، پس لوگ بھی آکر ان دونوں کے پاس (تماشائیوں کی طرح )کھڑے ہوگئے ۔ ابو لہب نے کہا: اے بھائی کے بیٹے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتاؤ! لوگوں کا معاملہ کیسے رہا؟ کہا: لاشی (بتانے کے قابل نہیں) قسم بخدا! ہوا یہ کہ ہماری ان سے مڈ بھیڑ ہوئی ، پس ہم نے اپنے کندھے ان کے سامنے کر دیئے ،انہوں نے جیسے چاہا ہمیں قتل کرتے رہے ، جیسے چاہا قیدی بناتے رہے ، قسم بخدا! میں اپنے لوگوں کو ملامت نہیں کرتا ۔ ابو لہب نے کہا: کیوں؟ اس نے کہا: میں نے سفید رنگ کے آدمی ، ابلق گھوڑوں پر سوار دیکھے ، قسم بخدا! وہ کسی شے سے ملتے جلتے نہیں تھے ، (وہ کوئی جدا گانہ مخلوق تھی ) نہ کسی شے کو ان کے لیے بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے ۔ راوی کا بیان ہے : میں نے حجر ے کی طنابیں اٹھا کر کہا: قسم بخدا! وہ فرشتے تھے ۔ یہ سن کر ابو لہب کو اتنا غصہ آیا کہ ہاتھ اٹھا کر مجھے تھپڑ رسید کیا، میرے دل میں اس سے بدلہ لینے کا جذبہ بیدار ہوا (کیونکہ میں مسلمان ہو چکا تھا ) میں اس سے لڑنے لگا، اس نے مجھے زمین سے اوپر اٹھا یا اور زمین پر دے مارایہاں تک کہ میرے اوپر چڑھ بیٹھا ۔ (یہ دیکھ کر) ام فضل کھڑی ہوئیں ، وہ رکاوٹ بنیں ۔ میں نے حجرہ کی چوب اٹھا کر اسے دے ماری اور اس کا سر پھوڑ دیا ، اسے بہت سارازخم ہو گیا ۔ حضرت ام فضل بولیں : اے اللہ کے دشمن ! تو نے اسے کمزور سمجھا، اس کے سر دار کو غائب پایا ؟ پس وہ اٹھا اس حال میں کہ وہ ذلیل و خوار تھا ۔ قسم بخدا! ابھی ساتھ راتیں گزری تھیں اللہ نے اسے جسم کے دانوں سے مار دیا ، اس کے دونوں بیٹوں نے اسے دو یا تین رات اسی حال میں پڑا رہنے دیا ، اسے دفن نہیں کیا۔ ایک قریشی آدمی نے اس کے بیٹوں کو شرم دلائی کہ تمہارا باپ گھر پڑا پھول گیا ہے ؟ ان دونوں نے کہا: ہم اس بیماری سے بڑا ڈرتے ہیں ، یہ ہے بھی حقیقت کہ قریش دانوں کی بیماری سے اس طرح ڈرتے تھے جس طرح طاعون سے ڈرا جاتا ہے ، پس ایک آدمی نے کہا: چلو! میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ حضرت ابو رافع فرماتے ہیں : قسم بخدا! انہوں نے اسے غسل تک نہ دیا ، بس دور سے کھڑے ہو کر اس پر پانی پھینک دیا ، انہوں نے اسے اٹھا کر مکہ کے اوپر والی طرف ایک دیوار کے پاس پھینک دیا اور بڑا سا پتھر اس پر پھینک دیا ( گویا اس طرح اس کی قبر بنائی )
بدر وبعث مكانه العاص بن هشام وكان عليه دين ← أَسْلَمَ الْعَبَّاسُ، وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ مَخَافَةً قَوْمِهِ، وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ قَدْ تَخَلَّفَ ← كُنْتُ قَدْ أَسْلَمْتُ، وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ، ← كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 916
