المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ 104 - بنة الجهني عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 1191
1190 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا عبد الله بن صالح حدثني ابن لهيعة عن أبي الزبير أخبرني جابر بن عبد الله Y أن بنة الجهني أخبره أن نبي الله صلى الله عليه و سلم مر بقوم في مسجد سلوا فيه سيفا فهم يتعاطونه بينهم فقال : ( لعن الله من فعل هذا أولم أنهكم عنه ؟ فإذا سل أحدكم السيف فليغمده ثم ليعطه صاحبه كذلك )
حضرت بنۃ الجہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ' انہوں نے تلوار سونتی ہوئی تھی ' وہ اس کر پکڑنے کے لیے اپنے پاؤں کی انگلیوں پر کھڑے ہو کر ہاتھ بڑھا رہے تھے ' آپ نے فرمایا: اللہ کی لعنت ہو جو ایسا کرے کیا میں نے تمہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کیا؟ جب تم میں سے کسی نے تلوار سونتی ہوئی ہو اس کو نیام میں کرے' اسی طرح اپنے ساتھی کو دے۔
جابر بن عبد الله أن بنة الجهني ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1191
