المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ من اسمه أسامة 11 - أسامة بن زيد بن حارثة حب رسول الله صلى الله عليه و سلم يكنى أبا محمد ويقال : أبو زيد · حديث 372
369 - حدثنا خلف بن عمرو العكبري ثنا معلى بن مهدي الموصلي ثنا أبو عوانة عن عمر بن أبي سلمة عن أبيه حدثني أسامة بن زيد قال Y مررت بالمسجد فإذا علي و العباس رضي الله عنهما قاعدان فقالا : يا أسامة استأذن لنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله هذا علي و العباس بالباب يريدان الدخول عليك قال : ( تدري ما جاء بهما ؟ ) قلت : لا والله يا رسول الله ما أدري ما جاء بهما قال : ( ولكني قد علمت ما جاء بهما ؟ ائذن لهما ) فدخلا عليه فقال له علي : يا رسول الله جئنا نسألك أي أهلك أحب إليك ؟ قال : ( فاطمة بنت محمد ) صلى الله عليه و سلم قال علي : والله يا رسول الله ما عن أهلك أسأل قال : ( فأحب أهلي إلي من أنعم الله عليه وأنعمت عليه أسامة ) قال : ثم من يا رسول الله ؟ قال : ثم أنت ) قال العباس : أجعلت عمك آخرهم ؟ قال : ( إن عليا سبقك بالهجرة )
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ میں مسجد میں کے پاس سے گزارا ، وہاں حضرت علی و عباس رضی اللہ عنہما تشریف فرما تھے۔ دونوں نے کہا : اے اسامہ ہمارے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لیں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دروازہ پر علی اور عباس ہیں ، دونوں آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں ۔ آ پ نے فرمایا : تم جانتے ہو کہ یہ دونوں کیسے آئے ہیں ؟ میں نے عرض کی : نہیں اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! مجھے معلوم نہیں ہے کہ دونوں کیوں آئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا :میں جانتا ہوں کہ دونوں کیسے آئے ہیں ؟ان دونوں کو اجازت دو ۔ دونوں داخل ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ سے پوچھنے آئے ہیں کہ آ پ کے گھر والوں میں کون زیادہ پسندیدہ ہے ؟آپ نے فرمایا : فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں آپ کے گھر والوں کے متعلق نہیں پوچھا، آپ نے فرمایا مجھے میرے گھر والوں میں سے زیادہ پسند وہ ہے ۔ جس پر اللہ نے اور میں نے انعام کیا ہے وہ اسامہ بن زید ہے ۔ آپ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ !پھر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : تُو ! حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا آپ نے اپنے چچا کو آخر میں رکھا ہے ۔ آپ نے فرمایا : علی آپ سے ہجرت میں سبقت لے گیا ہے ۔
مررت بالمسجد فإذا علي و العباس قاعدان ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ ← خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 372
