المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب في كفارة الظهار · حديث 620
616 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ( ح ) وحدثنا عبيد الله بن محمد بن عبد الرحيم البرقي ثنا عمرو بن خالد الحراني ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن معمر بن عبد الله بن حنظلة عن يوسف بن عبد الله بن سلام حدثتني خويلة بنت ثعلبة وكانت عند أوس بن الصامت أخي عبادة بن الصامت قالت Y دخل علي ذات يوم وكلمني بشيء وهو فيه كالضجر فراددته فقال : أنت علي كظهر أمي ثم خرج فجلس في نادي قومه ثم رجع إلي فأرادني على نفسي فامتنعت منه فشاددني فغلبته بما تغلب به المرأة الرجل الضعيف فقلت : كلا والذي نفس خويلة بيده لا تصل إليها حتى يحكم الله في وفيك حكمه فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أشكو إليه ما لقيت منه فقال : ( زوجك وابن عمك فاتقي الله ) وانزل الله عزوجل { قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها } حتى بلغ الكفارة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( مريه فليعتق رقبة ) قالت : يا رسول الله والله ما عنده رقبة يعتقها قال : ( فليصم شهرين متتابعين ) قالت : يا رسول الله شيخ كبير والله ما به من صيام قال : ( فليطعم ستين مسكينا ) قالت : والله يا رسول الله ما عنده ما يطعم قال : ( سنعينه بعرق من تمر ) والعرق يسع ثلاثين صاعا قلت : وأنا أعينه بعرق آخر قال : ( أحسنت مريه فليتصدق به )
حضرت خویلہ بنت ثعلبہ، حضرت اوس بن صامت جو حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ یہ ایک دن میرے پاس آئے مجھ سے کسی شے کی بات کی کہ غصے کی حالت میں تھے ، میں نے ان کی بات رد کر دی، انہوں نے کہا: تو میری ماں کی مثل ہے ، پھر نکلے اور اپنی قوم کے پاس جا کر بیٹھے پھر واپس میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے سے جماع کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے ان کو روک دیا، انہوں نے مجھ پر سختی کی اور میں نے بھی سختی کی ، لہذا میں ان پر غالب آ گئی ، جس طرح ایک عورت کمزور مرد پر غالب آ جاتی ہے ۔ میں نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں خویلہ کی جان ہے تو میرے پاس نہیں آ سکتا یہاں تک کہ اللہ میرے اور تیرے درمیان فیصلہ نہ فرما دے۔ میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بارگاہ میں آئی ان کی شکایت کرنے کے لیے جو مجھے ان کی طرف سے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نےفرمایا : وہ تیرا شوہر ہے ، تیرا چچا زاد ہے ، تو اللہ سے ڈر، اللہ پاک نے یہ آیت کریمہ اتاری : " بے شک اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی " کفارے تک آیت ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا حکم دو۔ میں نے عرض کی : اس کے پاس غلام آزاد کرنے کے لیے نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا : اس کو دو ماہ لگاتار روزے رکھنے کا حکم دو۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ بہت بوڑھا ہے ، آپ نے فرمایا : اس کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دو ۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جو کھلا سکے ۔ آپ نے فرمایا : ہم اس کی مدد کریں گے ایک کھجور کے عرق کے ساتھ ۔ عرق وہ ہے جس میں تیس صاع آئیں۔ میں نے عرض کی : میں دوسرے عرق کے ساتھ مدد کروں گی۔ آپ نے فرمایا : تو نے اچھا کیا ، تو اسے حکم دے کہ اسے صدقہ کر دے ۔
كانت عند أوس بن الصامت أخي عبادة بن الصامت ← يوسف بن عبد الله بن سلام حدثتني خويلة بنت ثعلبة ← مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 620
