المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب من دلائل نبوة رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 579
575 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن يوسف الفريابي ثنا الأوزاعي ( ح ) وحدثنا أبو عبد الملك أحمد بن إبراهيم القرشي ثنا إبراهيم بن عبد الله بن العلاء بن زبر الحمصي حدثني أبي عبد الله بن العلاء عن الزهري و الأوزاعي قالا ثنا المطلب بن عبد الله بن حنطب حدثني عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري حدثني أبي قال Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة غزاها فأصاب الناس مخمصة فاستأذن الناس رسول الله صلى الله عليه و سلم في نحر بعض ظهورهم فهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يأذن لهم في ذلك فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أرأيت يا رسول الله إذا نحن نحرنا ظهرنا ثم لقينا عدونا غدا ونحن جياع رجال ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فما ترى يا عمر ؟ ) قال : تدعو الناس ببقايا أزوادهم ثم تدعو لنا فيها بالبركة فإن الله عز و جل سيبلغنا بدعوتك إن شاء الله قال : فكأنما كان على رسول الله صلى الله عليه و سلم غطاء فكشف فدعا بثوب فأمر به فبسط ثم دعا الناس ببقايا أزوادهم فجاؤوا بما كان عندهم فمن الناس من جاء بالجفنة من الطعام أو الحفنة ومنهم من جاء بمثل البيضة فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم فوضع على ذلك الثوب ثم دعا فيه بالبركة وتكلم بما شاء الله أن يتكلم ثم نادى في الجيش فجاؤوا ثم أمرهم فأكلوا وطعموا وملأوا أوعيتهم ومزاودهم ثم دعا بركوة فوضعت بين يديه ثم دعا بماء فصبه فيها ثم مج فيها فتكلم بما شاء الله أن يتكلم ثم أدخل خنصره فيهان فأقسم بالله : لقد رأيت أصابع رسول الله صلى الله عليه و سلم تفجر ينابيع من الماء ثم أمر الناس فشربوا وسقوا وملأوا قربهم وأداويهم ثم ضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى بدت نواجذه ثم قال : ( أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله لا يلقى الله بهما أحد يوم القيامة إلا دخل الجنة على ما كان )
حضرت عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، صحابہ کرام کو بھوک لگی تو صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض سواریاں ذبح کرنے کی اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دینے کا ارادہ فرمایا ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اب ہم پنی سواریاں ذبح کریں گے ، پھر ہم کل دشمنوں کا سامنا کریں گے تو پیدل ہوں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عمر ! تیری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : لوگوں کو فرمائیں کہ وہ اپنے بچے ہوئے زادرہ راہ لائیں ، پھر آپ ہمارے لیے اس میں برکت کی دعا فرمائیے بے شک اللہ عزوجل آپ کی دعا سے انشاء اللہ ہمیں اپنے مقصود تک پہنچائے گا، گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چادر تھی چادر کو کھولا گیا تو آپ نے کپڑا مانگا، آپ نے اس کو بچھانے کا حکم دیا ، پھر لوگوں کو ان کے بچے ہوئے زاد راہ کے ساتھ بلایا ، سو لوگوں میں سے کسی کے پاس کھانے کی ایک مٹھی تھی ، ان میں سے کسی کے پاس انڈوں کی طرح اشیاء تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو کپڑے پر رکھا جائے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برکت کی دعا فرمائی اور جو اللہ نے چاہا کلام پڑھا ،پھر لشکر کو بلایا وہ آئے تو آپ نے حکم دیا کہ خود کھاؤ اور کھلاؤ اور اپنے برتن بھر لو۔ پھر آپ نے ایک پتھر کا پیالہ منگوایا ، پس آپ نے پانی منگوایا اور اس میں اپنا دست مبارک رکھا اور جو اللہ نےچاہا آپ نے پڑھا ، پھر آپ نے اس میں خنصر انگلی رکھی ۔ ( راو حدیث فرماتے ہیں : ) میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے پانی کے چشمے ابلتے ہوئے دیکھے ، پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے پیا اور پلایا اور اپنے برتن بھر لیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے ، یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بلاشبہ حضرت محمد اس کے بندے اور رسول اہیں ، اللہ عزوجل ان دونوں اشیاء کا اقرار کرنے والے کو قیامت کے دن جنت میں داخل کرے گا، چاہے اس سے کوئی بھی گناہ ہو جائے ۔
أَبِي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← الزهري و الأوزاعي ← أبي عبد الله بن العلاء ← إبراهيم بن عبد الله بن العلاء بن زبر الحمصي ← أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 579
