المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ أبو كبير عن الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2728
2727 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ( ح ) وحدثنا عبد الرحمن بن سلم الرازي قالا ثنا عباد بن يعقوب الأسدي ثنا علي بن عابس عن بدر بن الخليل أبي الخليل Y عن أبي كبير قال : كنت جالسا عند الحسن بن علي رضي الله عنه فجاءه رجل فقال : لقد سب عند معاوية عليا رضي الله عنهما سبا قبيحا رجل يقال له معاوية يعني ابن حديج تعرفه ؟ قال : إذا رأيته فائتني به قال : فرآه عند دار عمرو بن حريث فأراه إياه قال : أنت معاوية بن حديج ؟ فسكت فلم يجبه ثلاثا ثم قال : أنت السباب عليا عند ابن آكلة الأكباد أما لئن وردت عليه الحوض وما أراك ترده لتجدنه مشمرا حاسرا ذراعيه يذود الكفار والمنافقين عن حوض رسول الله صلى الله عليه و سلم كما تذاد غريبة الابل عن صاحبها قول الصادق المصدوق أبي القاسم صلى الله عليه و سلم
حضرت ابو کبیر فرماتےہیں کہ میں حضرت حسن بن علی کے پاس تھا ، آ پ کے پاس ایک آدمی آیا، اُس نے کہا: ایک بڑے آدمی نے حضرت امیر معاویہ کے پاس حضرت علی کو گالی دی ہے ، اس کو معاویہ بن حدیج کہا جاتا تھا ، آپ اس کو جانتے ہیں ؟ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جی ہاں ! آپ نے فرمایا: جو تُو اس کو دیکھے تو اس کو میرے پاس لانا۔ حضرت ابو کبیر فرماتے ہیں کہ میں نے عمرو بن حریث کے گھر کے پاس اس کو دیکھا ، میں نے وہ انہیں دکھایا، حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تُو معاویہ بن حدیج ہے ؟ وہ خاموش رہا، تین دفعہ جواب نہیں دیا ۔ پھر حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تو جگر کھانے والے کے بیٹے کے پاس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالیاں نہیں دیں ، اگر تو حوض کوثر پرآیا تو میں تجھے واپس کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوض کو ثر سے منافقوں اور کافروں کو ایسے ہی پیچھے کیا جائے گا، جس طرح جس اونٹ کو کوئی نہ جانتا ہو اس کو پیچھے کیا جاتا ہے ۔ یہ اس نے فرمایا: جو سچ بولتے ہیں اور جن کے سچ کی تصدیق کی گئی ہے۔
أَبِي كَبِيرٍ، ← بدر بن الخليل أبي الخليل ← علي بن عابس ← عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2728
