المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ يزيد بن عبد الله بن قسيط عن أبي رافع · حديث 993
989 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة حدثنا عبد الله بن نمير ثنا موسى بن عبيدة عن يزيد بن عبد الله بن قسيط عن أبي رافع قال Y أضاف رسول الله صلى الله عليه و سلم ضيفا فلم يلق عند النبي صلى الله عليه و سلم ما يصلحه فأرسل إلى رجل من اليهود يقول لك محمد صلى الله عليه و سلم : ( أسلفني دقيقا إلى هلال رجب ) قال : لا إلا برهن فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال : ( أم والله إني لأمين السماء أمين في الأرض ولو أسلفني أو باعني لأديت إليه ) فلما خرجت من عنده نزلت هذه الآية { ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم } إلى آخر الآية لأنه يعزيه عن الدنيا
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہمان نوازی کی ، آپ کے پاس مہمان نوازی کےلیے (بظاہر ورنہ آپ کائنات کے مالک و مختیار ہیں ، باذن خدا و اللہ معطی و انا قاس، اللہ دیتا ہے اور میں تقسیم کرتاہوں ) کچھ نہیں تھا، آپ نے ایک یہودی آدمی کی طرف بھیجا کہ اس کو کہنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو فرماتے ہیں : رجب کی پہلی تک آٹاادھار دے دو۔اُس نے کہا: کسی شے کے بدلے کے بغیر نہیں دوں گا؟ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں آسمان اور زمین والوں کا امین ہوں ، اگر مجھے ادھار دے گا یا مجھے فروخت کرے گا تو میں ضرور اس کو ادا کروں گا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے نکلا تو یہ آیت نازل ہوئی : اے سننے والے ! اپنی آنکھیں نہ پھیلا ، اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لیے دی ہے " آیت کے آخرتک ، کیونکہ وہ آپ کو دنیا سے بلند تر بنا تا ہے ۔
أَبِي رَافِعٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← موسى بن عبيدة ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 993
