المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 255 - حجاج بن علاط السلمي · حديث 3197
3196 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن ثابت البناني Y عن أنس بن مالك قال : لما افتتح رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر قال الحجاج بن علاط : يارسول الله إن لي بمكه مالا وإن لي بها أهلا وإني أريد أن آتيهم فأنا في حل إن أنا نلت منك أو قلت شيئا فأذن له رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقول ما شاء قال : فأتى امرأته حين قدم فقال : اجمعي ما كان عندك فإني أريد أن أشتري من غنائم محمد وأصحابه فإنهم قد استبيحوا وأصيبت أموالهم وفشا ذلك بمكة فانقمع المسلمون وأظهر المشركون فرحا وسرورا قال : وبلغ الخبر العباس بن عبد المطلب فعقر وجعل لا يستطيع أن يقوم ثم أرسل غلاما إلى الحجاج بن علاط : ويلك ماذا جئت به ؟ فما وعد الله عزوجل خير مما جئت به قال : فقال الحجاج : اقرأ على أبي الفضل السلام وقل له فليخل لي في بعض بيوته لآتيه فإن الخبر على ما يسره قال فجاء غلامه فلما بلغ الباب قال : ابشر يا أبا الفضل قال : فوثب العباس فرحا حتى قبل بين عينيه فأخبره ما قال الحجاج فأعتقه قال : ثم جاءه الحجاج فأخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد افتتح خيبر وغنم أموالهم وجرت سهام الله في أموالهم واصطفى رسول الله صلى الله عليه و سلم صفية بنت حيي واتخذها لنفسه وخيرها بين أن يعتقها ويكون زوجها أو تلحق بأهلها فاختارت أن يعتقها وتكون زوجته ولكني جئت لما كان لي ههنها أردت أن أجمعه فأذهب به فاستأذنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأذن لي أن أقول ما شئت فاخف علي ثلاثا ثم أذكر ما بدا لك قال : فجمعت امرأته ما كان عندها من حلي أو متاع فدفعته إليه ثم انشمر به فلما كان بعد أتى العباس امرأة الحجاج فقال : ما فعل زوجك ؟ فأخبرته أنه قد ذهب يوم كذا وكذا وقالت : لا يحزنك الله يا أبا الفضل لقد شق علينا الذي بلغك قال : أجل لا يحزنني الله ولم يكن بحمد الله إلا ما أحببنا فتح الله خيبر على رسوله صلى الله عليه و سلم واصطفى رسول الله صلى الله عليه و سلم صفية لنفسه فإن كان لك حاجة في زوجك فالحقي به قالت : أظنك والله صادقا قال : فإني والله صادق والأمر على ما أخبرتك قال : ثم ذهب حتى أتى مجالس قريش وهم يقولون إذا مر بهم : لا يصيبك إلا خير يا أبا الفضل قال : لم يصبني إلا خير بحمد الله لقد أخبرني الحجاج بن علاط أن خيبر فتحها الله على رسوله صلى الله عليه و سلم وجرت سهام الله واصطفى رسول الله صلى الله عليه و سلم صفية لنفسه وقد سألني أن أخفي عنه ثلاثا وإنما جاء ليأخذ ماله وما كان له من شيء ههنا ثم يذهب فرد الله الكآبة التي كانت بالمسلمين على المشركين وخرج المسلمون من كان دخل بيته مكتئبا حتى أتوا العباس فأخبرهم الخبر فسر المسلمون ورد الله ما كان من كآبة أو غيظ أو حزن على المشركين
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر فتح فرمایا: حجاج بن علاط نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! بے شک مکہ میں میرا مال ہے اور وہاں میرے اہل و عیال ہیں ' میں چاہتا ہوں کہ میں ان کو لے آؤں ' میرے لیے مخصوص اجازت ہونی چاہیے' اگر آپ سے میں کوئی شی پاؤں یا میں کہوں (اگر مجھے کوئی بناوٹی بات کہنی پڑ جائے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسےاجازت دی کہ وہ جو مناسب سمجھیں اپنی زبان سے کہیں ۔ راوی کا بیان ہے: پس وہ اپنی بیوی کے پاس آئے جب مکہ پہنچے ' پس انہوں کہا: جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے اکٹھا کرو کیونکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ کی غنیمتیں خریدنا چاہتا ہوں' کیونکہ انہوں نے اپنے مال مباح کر دئیے ہیں اور انکے مال ' مصیبت کا شکار ہوئے ہیں' یہ بات مکہ میں عام ہو گئی ' جس سے مسلمانوں کو تکلیف ہوئی اور مشرکوں نے خوشیاں منائیں۔ راوی کا بیا ن ہے: یہ خبر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچی تو آپ اس قدر دہشت زدہ ہوئے کہ اُٹھنے کے قابل نہ رہے۔ پھر انہوں نے غلام کو حجاج بن غلاط کی طرف بھیجا (اور کہلا بھیجا) تیرے لیے ہلاکت ہو ! تو کیسی خبر لایا ہے ؟ اور تو کیا کہتا ہے ؟ پس جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے (اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے فرمایا ہے' وہ اس سے کئی درجے بہتر ہے جو تو لایا ہے ۔ راوی کہتا ہے : حجاج نے جواباً کہا: ابو الفضل کو میرا سلام کہہ کر بتا ' کسی الگ کمرے میں ہو کر بیٹھو' میں آکر اصل بات بتاتا ہوں کیونکہ اصل خبر خوش کن ہے۔ راوی کہتا ہے : غلا م آیا' جوں ہی دروازے پر پہنچا تو کہا: اے ابوا لفضل ! خوشخبری ہو ! راوی کہتا ہے : یہ سن کر حضرت عباس خوشی سے جھوم اُٹھے حتی کہ اس غلام کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا' پس اس نے وہ خبر دی جو حجاج نے بتائی تھی تو حضرت عباس نے اپنے اس غلام کو آزاد کر دیا۔ راوی کا بیان ہے : پھر حضرت حجاج ' حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بتانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا ہے ' وہاں کے مال غنیمت کو طور پر حاصل ہو چکے ہیں ' ان کے مالوں میں اللہ حصہ جاری ہو گیا ہے' اسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ بن حیی کو چن کر اپنی ذات کے لیے خاص کیا ہے اور انہیں اختیار دیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں آزاد کر کے اپنی زوجہ محترمہ بنائیں اور اگر وہ چاہیں تو اپنے گھر والوں سے مل جائیں ! تو انہوں نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ آپ انہیں آزاد فرما کر اپنی زوجہ محترمہ بنانے کا شرف عطا فرمائیں'لیکن میں آیا اس خاص مال کیلیے جو میرا یہاں پر تھا' میں نے چاہا کہ اسے اُٹھا کرکے لے جاؤں اور (جو کاروائی میں نے کی ہے) میں اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے کر آیا تھا اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجازت فرمائی کہ میں کہوں جو میں چاہوں ۔ پس اس بات کو صرف تین دن مخفی رکھنا ' اس کے بعد ساری بات کھول دینا۔ راوی کہتا ہے: ان کی زوجہ نے جمع کیں' جو چیزیں اس کے پاس تھیں مثلاً زیور اور سامان ' اس نے حضرت حجاج کے حوالے کر دیں' پھر آپ ان کو لے کر روانہ ہوئے' پس جب تین دن گزر گئے تو حضرت عباس ' حضرت حجاج کی بیوی کے پاس آئے ' فرمایا: تیرے خاوند نے کیا کیا؟ پس اس نے آپ کو خبر دی کہہ وہ (آکر) فلاں فلاں دن کو تشریف لے گئے اور عرض کی: اے ابو الفضل ! اللہ آپ کو کبھی پریشان نہ کرے ! جو بات پہلے آپ تک پہنچی ' اس سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ' انہوں نے فرمایا: ہاں ! دعا ہے اللہ کسی لحاظ سے مجھے پریشانی نہ دے' الحمدللہ ! بات اسی طرح ہے جو ہمیں پسند تھی ' اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خیبر کی فتح عطا فرمائی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کےلیے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پسند کیا ہے' تجھے اگر اپنے خاوند سے کوئی کام ہے تو پیچھے سے جا کر اس سے مل جا۔ اس عورت نے عرض کی: مجھے گمان ہے کہ قسم بخدا ! آپ سچے ہیں' آپ نے فرمایا: قسم بخدا! میں سچا ہوں اور معاملہ بعینہ اسی طرح ہے جس طرح میں نے تجھے خبر دی ہے' پھر آپ پورے وقار سے چلے یہاں تک کہ قریش کی مجلسوں میں آئے جبکہ وہ کہہ رہے تھے جب آپ ان کے پاس سے گزرے : اے ابو الفضل ! آپ کو بھلائی پہنچے ! آپ نے فرمایا: الحمد للہ ! مجھے بھلائی ہی پہنچی ہے ' یقینا ً حجا بن علاط نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں خیبر فتح فرما دیا ہے' اللہ کے حصے ہو چکے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو اپنی ذات کے لیے پسند کیا ہے ' اس نے مجھ سے پرزور مطالبہ کیا کہ تین دن تک میں اس کی بتائی ہوئی بات پوشیدہ رکھوں ' وہ صرف اس لیے آیا تھا کہ وہ مال اور جو چیز اس کی یہاں تھی' وہ لے جائے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے پروہی پریشانی لوٹا دی جو پہلے مسلمانوں کو لاحق تھی ' وہ مسلمان جو انتہائی غم کی حالت طاری ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں داخل ہو چکے تھے' باہر نکل آئے ' حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ی دی ' انہوں نے ایک بار پھر انہیں وہی خبر سنائی جس سے مسلمانوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی ' پہلےمسلمان پریشانی ' غصے اور مصیبت میں مبتلا تھے' لیکن اب مشرکین مکہ کو وہ ساری چیزیں لاحق ہو گئیں۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3197
