المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 296 - الحارث بن سرار الخزاعي · حديث 3396
3395 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن أبي عتاب أبو بكر الأعين ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الله بن الحكيم بن أبي زياد القطواني ( ح ) وحدثنا محمد بن أحمد الحمال الأصبهاني ثنا محمد بن عيسى الزجاج قالوا أنا محمد بن سابق ثنا عيسى بن دينار المؤمن Y حدثني أبي أنه سمع الحارث بن سرار الخزاعي يقول : قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فدعاني إلى الإسلام فدخلت فيه وأقررت به ودعاني إلى الزكاة فأقررت بها فقلت : يا رسول الله أرجع إلى قومي فأدعوهم إلى الإسلام وأداء الزكاة فمن استجاب لي منهم جمعت زكاته فترسل يا رسول الله رسولا لأبان كذا وكذا يأتيك ما جمعت من الزكاة فلما جمع الحارث الزكاة ممن استجاب له وبلع الأبان الذي أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يبعث إليه احتبس عليه الرسول فلم يأته فظن الحارث أنه قد حدث فيه سخط من الله ومن رسوله صلى الله عليه و سلم فدعا سروات قومه فقال لهم : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان وقت لي وقتا يرسل إلي رسوله ليقبض ما كان عندي من الزكاة وليس من رسول الله صلى الله عليه و سلم الخلف ولا أرى حبس رسوله إلا من سخطة كانت فانطلقوا فنأتي رسول الله صلى الله عليه و سلم وبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم الوليد بن عقبة إلى الحارث ليقبض ما كان عنده مما جمع من الزكاة فلما أن سار الوليد حتى بلغ بعض الطريق فرق فرجع فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إن الحارث منعني الزكاة وأراد قتلي فضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم البعث إلى الحارث وأقبل الحارث بأصحابه حتى إذا استقبل البعث وفصل من المدينة لقيهم الحارث قالوا : هذا الحارث فلما غشيهم قال لهم : إلى من بعثتم ؟ قالوا : إليك قال : ولم ؟ قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان بعث الوليد بن عقبة فرجع فزعم أنك منعت الزكاة وأردت قتله فقال : لا والذي بعث محمدا صلى الله عليه و سلم بالحق ما رأيته ولا أتاني وما أقبلت إلا حين احتبس علي رسولا خشية أن يكون سخطة من الله ومن رسوله عليه السلام فنزلت الحجرات ( يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا أن تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين ) إلى هذا المكان ( فضلا من الله ونعمة والله عليم حكيم )
حضرت حارث بن ضرار الخزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا' مجھے آپ نے اسلام کی دعوت دی تو میں اسلام لایا اور میں نے اس کا اقرار کیا' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے زکوٰۃ دینے کی دعوت دی' میں نے اس کا اقرار کیا' میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں اپنی قوم کی طرف واپس جاؤں گا اور انہیں اسلام کی دعوت دوں گا اور زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے کہوں گا ' جنہوں نے میری بات مانی تو میں ان سے زکوٰۃ اکٹھی کروں گا اور یا رسول اللہ ! اپنا نمائندہ فلاں فلاں وقت آپ بھیجیں گے' لے آئے گا جو میں نے جمع کی ہو گی۔ جب میں نے زکوٰۃ جمع کی تو وہ وقت آ پہنچا ' جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجنے کا وعدہ کیا تھا اس کو نمائندہ روک لیا گیا' وہ نہ آیا' میں نے گمان کیا کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی ہو گئی ہے۔ میں نے قوم کے سرداروں کو بلایا' ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وقت مقرر فرمایا تھا' میری طرف آپ جو نمائندہ بھیجیں گے تاکہ زکوٰۃ لے جائے' جو میں نے اکٹھی کی تھی' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ خلافی نہیں ہو سکتی' میرا خیال ہے کہ آپ کے نمائندہ کو روک لیا گیا ہے کسی ناراضگی سے۔ تم چلو ' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جائیں ' ادھر صورت حال یہ بنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو میری طرف بھیجا تاکہ زکوٰۃ لے جائے جو میں نے جمع کی تھی۔ جب ولید کچھ راستہ چلا تو ڈر گیا اور واپس چلا آیا' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا' عرض کی: یا رسول اللہ ! حارث نے مجھے زکوٰۃ نہیں دی اور اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف قافلہ کو بھیجا' ادھر سے میں اپنے ساتھیوں سمیت چلا ' وہ چلے مدینہ کے قریب تھے کہ میں ان کو ملا۔ انہوں نے کہا: یہ حارث ہے! جب انہوں نے گھیرا تو میں نے انہیں کہا: تم کس کی طرف بھیجے گئے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ کی طرف ! کہا: کیوں؟ اس آنے والے نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو آپ کی طرف بھیجا تھاہ وہ واپس گیا اور اس نے گمان کی کہ آپ زکوٰۃ دینے سے انکار کرتے ہیں اور آپ نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ میں نے کہا: میں نے ایسے نہیں کیا' وہ ذات جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ! میں نے انہیں دیکھا نہ میرے پاس آیا ہے' میں خود آ رہا تھا کہ نمائندہ کو روک لیا گیا' اس خوف سے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی نہ ہو۔ حجرات کی آیت نازل ہوئی:" اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لو' کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بے علمی میں کسی قوم کو تکلیف پہنچا دوپھر جو تم نے کیا ہے اس پر ندامت کرو" اس آیت تک: " یہ اللہ کا فضل اور نعمت ہے' اللہ جاننے والا حکمت والا ہے" ۔
الحارث بن سرار الخزاعي ← أَبِي أَنَّهُ ← عيسى بن دينار المؤمن ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الزَّجَّاجُ، ← محمد بن أحمد الحمال الأصبهاني ← عبد الله بن الحكيم بن أبي زياد القطواني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَبُو بَكْرٍ الأَعْيَنُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3396
