المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ ما روى ولد جرير عن جرير منهم المنذر بن جرير عن أبيه · حديث 2373
2372 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عفان بن مسلم ( ح ) وحدثنا أبو مسلم الكشي ثنا سليمان بن حبيب ( ح ) وحدثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا عمرو بن مرزوق ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطيالسي ( ح ) وثنا محمد بن يحيى بن المنذر القزاز ثنا حفص بن عمر الحوضي قالوا ثنا شعبة عن عون بن أبي جحيفة قال سمعت منذر بن جرير يحدث عن أبيه Y قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم في صدر النهار فجاء ناس من الأعراب حفاة عراة مجتابي النمار عليهم السيوف والعباء فقلت : عامتهم من مضر بل كلهم من مضر فرأيت وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم تغير لما رأى بهم فقام فدخل ثم أمر بلال فأذن وأقام ثم خرج فصلى الظهر وخطب : ( { يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة } ) الآية قرأها إلى قوله ( { ولتنظر نفس ما قدمت لغد } ) ( تصدق امرؤ من درهمه تصدق امرؤ من ديناره من صاع تمره من صاع شعيره من كذا من كذا ) حتى ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم شق تمرة فجاء رجل بصرة قد كادت كفه تعجز أو قد عجزت قال : وتتابع الناس حتى رأيت كومين من طعام وثياب فرأيت وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم يتهلل كأنه مذهبة فقال : ( من سن في الإسلام سنة صالحة كان له أجرها وأجر من عمل بها من بعد إلى يوم القيامة لا ينقص من أجورهم شيء ومن سن في الإسلام سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها بعده إلى يوم القيامة لا ينقص من أوزراهم شيء )
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس تھے ، دن کا پہلا پہر تھا، کچھ دیہاتی لوگ آئے ، پاؤں سے ننگے تھے ، ننگے بدن ، صرف کرتے پہنے ہوئے تھے ، چادر نماز، انہوں نے تلواریں اور عبائیں ڈالی ہوئی تھیں، میرا خیال ہے کہ ان میں سے اکثر یا بلکہ سارے کے سارے بنو مضر قبیلہ سے تھے ، پس میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو دیکھا آپ کا چہرہ متغیر ہو چکا تھا۔ جب آپ نے ان کو دیکھا ، پس اپ محفل سے اٹھے ، گھر چلے گئے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی، آپ واپس تشریف لائے ، ظہر کی نماز پڑھائی اور ایک خطبہ دیا : اے لوگو ! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ، اس آیت کو مکمل پڑھا ( سورۃ النساء : 1) دوسری آیت پڑھی : " ہر نفس کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے جو آگے بھیجا " ۔ ایک آدمی نے کچھ درہم صدقہ کیے ، ایک آدمی نے دینار صدقہ کیے ، ایک صار ( ساڑھے چار کلو) کھجور کسی نے اور کسی نے ایک صاع جو کسی نے کوئی چیز ، کسی نے کوئی چیز صدقہ کی ۔ یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کھجور کے آدھے ٹکڑے کا ذکر کیا ( کہ اسے بھی صدقہ کیا جا سکتا ہے ) پس ایک آدمی تھیلی لایا جس کو اٹھانے سے اس کی ہتھیلی عاجز آ گئی تھی ۔ راوی کا بیان ہے : لوگ ایک دوسرے کے پیچھے ، باری بار آتے رہے اور صدقات و خیرات لاتے رہے یہاں تک کہ میں نے اپنے ان دو آنکھوں سے وہ ڈھیر دیکھے ، ایک ڈھیر کھانے کا اور ایک ڈھیر کپڑوں کا۔ پس میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا ہے ، گویا وہ سونے کی ڈلی ہے ، آپ نے فرمایا : جس نے اسلام یں اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کا بھی جو اس کے بعد قیامت تک اس پر عمل کرے گا لیکن ان میں سے کسی کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ( سب کو پورا پورا اجر دیا جائے گا) اور جس نے اسلام میں برا طریقہ رائج کیا، اس پر اس کا بوجھ ہے اور ان کا بھی جو اس کے بعد اس پر قیامت تک عمل کریں ، ان میں سے کسی کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
أَبِيهِ ← مُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2373
