المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 68 - أيمن بن خريم بن فاتك الأسدي · حديث 855
851 - حدثنا بكر بن محمد القزاز البصري حدثنا عبد الله بن أبي يعقوب الكرماني ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا شعبة عن إسماعيل بن أبي خالد عن مطرف فلقيت مطرفا فحدثني عن الشعبي قال Y قال عبد الملك بن مروان لأيمن بن خريم : ألا تقاتل معنا ؟ فقال : إن أبي و عمي شهدا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمراني أن لا أقاتل ثم أنشد يقول : ( ولست بقاتل رجلا يصلي ... على سلطان آخر من قريش ) ( له سلطانه وعلي جرمي ... معاذ الله من فشل وطيش ) ( أأقتل مسلما في غير جرم ... فليس بنافعي ما عشت عيشي )
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کہ عبدالملک بن مروان نے ایمن بن خریم سے کہا: کیا آپ ہمارے ساتھ مل کر نہیں لڑیں گے ؟ حضرت ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میرے والد اور چچا دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے اور ان دونوں نے مجھے حکم دیا کہ میں نے لڑوں پھر یہ اشعار پڑھنے لگے : "میں نمازی آدمی سے نہیں لڑوں گا، قریش سے دوسرے بادشاہ کے خلاف ، یہ جیت بادشاہ کی ہے جرم میرے لیے ، اللہ کی پناہ ! بزدلی سے بھی اور غصے سے بھی ، کیا میں مسلمان کو مار دوں بغیر جرم کے ، میرے لیے نفع مند نہیں ہے جب تک میں زندہ ہوں"۔
عبد الملك بن مروان لأيمن بن خريم ألا تقاتل معنا ← الشَّعْبِيِّ، ← مطرف فلقيت مطرفا ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← عبد الله بن أبي يعقوب الكرماني ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 855
