المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 186 - جندب بن ناجية · حديث 1728
1727 - حدثنا عبد الله بن محمد بن شعيب الرجاني ثنا محمد بن معمر البحراني ثنا عبيد الله بن موسى ثنا موسى بن عبيدة عن عبد الله شيخ من أسلم عن جندب بن ناجية أو ناجية بن جندب Y قال : لما كنا بالغميم لقي رسول الله صلى الله عليه و سلم خبر من قريش أنها بعثت خالد بن الوليد في جريدة خيل يتلقى رسول الله صلى الله عليه و سلم فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يلقاه وكان بهم رحيما فقال : ( من رجل يعدل لنا عن الطريق ؟ ) فقلت : أنا : بأبي أنت فأخذهم في طريق قد كان بها جربا فدافد وعقاب فاستوت بنا الأرض حتى أنزله على الحديبية وهي نزح فأكفأ فيها سهما أو سهمه من كنانته ثم بصق فيها ثم دعا فغارت عيونها حتى أني لأقول أو نقول لو شئنا لاغترفنا بأيدينا
حضرت جندب بن ناجیہ بن جندب فرماتے ہیں کہ ہم مقام غمیم میں تھے ،جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قریش کی خبر پہنچی کہ انہوں نے خالد بن ولید کو گھوڑ ے کے لشکر میں بھیجا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے کے لیے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ملنے کو نا پسند کیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت شفقت کرنے والے تھے،آپ نے فرمایا :کون آدمی ہم کو راستے دکھائے گا؟میں نے عرض کی :میں ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہوں ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم راستہ پر چل دیے ،وہاں ایک تھیلہ اور عقاب تھا ،ہمارے لیے زمین کو برابر کیا ،ابھرے ہوئے حصہ پر اترا ،وہاں سے پانی کھینچا ایک حصہ کنانہ سے ،پھر آپ نے لعاب دہن اس میں ڈالا اور دعا کی تو اس سے چشمے نکلے یہاں تک کہ میں نے کہا :اگر ہم چاہتے تو ہم اپنے ہاتھوں سے چلو بھر لیتے ۔
جُنْدُبِ بْنِ نَاجِيَةَ أَوْ نَاجِيَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← عبد الله شيخ من أسلم ← موسى بن عبيدة ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ← عبد الله بن محمد بن شعيب الرجاني
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1728
