المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ 118 - بشير بن الخصاصية السدوسي · حديث 1231
1230 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا الحجاج ابن المنهال ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم ( ح ) وحدثنا محمد بن محمد التمار ثنا سهل بن بكار قالوا ثنا الأسود بن شيبان ثنا خالد بن سمير ثنا بشير بن نهيك عن بشير بن الخصاصية Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان اسمه في الجاهلية زحما فهاجر فسماه رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيرا قال : بينما أنا أماشي رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ قال لي : ( يا ابن الخصاصية ما أصبحت تنقم على الله ؟ ) قال : ما أصبحت أنقم على الله من شيء كل خير صنع بي قال : ثم أتى على قبور المسلمين فقال : ( لقد أدرك هؤلاء خيرا كثيرا ) قالها ثلاث مرات ثم أتى على قبور المشركين فقال : ( لقد فات هؤلاء خيرا كثيرا ) قالها ثلاث مرات ثم حانت من رسول الله صلى الله عليه و سلم نظرة فإذا رجل يمشي على القبور عليه نعلان فناداه النبي صلى الله عليه و سلم : ( يا صاحب السبتيتين اخلع نعليك ) فنظر الرجل فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم فخلع الرجل نعليه فرمى بهما واللفظ لحديث مسلم
ان کا نصب بشیر بن معبد بن شراحیل بن سبع بن صبار سدوسی ہے' آپکا نام جاہلیت میں زحم تھا 'حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا ۔حضرت بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا نام جاہلیت میں زحم تھا 'میں نے ہجرت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرانام بشیر رکھا' میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ اچانک آپ نے مجھے فرمایا: اے ابن خصاصیہ ! تم نے اللہ پر عیب لگاتے ہوئے صبح کی؟ میں نے عرض کی: میں نے کبھی بھی اللہ پر عیب لگاتے ہوئے کوئی صبح نہیں کی' سب بہتر تھا جو بھی میرے اللہ نے مجھ سے سلوک کیا' پھر آپ مسلمانوں کے قبرستان میں آئے اور فرمایا: ان سب نے بھلائی پائی ہے' یہ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس آئے اور فرمایا: ان تمام نے بہت زیادہ بھلائی گم کی ہے'یہ بھی تین مرتبہ فرمایا: پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تو ایک آدمی جوتے پہن کر قبروں کے اوپر چل رہا تھا' حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آواز دی: اے جوتوں والے! اپنے جوتے اتارو۔ اس آدمی نےدیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے ' اس نے اپنے جوتے اتارے اور ان دونوں کو پھینک دیا۔ یہ الفاظ مسلم کی حدیث کے ہیں۔
بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ التَّمَّارُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← الحجاج ابن المنهال ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1231
